بہار شریعت

ان حقوق کے متعلق مسائل جن کا تعلق میت کے ترکہ سے ہے

ان حقوق کے متعلق مسائل جن کا تعلق میت کے ترکہ سے ہے

مسئلہ ۱ : جب کوئی مسلمان اس دار فانی سے کوچ کر جائے تو شرعاً اس کے ترکہ سے کچھ احکام متعلق ہوتے ہیں ۔ یہ احکام چار ہیں :۔

(۱) اس کے چھوڑے ہوئے مال سے اس کی تجہیز و تکفین مناسب انداز میں کی جائے ۔ (محیط بحوالہ عالمگیری ص ۴۴۷) اس کا تفصیلی بیان اس کتاب کے حصہ چہارم میں موجود ہے۔

متعلقہ مضامین

(۲) پھر جو مال بچا ہو اس سے میت کے قرضے چکائے جائیں ۔ قرض کی ادائیگی وصیت پر مقدم ہے کیونکہ قرض فرض ہے جب کہ وصیت کرنا ایک نفلی کام ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے قرض وصیت سے پہلے ادا کرایا۔ ( ابن ماجہ ، دارقطنی و بیہقی)

مسئلہ ۲ : قرض سے مراد وہ قرض ہے جو بندوں کا ہو۔ اس کی ادائیگی وصیت پر مقد م ہے۔

مسئلہ ۳ : اگر میت نے کچھ نمازوں کے فدیہ کی وصیت کی یا روزوں کے فدیہ کی یا کفارہ کی یا حج بدل کی تو تمام چیزیں ادائیگی قرض کے بعد ایک تہائی مال سے ادا کی جائیں گی۔ اور اگر بالغ ورثاء اجازت دیں تو تہائی سے زیادہ مال سے بھی ادا کی جاسکتی ہیں ۔

وصیت : ادائیگی قرض کے بعد وصیت کا نمبر آتا ہے۔ قرض کے بعد جو مال بچا ہو اس کے تہائی سے وصیتیں پوری کی جائیں گی۔ ہاں اگر سب ورثہ بالغ ہوں اور سب کے سب تہائی مال سے زائد سے وصیت پوری کرنے کی اجازت دے دیں تو جائز ہے۔ (خانیہ بحوالہ عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۷)

میراث: وصیت کے بعد جو مال بچا ہو اس کی تقسیم درج ذیل ترتیب کے ساتھ عمل میں آئے گی۔

(۱) ان وارثوں میں تقسیم ہو گا جو قرآن حدیث یا اجماع امت کی رو سے اصحاب فرائض (مقررہ حصوں والے ہیں )

اگر اصحاب فرائض بالکل نہ ہوں یا ان کے بعد بھی جو کچھ مال بچا ہو تو درج ذیل وارثوں میں علی الترتیب تقسیم ہو گا۔

(۲) عصبات نسبیہ (۳) عصبات سببیہ (یعنی آزاد کردہ غلام کا آقا) (۴) عصبۂ سببی کا نسبہ عصبہ پھر سببی عصبہ (۵) ذوی الفروض انسبیہ کو ان کے حقوق کی مقدار میں دوبارہ دیا جائے گا۔ (۶) ذوی الارحام (۷) مولی الموالاۃ (۸) پھر وہ شخص جس کے نسب کا مرنے والے نے کسی دوسرے پر اس طرح اقرار کیا ہو کہ اس کا نسب اس کے اقرار کی وجہ سے ثابت نہ ہو سکا یعنی جس پر نسب کا اقرار کیا ہو اس نے تصدیق نہ کی ہو بشرطیکہ اقرار کنندہ اپنے اقرار پر مرا ہو۔ مثلاً مرنے والے نے ایک شخص کے بارے میں یہ اقرار کیا کہ یہ میرا بھائی ہے اب اس اقرار کا مفہوم یہ ہوا کہ اس شخص کا نسب میرے باپ سے ثابت ہے اور باپ اس کو اپنا بیٹا تسلیم نہیں کرتا ہے۔ (۹) پھر جو بچا ہو وہ اس شخص کو دیا جائے جس کے لئے میت نے کل مال کی وصیت کی تھی۔ (۱۰) اور پھر بھی بچے تو بیت المال میں جمع ہو گا۔ (عالمگیری ج ۶ ص ۴۴۷) اس زمانے میں بیت المال کا نظام نہیں ہے اس لئے صدقہ کر دیا جائے۔

واضح رہے کہ یہ دس قسم کے وارث ہیں ان کی تفصیلات آئیں گی۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button