احادیث قدسیہ

اللہ تعالی کی عبادت میں اخلاص

اس مضمون میں اللہ تعالی کی عبادت میں اخلاص کے متعلق حدیث قدسی بیان کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی ہے۔

اس مضمون میں اللہ تعالی کی عبادت میں اخلاص کے متعلق حدیث قدسی بیان کی جائے گی۔ آپ کی آسانی کے لئے اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی ہے۔

اللہ تعالی کی عبادت میں اخلاص کے متعلق حدیث قدسی:

عَنْ أبيِ أُمَامَةَ رَضِيَ الله عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ الله صلى الله عليه وسلم: قَال الله تَعَالَى: أحَبُّ مَا تَعَبَّدَنِي بِهِ عَبْدِي إليَّ النُّصْحُ لِي

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی  نے ارشادفرمایا :

اپنے بندے کی عبادات میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب اس کا اخلاص ہے

حدیث قدسی کی تشریح:

ذیل میں اللہ تعالی کی عبادت میں اخلاص کے متعلق حدیث قدسی کی آسان الفاظ میں پوائنٹس کی صورت میں تشریح اور مسائل بیان کئے جا رہے ہیں۔

  1. اخلاص کا معنی ہے عبادت میں شرک اور ریاکاری کی بالکل آمیزش نہ ہو۔
  2. اللہ تعالی نے اخلاص کا حکم ارشاد فرمایا ہے:”اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ “بےشک ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری تو اللہ کی عبادت کروخالص اسی کے بندے ہوکر۔ (الزمر: 2-3)
  3. مومن ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ تعالی کے ساتھ مخلص ہو۔ ”اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا“ ترجمہ: اگرتم کوئی بھلائی عَلانیہ کرو یا چھپ کر یا کسی کی برائی سے درگزر کروتوبے شک اللہ معاف کرنے والاقدرت والا ہے۔ (النساء : 146)
  4. اللہ تعالی نے اپنے مخلص بندوں کے لیے کیسا عالی شان انعام تیار فرمایا ہے ۔قرآن پاک میں ہے: وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ(۴۰) اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ(۴۱) فَوَاكِهُۚ-وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ(۴۲) فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ(۴۳) عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ(۴۴) یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ(۴۵) بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ(۴۶) لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ(۴۷) وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ(۴۸) كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ ترجمہ: تو تمہیں بدلہ نہ ملے گا مگر اپنے کئے کا مگر جو اللہ کے چنے ہوئے بندے ہیں  ان کے لیے وہ روزی ہے جو ہمارے علم میں ہےمیوے اور ان کی عزت ہوگی ۔چین کے باغوں میں تختوں پر ہوں گے آمنے سامنےان پر دورہ ہوگا نگاہ کے سامنے بہتی شراب کے جام کا سفید رنگ دینے والوں کے لیے لذت نہ اس میں خُمار ہے اور نہ اس سے ان کا سر پھرے اور ان کے پاس ہیں جو شوہروں کے سوا دوسری طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں گی  بڑی آنکھوں والیاںگویا وہ انڈے ہیں۔ (الصافات: 39-49)
  5. اللہ تعالی کو اخلاص اتنا پسند ہے کہ انسان کیسا ہی نافرمان اور گناہ گار ہو اور یہ بھی علم ہو کہ اگر اس کی خواہش پوری ہو گئی تو پھر اس نے نافرمانی کرنی ہے ، پھر بھی اگر اللہ تعالی سے اخلاص کے ساتھ دعا مانگے تو اللہ تعالی اس کی دعا قبول فرما لیتا ہے۔”فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَﳛ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَ“ترجمہ: پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں اللہ کو پکارتے ہیں ایک اسی پر عقیدہ لاکر پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے  جبھی شرک کرنے لگتے ہیں (العنکبوت: 65)
  6. جو شخص اللہ تعالی کے ساتھ مخلص ہوتا ہے اللہ تعالی اسے شیطان کے بہکاوے سے محفوظ رکھتا ہے۔”قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ“ترجمہ: بولا اے رب میرے قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں انہیں زمین میں بِھلاوے دوں گا اور ضرور میں ان سب کو بے راہ کردوں گامگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔ (الحجر: 39-40)

حدیث شریف کا حوالہ:

مسند احمد بن حنبل، حديث أبي أمامة الباهلى الصدى بن عجلان بن عمرو بن وهب الباهلى عن النبي ، جلد36، صفحہ529، حدیث نمبر22191، موسسۃ الرسالۃ، بیروت

حدیث شریف کا حکم:

اس حدیث شریف کی سند حسن ہے۔ ملا علی قاری اس حدیث شریف کے متعلق فرماتے ہیں:” رواہ حمد بسند حسن“

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button