احادیث قدسیہ

الله تعالی كی بندے سے گفتگو

الله تعالی كی بندے سے گفتگو کے متعلق اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح بھی کی گئی ہے۔

اس مضمون میں الله تعالی كی بندے سے گفتگو کے متعلق حدیث قدسی بیان کی جائے گی۔ آپ کی آسانی کے لئے اعراب کے ساتھ عربی میں حدیث شریف کا متن، آسان اردو میں حدیث کا ترجمہ اور قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں باحوالہ مختصر تشریح بھی کی گئی ہے۔

الله تعالی كی بندے سے گفتگو کے متعلق حدیث قدسی:

عَن أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ  صلى الله عليه وسلم قَالَ: "قَالَ اللهُ تَعَالىٰ: قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِيْ وَبَيْنَ عَبْدِيْ نِصْفَيْنِ وَلِعَبْدِيْ مَا سَأَلَ فإِذا قَالَ العَبْدُ: الحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْنَ قَالَ اللهُ: حَمِدَنِيْ عَبْدِيْ فإِذَا قَالَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ: قَالَ اللهُ أثنَى عَليَّ عَبْدِي فإِذا قَالَ مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ قَالَ مَجَّدَنِي عَبْدِي فإِذا قَالَ إِيّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ قَالَ هَذا بَيْني وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِيَ مَا سَأل فإِذا قَالَ اهْدِنَا الصِّرَاط المُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ المَغْضُوْبِ عَلَيْهِمِ وَلاَ الضَّالِّيْنَ قَال هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِيَ مَا سَأل

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا ہے  اور(پھر مزید اس نماز کی وجہ سے ) میں اپنے بندے کو وہ بھی عطا کروں گا جس کا وہ سوال کرےگا۔

جب بندہ  (نماز میں)” الحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْنَ “،کہتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے:”میرے بندے نے میری تعریف کی۔“ جب ” الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ “کہتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے:”میرے بندے نے میری ثنا بیان کی۔“جب ” مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ “کہتا ہے تو اللہ تعالے فرماتا ہے :”میرے بندے نے میری عظمت و بزرگی بیان کی۔“ جب ” إِيّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ “کہتا ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے :” یہ میرے اور میرے کا معاملہ ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جس کا اس نے سوال کیا۔“ جب ”اهْدِنَا الصِّرَاط المُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ المَغْضُوْبِ عَلَيْهِمِ وَلاَ الضَّالِّيْنَ“ کہتا ہے تو اللہ تعالے فرماتا ہے :”میں نے اپنے بندے کو یہ بھی عطا کیا اور وہ بھی جس کا اس نے سوال کیا۔

حدیث قدسی کی تشریح:

یہاں الله تعالی كی بندے سے گفتگو کے متعلق حدیث قدسی کی آسان الفاظ میں پوائنٹس کی صورت میں تشریح اور مسائل بیان کئے گئے ہیں۔

  1. نماز میں پہلے حمد و ثنا اور پھر دعا سے معلوم ہوا کہ دعا سے پہلے نیک اعمال کرنے چاہئیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:”يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا نَاجَيْتُـمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً“ ترجمہ:اے ایمان والو! جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ دے لیا کرو۔ (مجادلہ: 12)
  2. اللہ تعالی کی رحمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بندے کے ذرا سے لب ہلانے سے اللہ تعالی اس کا جواب دیتا ہے اور فرشتوں کی مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہے۔
  3. اگرچہ اللہ تعالی ہر چیز کا علم رکھتا ہے لیکن اللہ تعالی کو اپنے بندوں کا سوال کرنا پسند ہے اور دعا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:”وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِـىٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ“ترجمہ:اور تمہارے رب نے فرمایا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔(مومن: 60) مزید فرماتا ہے:” اُجِيْبُ دَعْوَةَ الـدَّاعِ اِذَا دَعَانِ“ ترجمہ: دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔“ (البقرۃ: 186)
  4. جب انسان کا دل سخت ہو جائے تو وہ اللہ تعالی سے دعا نہیں مانگتا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ”فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ“ ترجمہ: تو کیوں نہ ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو گڑگڑائے ہوتے لیکن ان کے تو دل سخت ہوگئے (انعام،43)
  5. جو شخص تکبر کرتے ہوئے اللہ تعالی سے دعا نہ مانگے اللہ تعالی اسے جہنم میں داخل فرمائے گا۔ فرمان الہی ہے:”وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ"ترجمہ:اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ (مومن 60)
  6. ہدایت کی دعا میں سب کو شامل کیا گیا اس سے معلوم ہوا کہ اپنے لیے دعا مانگتے ہوئے دوسروں کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالی نے بھی اس کا حکم ارشاد فرمایا ہے:”وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنبِکَ وَ لِلْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ“ترجمہ: اے محبوب اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔(محمد: 19)

حدیث شریف کا حوالہ:

1: صحیح مسلم، کتاب الصلوۃ، باب وجوب قراءة الفاتحة في كل ركعة، جلد1، صفحہ295، حدیث نمبر395، دار إحياء التراث العربي ، بيروت

2: سنن الترمذی، ابواب تفسیر القران، باب من سورۃ فاتحۃ الکتاب، جلد5، صفحہ 201، حدیث نمبر2953، مطبعة مصطفى البابي الحلبي ، مصر

حدیث شریف کا حکم:

فن حدیث کی رو سے اس حدیث شریف کی سند صحیح ہے۔ امام ترمذی نے اسے حسن فرمایا ہے۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button