احادیث قدسیہ

اللہ تعالی کا پسندیدہ عمل کون سا ہے؟

اللہ تعالی کا پسندیدہ عمل کے متعلق حدیث قدسی کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح

اس مضمون میں اللہ تعالی کا پسندیدہ عمل کے متعلق حدیث قدسی بیان کی جائے گی۔ آپ کی آسانی کے لئے اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی ہے۔

اللہ تعالی کا پسندیدہ عمل کے متعلق حدیث قدسی:

عَنْ أبِي هُرَيرةَ رَضي الله عَنْهُ عَنْ رَسُوْلَ الله صلى الله عليه وسلم: "قَال الله تَعَالَى أَحَبُّ عِبَادِي إليَّ أعْجَلُهُمْ فِطْرًا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی  نے ارشادفرمایا :

میرا پسندیدہ بندہ وہ ہے جو روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتا ہے۔

حدیث قدسی کی تشریح:

ذیل میں اللہ تعالی کا پسندیدہ عمل کے متعلق حدیث قدسی کی آسان الفاظ میں پوائنٹس کی صورت میں تشریح اور مسائل بیان کئے جا رہے ہیں۔

  1. اللہ تعالی پسند فرماتا ہے کہ بندہ اللہ تعالی سے محبت کرتا ہو اور ایسے اعمال کرے جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالی کو محبوب ہو جائے۔”یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ“ترجمہ: اے ایمان والو تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا تو عنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا۔ (المائدہ: 54)
  2. جب افطار کے وقت کا یقین ہو جائے اس کے بعد روزہ کھولنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
  3. جب تک سورج غروب ہونے کا یقین نہ ہو اس وقت تک روزہ افطار کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ”ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِۚ“ ترجمہ: پھر رات آنے تک روزے پورے کرو۔ (البقرۃ: 187)

 کیونکہ اگر سورج غروب نہ ہوا تو روزہ ٹوٹ سکتا ہے۔

حدیث شریف کا حوالہ:

1: مسند احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ رضي الله عنه ، جلد2، صفحہ237، حدیث نمبر 7240، موسسۃ الرسالۃ، بیروت

2:سنن الترمذی، ابواب الصوم، باب ما جاء في تعجيل الإفطار، جلد3، صفحہ744، حدیث نمبر701، مطبعة مصطفى البابي الحلبي ، مصر

حدیث شریف کا حکم:

اس حدیث شریف کی سند حسن ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں:” هذا حديث حسن غريب”

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button