احادیث قدسیہ

اللہ تعالی کو مخلوق کا خیال

اللہ تعالی کو مخلوق کے خیال کے متعلق حدیث قدسی کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح

اس مضمون میں اللہ تعالی کو مخلوق کے خیال کے متعلق حدیث قدسی بیان کی جائے گی۔ آپ کی آسانی کے لئے اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی ہے۔

اللہ تعالی کو مخلوق کے خیال کے متعلق حدیث قدسی:

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضي الله عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ الله  صلى الله عليه وسلم قَال: "قَالَ اللهُ تَعَالَى: أنَا الرَّحْمَنُ أنَا خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا اسْمًا مِن اسمِي فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُه وَمَنْ قَطْعَهَا قَطَعْتُهُ

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی  نے ارشادفرمایا :

میں رحمن ہوں میں نے رحم کو پیدا کیا ہے اور اس کا نام اپنے نام سے نکالا ہےلہذا جو اس کو جوڑے گامیں اسے جوڑوں گا اور جو اسے کاٹے گا میں اسے کاٹ دوں گا۔

حدیث قدسی کی تشریح:

ذیل میں اللہ تعالی کو مخلوق کے خیال کے متعلق حدیث قدسی کی آسان الفاظ میں پوائنٹس کی صورت میں تشریح اور مسائل بیان کئے جا رہے ہیں۔

  1. رحمن اللہ تعالی کا صفاتی نام ہے اور یہ نام اللہ تعالی کے ساتھ ہی خاص ہے۔اللہ تعالی نے اسے اپنے ذاتی نام کے ساتھ ذکر فرمایا:”قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَؕ“ ترجمہ: تم فرماؤ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر۔( الاسراء: 110)
  2. رحمن کا معنی ہے ”وہ ذات جس کی رحمت وسیع اور مومن اور کافر سب پر ہو۔ “
  3. ”رحم“ سے مراد ہے رشتہ دار چاہے وہ قریبی ہوں یا دور کے۔
  4. ” اس کا نام اپنے نام سے نکالا ہے“ سے مراد ہے کہ صلہ رحمی کرنا اللہ تعالی کی سنت پر عمل کرنا ہے۔
  5. اللہ تعالی رحمن ہے اور صلہ رحمی پسند فرماتا ہے۔”وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ“ ترجمہ:اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیااور اپنے رب سے ڈرتے اور حساب کی برائی سے اندیشہ رکھتے ہیں۔ ( رعد: 21)

بلکہ قیامت کے دن صلہ رحمی  کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا۔”وَاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَالۡاَرْحَامَ“

  1. صلہ رحمی نہ کرنے والے کو اللہ تعالی نے بہرہ اور اندھا فرمایا ہے۔
  2. جو جتنے بڑے منصب پر ہو اس کے لیے اپنے سے متعلقہ افراد کے ساتھ صلہ رحمی کرنا اتنی ہی ضروری ہو گا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:”فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا“ ترجمہ: تو کیا تمہارے یہ لچھن(انداز) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دویہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور اُنہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں  یا بعضے دلوں پر اُن کے قفل لگے ہیں۔ (محمد: 22-24)

تمام رشتہ داروں اور متعلقہ افراد کے ساتھ صلہ رحمی کرنی چاہیے لیکن قریبی رشتہ داروں کا حق پہلے اور زیادہ ہے۔”وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ“ ترجمہ: اور رشتہ والے ایک سے دوسرے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کی کتاب میں ۔  ( الانفال: 75)

حدیث شریف کا حوالہ:

1:مسند احمد بن حنبل، حديث عبد الرحمن بن عوف الزهري رضي الله عنه ، جلد3، صفحہ216، حدیث نمبر 1686، موسسۃ الرسالۃ، بیروت

2:سنن الترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ما جاء في قطيعة الرحم ، جلد4، صفحہ 315، حدیث نمبر1907، مطبعة مصطفى البابي الحلبي ، مصر

حدیث شریف کا حکم:

اس حدیث شریف کی سند صحیح ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں:” حديث صحيح “

۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button