بہار شریعت

اقرار نسب

اقرار نسب

مسئلہ ۱: اگر کسی نے ایک شخص کے بھائی ہونے کا اقرار کیا یعنی یہ کہا کہ یہ میرا بھائی ہے اگرچہ یہ غیر ثابت النسب ہو اگرچہ یہ بھی تصدیق کرتا ہو مگر نسب ثابت نہیں یعنی اس کے باپ کا بیٹا نہیں قرار پائے گا اسکا صرف اتنا اثر ہو گا کہ مقر کا اگر دوسرا وارث نہ ہو تو یہ وارث ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۲: مرد اتنے لوگوں کا اقرار کر سکتا ہے۔ (۱) اولاد (۲) والدین (۳) زوجہ۔ یعنی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ میری بی بی ہے بشرطیکہ وہ عورت شوہر والی نہ ہو نہ وہ اپنے شوہر کی عدت میں ہو اور نہ اس کی بہن مقر کی زوجہ ہو یا اسکی عدت میں ہو اور اس کے سوا اس کے نکاح میں چار عورتیں نہ ہوں ۔ (۴)مولی یعنی مولائے عتاقہ یعنی اس نے اسے آزاد کیا ہے یا اس نے اسے آزادکیا ہے بشرطیکہ اس کی ولا کا ثبوت غیر مقر سے نہ ہو چکا ہو۔ عورت بھی والدین اور زوج اورمولی کاا قرار کر سکتی ہے اور اولاد کا اقرار کرنے میں شرط یہ ہے کہ اگر شوہر والی ہو یا معتدہ تو ایک عورت ولادت و تعیین ولدکی شہادت دے یا زوج خود اس کی تصدیق کرے اور اگر نہ شوہر والی ہے نہ معتدہ تو اولاد کا اقرار کر سکتی ہے۔ یا شوہر والی ہو مگر کہتی ہے اس سے بچہ نہیں ہے دوسرے سے ہے بیٹے کا اقرار صحیح ہونے میں یہ شرط ہے کہ لڑکا اتنی عمر کا ہو کہ اتنی عمر والا مقر کا لڑکا ہو سکتا ہو اور وہ لڑکا ثابت النسب نہ ہو اور باپ کے اقرار میں بھی یہ شرط ہے کہ بلحاظ عمر مقر اس کا لڑکا ہو سکتا ہے اور یہ مقر ثابت النسب نہ ہو۔ ان تمام اقراروں میں دوسرے کی تصدیق شرط ہے مثلاً یہ کہتا ہے فلاں میرا باپ ہے اور اس نے انکار کر دیا تو اقرار سے نسب ثابت نہ ہوا۔ اولاد کا اقرار کیا اور وہ چھوٹا بچہ ہے کہ اپنے کو بتا نہیں سکتا کہ میں کون ہوں اس میں تصدیق کی کچھ ضرورت نہیں اور اگر غلام دوسرے کا غلام ہے تو اسکے مولی کی تصدیق ضروری ہے۔ (بحر ، درمختار ، عالمگیری)

مسئلہ۳: ان مذکورین کے متعلق اقرار صحیح نہ ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس اقرار کی وجہ سے مقر یا مقرلہ یا کسی اور پر جو کچھ حقوق لازم ہوں گے ان کا اعتبار ہو گا مثلاً یہ اقرار کیا کہ فلاں میرا بیٹا ہے تو یہ مقرلہ اس شخص کا وارث

