احادیث قدسیہ

اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا اعزار

اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والے کے اعزار کے متعلق حدیث قدسی کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح

اس مضمون میں اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والے کے اعزار کے متعلق حدیث قدسی بیان کی جائے گی۔ آپ کی آسانی کے لئے اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی ہے۔

اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے اعزار کے متعلق حدیث قدسی:

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ الله صلى الله عليه وسلم "قَال الله تَعَالَى: أيُّمَا عَبدٍ منْ عِبَادي يَخْرُجُ مُجَاهدًا في سَبيْلي ابْتغَاءَ مرضَاتِي ضَمِنْتُ لَهُ أن أُرْجِعَهُ إِن أرْجَعْتُهُ بِمَا أصَابَ مِنْ أجْرٍ أوْ غَنِيْمَةٍ وإنْ قَبَضْتُهُ أنْ أغْفِرَ لَهُ وَأرحَمَهُ وَأُدْخِلَهُ الجَنَّةَ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی  نے ارشادفرمایا :

جب میرا کوئی بندہ میری خوشنودی کے لیے میرے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اور میں اسے گھر تک لوٹا دوں تواسےثواب یا مال غنیمت کے ساتھ لوٹانے کی میں ضمانت لیتا ہوں اور اگر میں اس کی روح قبض کر لوں تو اسے معاف کرنے، اس پر رحم کرنے اور اسے جنت میں داخل کرنے کی میں ضمانت لیتا ہوں۔

حدیث قدسی کی تشریح:

ذیل میں اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے والے کے اعزار و اکرام کے متعلق حدیث قدسی کی آسان الفاظ میں پوائنٹس کی صورت میں تشریح اور مسائل بیان کئے جا رہے ہیں۔

  1. اللہ تعالی نے ہر مسلمان کو جہاد کرنےاور کافروں کو سختی دکھانے کا حکم ارشاد فرمایا ہے:”یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةًؕ“ ترجمہ: اے ایمان والو! جہاد کرو ان کافروں سے جو تمہارے قریب ہیںاور چاہیے کہ وہ تم میں سختی پائیں۔ (التوبہ: 123)

بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:” یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ“ ترجمہ: اے غیب بتانے والے (نبی)!  کافروں پر اور منافقوں پر  جہاد کرو اور ان پر سختی فرماؤ ۔ (التحریم: 9)

  1. جو بندہ سچے دل سے ایمان لے آئے وہ جہاد سے پیچھے نہیں رہ سکتا کیونکہ اس کا جان و مال اب اللہ تعالی کے حکم کے مطابق استعمال ہو گا:”اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ-یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ“ترجمہ: بےشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خریدلیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے  اللہ کی راہ میں لڑیں تو ماریں اور مریں۔ (التوبہ: 111)
  2. اس امت کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے لیے مال غنیمت کو حلال فرما دیا ہے اور وعدہ فرمایا ہے کہ وہ مسلمانوں کو بہت سارا مال غنیمت عطا فرمائے گا۔وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ ترجمہ: اور اللہ نے تم سے وعدہ کیا ہے بہت سی غنیمتوں کا کہ تم لو گے تو تمہیں یہ جلد عطا فرمادی ۔ (الفتح: 20)
  3. جو اللہ تعالی کی راہ میں شہید ہو جائے اللہ تعالی اس کے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل فرمادے گا اور اسےجنت عدن عطا فرمائے گا۔”اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓىٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا“ترجمہ: مگر جو توبہ کرے  اور ایمان لائےاور اچھا کام کرےتو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا  اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔  (الفرقان: 70)”یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ“ ترجمہ: وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور پاکیزہ محلوں میں جو بسنے کے باغوں میں ہیں،یہی بڑی کامیابی ہے۔  (الصف: 10-12)

حدیث شریف کا حوالہ:

مسند احمد بن حنبل، مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله عنهما ، جلد10، صفحہ186، حدیث نمبر5977، موسسۃ الرسالۃ، بیروت

حدیث شریف کا حکم:

اس حدیث شریف کی سند صحیح ہے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”رواہ احمد بسند صحیح“

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button