احادیث قدسیہ

اللہ تعالی کا بندے سے تعلق

اللہ تعالی کا بندے سے تعلق کے متعلق حدیث قدسی کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح

اس مضمون میں اللہ تعالی کا بندے سے تعلق کے بارے میں حدیث قدسی بیان کی جائے گی۔ آپ کی آسانی کے لئے اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح کی گئی ہے۔

اللہ تعالی کا بندے سے تعلق کے متعلق حدیث قدسی:

عَن أبي هُرَيرةَ رَضِي الله عَنْهُ قَال: قَالَ رَسُولُ الله  صلى الله عليه وسلم: "إنَّ الله تَعَالَى يَقُوْلُ يَوْمَ القِيَامَةِ. يَا ابنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْني قَال يَارَبِّ! كيفَ أعُوْدُكَ وَأنْتَ رَبُّ العَالَمِيْنَ. قَال أمَا عَلِمْتَ أنَّ عَبْدِي فُلاَنًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ أمَا عَلِمْتَ أنَّكَ لَو عُدْتَهُ لَوَجَدتَنِي عِنْدَهُ؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي قَال يَارَبِّ! كَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأنْتَ رَبُّ العَالَمِيْنَ؟ قَال أمَّا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلاَنٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ أمَا عَلِمْت أَنَّكَ لَو أطعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي؟ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَم تَسْقِني قَال يَارَب! كَيْفَ أسْقِيْكَ وَأنتَ رَبُّ العَالَمِيْن قَال اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلاَنٌ فَلَم تَسْقِهِ أمَا عَلِمْتَ أنَكَ لَوْ سَقَيْتَهُ لَوَجَدتَ ذَلِكَ عِنْدَي

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی  نے ارشادفرمایا :

اللہ تعالی قیامت کے دن فرمائے گا:”اے ابن آدم!میں مریض تھا لیکن تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی!“ بندہ عرض کرے گا:”اے اللہ! تُو تو رب العالمین ہے(بیماری سے پاک ہے) میں  تیری بیمار پرسی کیسے کرتا؟“ اللہ عزوجل فرمائے گا:”کیا تجھے پتا نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے؟ لیکن پھر بھی تو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی،  کیا تجھے یہ بھی پتا نہیں تھا کہ اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا؟“

اللہ تعالی فرمائے گا:”اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا!“ بندہ عرض کرے گا:”اے میرے رب! تو تو رب العالمین ہے (کھانے سے پاک ہے) میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا؟“ اللہ تعالی فرمائے گا:” کیا تجھے یاد نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا ؟ لیکن پھر بھی تو نے اس کو کھانا نہیں دیا ،  کیا تجھے یہ بھی پتا نہیں تھا کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا؟“

اللہ تعالی فرمائے گا:”اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا!“ بندہ عرض کرے گا:”اے میرے رب! تو تو رب العالمین ہے (پینے سے پاک ہے) میں تجھے کیسے پانی پلاتا؟“ اللہ تعالی فرمائے گا:” کیا تجھے یاد نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا ؟ لیکن پھر بھی تو نے اس کو پانی  نہیں پلایا ،  کیا تجھے یہ بھی پتا نہیں تھا کہ اگر تو اس کو پانی پلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا؟

حدیث قدسی کی تشریح:

یہاں اللہ تعالی کا بندے سے تعلق کے متعلق حدیث قدسی کی آسان الفاظ میں پوائنٹس کی صورت میں تشریح اور مسائل بیان کئے گئے ہیں۔

  1. اللہ تعالی بیمار نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ عیب ہے اور اللہ تعالی ہر عیب سے پاک ہے۔
  2. اللہ تعالی کی رحمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے آزمائش میں مبتلاانسان کو”میرا بندہ“ اور اس کی تکلیف کو اپنی تکلیف فرمایا۔ انسان صرف اس پہلو پر غور کر لے تو آزمائش آزمائش نہیں رہتی۔
  3. یعنی بندہ مومن بیماری کی حالت میں اللہ تعالی کے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ اس کے پاس آنا گویا رب کے پاس آنا ہی ہے۔
  4. ”مجھے اس کے پاس پاتا“ اس سے مراد یہ ہے کہ ”اس کی عیادت کے ذریعےتجھے میرا قرب حاصل ہوتا“ کیونکہ اللہ تعالی جہت اور مکان سے پاک ہے:”لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ(۱۱)“ ترجمہ: اس جیسا کوئی نہیں اور وہی سُنتا دیکھتا ہے۔

یہ فرمان ایسے ہی سے جیسے اللہ تعالی فرماتا ہے: ”وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْؕ“ ترجمہ:  اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم کہیں ہو۔

حدیث شریف کا حوالہ:

1:صحیح مسلم، كتاب البر والصلة والآداب، باب فضل عيادة المريض، جلد4، صفحہ1990، حدیث نمبر2569، دار إحياء التراث العربي ، بيروت

حدیث شریف کا حکم:

اس حدیث شریف کی سند صحیح ہے۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button