بہار شریعت

ان چیزوں کے متعلق مسائل جن سے روزہ نہیں جاتا

ان چیزوں کے متعلق مسائل جن سے روزہ نہیں جاتا

حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جس روزہ دارنے بھول کر کھایا یا پیا وہ اپنے روزہ کو پورا کرے کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا۔

حدیث ۲: ابودائود و ترمذی و ابن ماجہ و دارمی ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس پر قے نے غلبہ کیا اس پر قضا نہیں اور جس نے قصداً قے کی اس پر روزہ قضا ہے۔

حدیث ۳: ترمذی انس رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ ایک شخص نے خدمت اقدس ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کی میری آنکھ میں مرض ہے کیا روزہ کی حالت میں سرمہ لگائوں فرمایا ہاں ۔

حدیث ۴: ترمذی ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں روزہ نہیں توڑتیں پچھنا اور قے اور احتلام ۔

تنبیہ: اس باب میں ان چیزوں کے متعلق مسائل ہے جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ رہا یہ امر کہ ان سے روزہ مکروہ بھی ہوتا ہے یا نہیں اس سے اس باب کو تعلق نہیں نہ یہ کہ وہ فعل جائز ہے یا ناجائز۔

مسئلہ ۱: بھول کر کھایا یا پیا یا جماع کیا روزہ فاسد نہ ہوا۔ خواہ وہ روزہ فرض ہو یا نفل اورروزہ کی نیت سے پہلے یہ چیزیں پائی گئیں یا بعد میں مگر جب یاد دلانے پر بھی یاد نہ آیا کہ روزہ دار ہے تو اب فاسد ہو جائے گا بشرطیکہ یاد دلانے کے بعد یہ افعال واقع ہوئے ہوں مگراس صورت میں کفارہ لازم نہیں ۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۳۳)

مسئلہ ۲: کسی روزہ دارکو ان افعال میں دیکھے تو یاد دلانا واجب ہے یاد نہ دلایا تو گنہگار ہوا مگر جب روزہ دار بہت کمزور ہو کہ یاد دلائے گا تو وہ کھانا چھوڑ دے گا اور کمزوری اتنی بڑھ جائے گی کہ روزہ رکھنا دشوار ہو گا اور کھا لے گا تو روزہ بھی اچھی طرح پورا کر لے گا اور دیگر عبادتیں بھی بخوبی ادا کر لے گا تو اس صورت میں یاد نہ دلانا بہتر ہے بعض مشائخ نے کہا جو ان کو دیکھے تو یاد دلادے اور بوڑھے کو دیکھے تو یاد نہ دلانے میں حرج نہیں مگر یہ حکم اکثر کے لحاظ سے ہے کہ جوان اکثر قوی ہوتے ہیں اور بوڑھے اکثر کمزور اور دراصل حکم یہ ہے کہ جوانی اور بڑھاپے کو کوئی دخل نہیں بلکہ قوت و ضعف کا لحاظ ہے لہذا اگر جوان اس قدر کمزور ہو تو یاد نہ دلانے میں حرج نہیں اوربوڑھا قوی ہو تو یاد دلانا واجب۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۳۳)

مسئلہ۳: مکھی یا دھواں یا غبارحلق میں جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ خواہ وہ غبار آٹے کا ہو کہ چکی پیسنے یا آٹا چھاننے میں اڑتا ہے یا غلہ کا غبار ہو یا ہوا سے خاک اڑی یاجانوروں کے کھریا ٹاپ سے غبار اڑ کر حلق میں پہنچا اگرچہ روزہ دار ہونا یاد تھا اور اگر قصداً دھواں پہنچایا توفاسد ہو گئی جب کہ روزہ دار ہونا یاد ہو خواہ وہ کسی چیز کا دھواں ہو اور کسی طرح پہنچایا ہو یہاں تک کہ اگربتی وغیرہ کی خوشبو سلگتی تھی اس نے منہ قریب کر کے دھوئیں کو ناک سے کھینچا روزہ جاتا رہا یونہی حقہ پینے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے اگر روزہ یاد ہو اور حقہ پینے والا اگر پئے گا تو کفارہ بھی لازم آئے گا۔ (درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۳۴،۱۳۳)

مسئلہ ۴: بھری سنگی لگوائی یا تیل یا سرمہ لگایا تو روزہ نہ گیا اگرچہ تیل یا سرمہ کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو بلکہ تھوک میں سرمہ کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہو جب بھی نہیں ٹوٹا۔ (جوہرہ نیرہ، شامی ج ۲ ص ۱۳۳)

مسئلہ ۵: بوسہ لیا انزال نہ ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹایونہی عورت کی طرف بلکہ اس کی شرم گاہ کی طرف نظر کی مگر ہاتھ نہ لگایا اور انزال ہو گیا اگرچہ بار بار نظر کرنے یا جماع وغیرہ کے خیال کرنے سے انزال ہوا اگرچہ دیر تک خیال جمانے سے ایسا ہوا ان سب صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹا۔ (جوہرہ، درمختار ج ۲ ص ۱۳۴)

