بہار شریعت

اونٹ کی زکوۃ کے متعلق مسائل

اونٹ کی زکوۃ کے متعلق مسائل

صحیحین میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں پانچ اونٹ سے کم میں زکوۃ نہیں اور اس کی زکوۃ میں تفصیل صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں ہے جو انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے۔

مسئلہ۱: پانچ اونٹ سے کم میں زکوۃ واجب نہیں اور جب پانچ سے زیادہ ہوں مگر پچیس سے کم ہوں تو ہر پانچ میں ایک بکری واجب ہے یعنی پانچ ہوں تو ایک بکری، دس ہوں تو دو وعلی ھذا القیاس ۔(عامہ کتب، عالمگیری ج ۱ ص ۱۷۷)

مسئلہ۲: زکوۃ میں جو بکری دی جائے وہ سال بھر سے کم کی نہ ہو، بکری دیں یا بکرا اس کا اختیار ہے۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۲۲ وغیرہ)

مسئلہ۳: دو نصابوں کے درمیان میں جوہوں وہ عفو ہیں یعنی ان کی کچھ زکوۃ نہیں مثلاً سات آٹھ ہوں جب بھی وہی ایک بکری ہے۔ (درمختار ج ۲ ص ۲۲)

مسئلہ۴: پچیس (۲۵) اونٹ ہوں تو ایک بنت مخاض یعنی اونٹ کا بچہ مادہ جو ایک سال کا ہو چکا دوسرے برس میں ہو ۔ پینتیس (۳۵) تک یہی حکم ہے یعنی بنت مخاض دیں گے چھتیس (۳۶) سے پینتالیس (۴۵) تک ایک بنت لبون یعنی اونٹ کا مادہ بچہ جو دو سال کا ہو چکا اور تیسرے برس میں ہے۔ چھیالیس (۴۶) سے ساٹھ (۶۰) تک میں حقہ یعنی اونٹنی جو تین برس کی ہو چکی چوتھی میں ہو اکسٹھ (۶۱) سے پچھتر (۷۵) تک میں جذعہ یعنی چار سال کی اونٹنی جو پانچویں میں ہو۔ چھہتر (۷۶) سے نوے (۹۰) تک میں دو بنت لبون۔ اکانوے (۹۱) سے ایک سو بیس (۱۲۰) تک میں دو حقہ۔ اس کے بعد ایک سو پینتالیس (۱۴۵) سے اور ہر پانچ میں ایک بکری مثلاً ایک سو پچیس (۱۲۵) میں دو حقہ ایک بکری اور ایک سو تیس (۱۳۰) میں دو حقہ دو بکریاں وعلی ہذا القیاس پھر ایک سو بچاس (۱۵۰) میں تین حقہ اگر اس سے زیادہ ہوں تو ان میں ویسا ہی کریں جیسا شروع میں کیا تھا یعنی ہر پانچ میں ایک بکری اور پچیس (۲۵) میں بنت مخاض چھتیس (۳۶) میں بنت لبون یہ ایک سو چھیاسی (۱۸۶) بلکہ ایک سو پچانوے (۱۹۵) تک کا حکم ہو گیا یعنی اتنے میں تین حقہ اور ایک بنت لبون پھر ایک سو چھیانوے (۱۹۶)سے دو سو تک حقہ اور یہ بھی اختیار ہے کہ پانچ بنت لبون دے دیں ۔ پھر دو سو کے بعد وہی طریقہ برتیں جو ایک سو پچاس کے بعد ہے یعنی ہر پانچ میں ایک بکری پچیس (۲۵) میں بنت مخاض چھتیس (۳۶) میں بنت لبون پھر دو سو چھیالیس (۲۴۶) سے دو سو پچاس (۲۵۰) تک پانچ حقہ وعلی ہذا القیاس (عامہ کتب، درمختار ج ۲ ص۲۲،۲۳)۔

مسئلہ۵: اونٹ کی زکوۃ میں جس موقع پر ایک یا دو یا تین یا چار سال کا اونٹ کا بچہ دیا جاتا ہے تو ضرور ہے کہ وہ مادہ ہو، نر دیں تو مادہ کی قیمت کا ہو ورنہ نہیں لیا جائے گا۔ (درمختار ج ۲ ص ۲۳)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button