ہو گا جیسے دوسرے وارث ورثہ ہیں اگرچہ دوسرے ورثہ اس کے نسب سے انکار کرتے ہوں اور یہ مقرلہ اس مقر کے باپ کو (جو مقرلہ کا دادا ہوا) وارث ہو گا اگرچہ مقر کے باپ اس کے نسب سے انکار کرتا ہو اور اقرار صحیح نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اقرار کی وجہ سے غیر مقر و مقرلہ پر جو حقوق لازم ہوں گے ان کا اعتبار نہ ہو گااور خود ان پر جو حقوق لازم ہوں گے ان کا اعتبار ہو گا مثلاً کہا کہ فلاں شخص میرا بھائی ہے اور مقر کے دوسرے ورثہ اس کے بھائی ہونے سے انکار کرتے ہیں اور مقر مر گیا مقرلہ ان ورثہ کے ساتھ وارث نہ ہو گا۔ یونہی مقر کے باپ کا بھی وہ وارث نہ ہو گا جبکہ اس کا باپ اس کے نسب سے منکر ہو مگر جب تک مقر زندہ ہے اس کا نفقہ اس پر واجب ہو سکتا ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۴: ایک غلام کا زمانہ ٔ صحت میں مالک ہوا اور زمانہ ٔ مرض میں یہ اقرار کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے اور اس کی عمر بھی اتنی ہے کہ اس کا بیٹا ہو سکتا ہے اور اس کا نسب بھی معروف نہیں ہے وہ غلام اس مقر کا بیٹا ہو جائے گا اورآزاد ہو جائے گا اور مقر کا وارث ہو گا اور اسے سعایت بھی نہیں کرنی ہو گی اگرچہ مقرکے پاس اس کے سوا کوئی مال نہ ہو اگرچہ اس پر اتنا دین ہو کہ اس کے رقبہ کو محیط ہو اور اگر اس غلام کی ماں بھی زمانہ ٔ صحت میں اس کی ملک ہے تو اس پر بھی سعایت نہیں ہے اور اگر مرض میں غلام کا مالک ہوا اور نسب کا اقرار کیا جب بھی آزاد ہو جائے گا اور نسب ثابت ہو جائے گا۔ (عالمگیری)

مسئلہ۵: مقر کے مرنے کے بعد بھی مقرلہ کی تصدیق صحیح و معتبر ہے مثلاً اقرار کیا تھا کہ یہ میرا لڑکا ہے اور مقر کے مرنے کے بعد مقرلہ نے تصدیق کی یہ تصدیق صحیح ہے مگر عورت نے زوجیت کا اقرار کیا تھا اس کے مرنے کے بعد شوہر تصدیق کرے یہ تصدیق بیکار ہے کہ عور ت کے مرنے کے بعد نکاح کا سارا سلسلہ ہی منقطع ہو گیا۔ (درمختار)

مسئلہ۶: نسب کا اس طرح اقرار جس کا بوجھ دوسرے پر پڑے اس دوسرے کے حق میں صحیح نہیں مثلاً کہا فلاں میرا بھائی ہے چچا ہے دادا ہے پوتا ہے کہ بھائی کہنے کے معنی یہ ہوئے وہ اس کے باپ کا بیٹا ہوا اس اقرار کا اثر باپ پر پڑا اسی طرح سب میں یہ اقرار دوسرے کے حق میں نا معتبر مگر خود مقر کے حق میں یہ اقرار صحیح ہے اور جو کچھ احکام ہیں وہ اس کے ذمہ لازم ہیں جب کہ دونوں اس بات پر متفق ہوں یعنی جس طرح یہ اس کو بھائی کہتا ہے وہ بھی کہتا ہے اگرچہ یہ چچا بتاتا ہے تو وہ بھتیجا بتاتا ہے۔ نفقہ و حضانت و میراث سب احکام جاری ہوں گے یعنی اگر مقر کا کوئی دوسرا وارث نہیں نہ قریب کا نہ دور کا یعنی ذوی الارحام اور مولے الموالاۃ بھی نہیں تو مقرلہ وارث ہو گا ورنہ وارث نہیں ہو گا کہ خود اس کا نسب ثابت نہیں ہے پھر وارث ثابت کے ساتھ مزاحمت نہیں کر سکتا وارث ثابت سے مراد غیر زوجین ہیں کیونکہ ان کا وجود مقرلہ کو میراث ملنے سے نہیں روک سکتا۔ (درمختار)