مسئلہ ۶: غسل کیاس اور پانی کی خنکی اندر محسو س ہوئی یا کلی کی اور پانی بالکل پھینک دیا صرف کچھ تری منہ میں باقی رہ گئی تھی تھوک کے ساتھ اسے نگل گیا یا دوا کوٹی اور حلق میں اس کا مزہ محسوس ہوا یا ہڑچوسی اور تھوک نگل گیا تھوک کے ساتھ ہڑ کا کوئی جز حلق میں نہ پہنچا یا کان میں پانی چلا گیا یا تنکے سے کان کھجایا اور اس پر کان کا میل لگ گیا پھر وہی میل لگا ہوا تنکا کان میں ڈالا اگرچہ چند بار کیا ہو یا دانت یا منہ میں خفیف چیز بے معلوم سی رہ گئی کہ لعاب کے ساتھ خود ہی اتر جائے گی اور وہ اتر گئی یا دانتوں سے خون نکل کر حلق تک پہنچا مگر حلق سے نیچے نہ اترا تو ان سب صورتوں میں روزہ نہ گیا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۳۴ فتح القدیر)

مسئلہ ۷: روزہ دار کے پیٹ میں کسی نے نیزہ یا تیر بھونک دیا اگرچہ اس کی پھال یا پیکان پیٹ کے اندر چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹا اور اگر خود اس نے یہ سب کیا اور پھال یا پیکان یا کنکری اندر رہ گئی تو جاتا رہا۔ (درمختار ، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۳۵)

مسئلہ ۸: بات کرنے میں تھوک سے ہونٹ تر ہو گئے اور اسے پی گیا یا منہ سے رال ٹپکی مگر تار ٹوٹا نہ تھا کہ اسے چڑھا کہ پی گیا یا ناک میں رینٹھ آگئی بلکہ ناک سے باہر ہو گئی مگر منقطع نہ ہوئی تھی کہ اسے چڑھا کر نگل گیا یا کھنکار منہ میں آیا اور کھا گیا اگرچہ کتنا ہی ہو روزہ نہ جائے گا مگر ان باتوں سے احیتاط چاہیئے۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۲۰۳، درمختار، ردالمحتار ج ۲ ص ۱۳۸)

مسئلہ ۹: مکھی حلق میں چلی گئی روزہ نہ گیا اور قصداً نگلی تو جاتا رہا۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۲۰۳)

مسئلہ ۱۰: بھولے سے جماع کر رہا تھا یاد آتے ہی الگ ہو گیا یا صبح صادق سے پیشتر جماع میں مشغول تھا صبح ہوتے ہی جدا ہو گیاروزہ نہ گیا اگرچہ دونوں صورتوں میں جدا ہونے کے بعد انزال ہو گیا ہو اگرچہ دونوں صورتوں میں جدا ہونا یاد آنے اور صبح ہونے پر ہوا کہ جدا ہونے کی حرکت جماع نہیں اور اگر یاد آنے یا صبح ہونے پر فوراً الگ نہ ہوا اگرچہ صرف ٹھہر گیا اور حرکت نہ کی روزہ جاتا رہا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۳۵)

مسئلہ ۱۱: بھولے سے کھانا کھا رہا تھا یاد آتے ہی فوراً لقمہ پھینک دیا یا صبح صادق سے پہلے کھا رہا تھا اور صبح ہوتے ہی اگل دیا روزہ نہ گیا اور نگل لیا تو دونوں صورتوں میں جاتا رہا۔ (عالمگیری ج ۲ ص ۲۰۴)

مسئلہ ۱۲: غیر سبیلین میں جماع کیا تو جب تک انزال نہ ہو روزہ نہ ٹوٹیگا یونہی ہاتھ سے منی نکالنے سے اگرچہ سخت حرام ہے کہ حدیث میں اسے ملعون فرمایا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۳۶)

مسئلہ ۱۳: چوپایہ یا مردہ سے جماع کیا اورانزال نہ ہوا تو روزہ نہ گیا اورانزال ہوا تو جاتا رہا۔ جانور کا بوسہ لیا یا اس کی فرج کو چھؤا تو روزہ نہ گیا اگرچہ انزال ہو گیا۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۳۷)

مسئلہ ۱۴: احتلام ہوا یا غیبت کی تو روزہ نہ گیا، اگرچہ غیبت سخت کبیرہ گناہ ہے قرآن مجید میں غیبت کرنے کی نسبت فرمایا جیسے اپنے مردہ بھائی کو گوشت کھانا اور حدیث میں فرمایا غیبت زنا سے بھی سخت تر ہے۔ اگرچہ غیبت کی وجہ سے روزہ کی نورانیت جاتی رہتی ہے۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۳۸ وغیرہ)

مسئلہ ۱۵: جنابت کی حالت میں صبح کی بلکہ اگرچہ سارے دن جنب رہا روزہ نہ گیا مگر اتنی دیر تک قصداً غسل نہ کرنا کہ نماز قضا ہو جائے گناہ و حرام ہے حدیث میں فرمایا کہ جنب جس گھر میں ہو اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ (درمختار ج ۲ ص ۱۳۸ وغیرہ)

مسئلہ ۱۶: جن یا پری سے جماع کیا تو جب تک انزال نہ ہو روزہ نہ ٹوٹے گا۔ (ردالمحتار ج ۲ ص ۱۴۷) یعنی جب کہ انسانی شکل میں نہ ہو اور انسانی شکل میں ہو تو وہی حکم ہے جو انسان سے جماع کرنے کا ہے ۔

مسئلہ ۱۷: تل یا تل کے برابر کوئی چیز چبائی اور تھوک کے ساتھ حلق سے اتر گئی تو روزہ نہ گیا مگر جب کہ اس کا مزہ حلق میں محسوس ہوتا ہو تو روزہ جاتا رہا۔ (فتح القدیر)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button