احادیث قدسیہ

اللہ تعالی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنا

اللہ تعالی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے کے متعلق حدیث قدسی کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح

اس مضمون میں اللہ تعالی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے کے متعلق حدیث قدسی بیان کی جائے گی۔ آپ کی آسانی کے لئے اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی ہے۔

اللہ تعالی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے کے متعلق حدیث قدسی:

عَنْ مُعَاذٍ رَضي الله عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ الله صلى الله عليه وسلم: "قَال الله تَعَالَى: المُتَحَابُّونَ فِي جَلاَلِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِن نُوْرٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی  نے ارشادفرمایا :

میرے جلال کے سبب آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے (قیامت کے دن)  نور کے مینار ہوں گےجن پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے۔

حدیث قدسی کی تشریح:

ذیل میں اللہ تعالی کی خاطر محبت کرنے کے متعلق حدیث قدسی کی آسان الفاظ میں پوائنٹس کی صورت میں تشریح اور مسائل بیان کئے جا رہے ہیں۔

  1. رشک اور حسد دو مختلف چیزیں ہیں رشک سے مراد ہے کہ وہ نعمت اس کے پاس بھی رہے اور اللہ تعالی مجھے بھی عطا فرما دے جبکہ حسد کا معنی ہے کہ اس سے نعمت چھن جائے اور یرے پاس آ جائے۔

     2: رشک کرنا جائز جبکہ حسد کرنا جائز نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی نے حسد سے پناہ ماگنے کا حکم فرمایا ہے:” مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ“ ترجمہ: اس کی سب مخلوق کے شر سے۔ (الفلق: 5)

حدیث شریف کا حوالہ:

1:مسند احمد بن حنبل، حدیث معاذ بن جبل رضي الله عنه ، جلد36، صفحہ399، حدیث نمبر22080، موسسۃ الرسالۃ، بیروت

2:سنن الترمذی، ابواب الزھد، باب ما جاء في الحب في الله، جلد4، صفحہ597، حدیث نمبر2390، مطبعة مصطفى البابي الحلبي ، مصر

حدیث شریف کا حکم:

اس حدیث شریف کی سند صحیح ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں:” هذا حديث حسن صحيح”

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button