مسئلہ ۷: اس صورت میں کہ تحمیل نسب غیر پر ہو مقر اپنے اقرار سے رجوع کر سکتا ہے اگرچہ مقرلہ نے بھی اسکی تصدیق کر لی ہو مثلاً بھائی ہونے کا اقرار کیا اور اس نے تصدیق کر دی اس کے بعد اقرار سے رجوع کر کے سارے مال کی وصیت کسی اور شخص کے لئے کر دی اب مقرلہ نہیں پائے گا بلکہ کل مال موصی لہ کو ملے گا۔ (بحرالرائق)

مسئلہ ۸: جس شخص کا باپ مر گیا اس نے کسی کی نسبت یہ اقرار کیا کہ یہ میرا بھائی ہے تو اگرچہ مقرلہ کا نسب ثابت نہیں ہو گا مگر مقر کے حصہ میں وہ برابر شریک ہو گا اور اگر کسی عورت کو اس نے بہن کہا ہے تو وہ اس کے حصہ میں ایک تہائی کی حقدار ہو جائے گی ۔ (بحر)

مسئلہ ۹: ایک شخص مر گیا اس نے ایک پھوپھی چھوڑی اس پھوپھی نے یہ اقرار کیا کہ میرا جو بھتیجا مر گیا ہے فلاں شخص اس کا بھائی یا چچا ہے تو اس پھوپھی کو کچھ ترکہ نہیں ملے گا بلکہ کل مال اسی مقرلہ کو ملے گا کیونکہ جو عورت صورت مذکورہ میں وارث تھی اس نے اپنے سے مقدم دوسرے کو وارث قرار دیا۔ (ردالمحتار)

مسائل متفرقہ

مسئلہ ۱۰: اقرار اگرچہ حجت قاصرہ ہے کہ اس کا اثر صرف مقر پر پڑتا ہے دوسرے پر نہیں ہوتا مگر بعض صورتیں ایسی ہیں کہ اقرار سے دوسرے کو بھی نقصان پہنچ جاتا ہے۔ (۱) حرۂ مکلفہ نے دوسرے کو دین کا اقرارکیا مگر اس کا شوہر تکذیب کرتا ہے کہتا ہے کہ جھوٹ کہتی ہے عورت کا اقرار شوہر کے حق میں بھی صحیح ہے یعنی اس اقرار کا اثر اگر شوہر پر پڑے اور اس کو ضرر ہو جب بھی صحیح مانا جائے گا مثلاً اگرادا نہ کرنے کی وجہ سے عورت کو قید کرنے کی ضرورت ہو گی قید کی جائے گی اگرچہ اس میں شوہر کا ضرر ہے۔ (۲) یونہی اگر موجر نے دین کا اقرار کیا جس کی ادائیگی کی کوئی صورت معلوم نہیں ہوتی سوا اس کے جو چیز کرایہ پر دی ہے بیع کر دی جائے اس کا بیچنا جائز ہے اگرچہ مستاجر کو ضرر ہے۔ (۳) مجہولۃ النسب عورت نے اقرار کیا کہ میں اپنے شوہر کے باپ کی بیٹی ہوں اور شوہر کے باپ نے بھی اسکی تصدیق کر دی نکاح فسخ ہو گیا۔ (۴) عورت نے باندی ہونے کا اقرار کیا اس اقرار کے بعد شوہر نے اسے دو طلاقیں دیں بائن ہو گئیں شوہر کو رجعت کرنے کا حق نہیں ہے۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۱: عورت مجہولۃ النسب نے اپنے کنیز ہونے کا اقرار کیا کہ میں فلاں شخص کی لونڈی ہوں اور اس شخص مقرلہ نے بھی اسکی تصدیق کی وہ عورت شوہر والی ہے اور اس شوہر سے اولادیں بھی ہیں شوہر نے عورت کی تکذیب کی اس صورت میں خاص عورت کے حق میں اقرار صحیح ہے لہذا اس اقرار کے بعد عورت کے جو بچے ہوں گے وہ رقیق ہوں گے اور شوہر کے حق میں اقرار صحیح نہیں لہذا نکاح باطل نہیں ہو گا اور اولاد کے حق میں بھی اقرار

صحیح نہیں لہذا وہ پہلے کی سب اولادیں آزاد ہیں بلکہ وقت اقرار میں جو پیٹ میں بچہ موجود تھا وہ بھی آزاد۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۲: مجہول النسب نے اپنے غلام کو آزاد کیا اس کے بعد یہ اقرار کیا کہ میں فلاں کا غلام ہوں اور اس مقرلہ نے بھی تصدیق کی یہ اقرار فقط اس کی ذات کے حق میں صحیح ہے غلام کو جو آزاد کر چکا ہے یہ عتق باطل نہیں ہو گا۔ اور وہ آزاد کردہ غلام مرجائے اور کوئی وارث ہو جو پورے ترکہ کو لے سکتا ہے تو وہ لے گا اور ایسا وارث نہ ہو تو اگر بالکل وارث نہ ہو توکل ترکہ مقرلہ لے گا اور اگر وارث ہے مگر پورے ترکہ کو نہیں لے سکتا تو اس کے لینے کے بعد جو کچھ بچا وہ مقرلہ لے گا۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۳: ایک شخص نے دوسرے سے کہا تمہارے ذمہ میرے ہزار روپے ہیں دوسرے نے کہا ٹھیک ہے یا سچ ہے یا یقیناً ہے یہ اس بات کا جواب ہے یعنی اس نے اس کے ہزار روپے کا اقرار کر لیا۔ (درر، غرر) اسی طرح اگر کہا بجا ہے درست ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۴: اپنی کنیز سے کہا اے چوٹٹی اے زانیہ اے پاگل یا کہا اس چوٹٹی نے ایسا کیا پھر اس کنیز کو بیچا خریدار نے ان عیوب میں سے کوئی عیب پایا اور اسے پتہ چل گیا کہ بائع نے کسی موقع پر ایسا کہا تھا تو وہ قول عیب کا اقرار قرار دے کہ لونڈی کو واپس نہیں کر سکتا کہ وہ الفاظ ندا ہیں یا گالی ان سے مقصود یہ نہیں کہ وہ ایسی ہی ہے اور اگر مالک نے یہ کہا کہ یہ چوٹٹی ہے یا زانیہ ہے یا پاگل ہے تو مشتری واپس کر سکتا ہے کہ یہ اقرار ہے۔ (درر ، غرر) اکثر گائوں والے یا تانگے والے جانوروں کو ایسے عیوب کے ساتھ پکارتے ہیں جن کی وجہ سے ان کو واپس کیا جا سکتا ہے وہاں بھی وہی صورت ہے کہ اگر ان الفاظ سے گالی دینا مقصود ہو تاہے یا پکارنا مقصود ہوتا ہے تو عیب کا اقرار نہیں اور اگر خبر دینا مقصود ہوتا ہے تو اقرار ہے اور مشتری واپس کر سکتا ہے۔

مسئلہ ۱۵: مقر نے اقرار کیا اور مقر لہ نے کہہ دیا یہ جھوٹا ہے تو وہ اقرار باطل ہو گیا کیونکہ مقرلہ کے رد کر دینے سے اقرار رد ہو جاتا ہے مگر چند ایسے افراد ہیں کہ رد کرنے سے نہیں ہوتے۔ (۱) غلام کی حریت کا اقرار یعنی اس کے پاس غلام ہے جس کی نسبت یہ اقرار کیا کہ یہ آزاد ہے غلام کہتا ہے میں آزاد نہیں ہوں اب بھی وہ آزاد ہے۔ (۲) نسب یعنی کسی شخص کی نسبت کہا یہ میرا بیٹا ہے اس نے کہا اس کا بیٹا نہیں ہوں وہ اقرار رد نہیں ہوا یعنی اس کے بعد بھی اگر کہہ دے گا کہ میں اس کابیٹا ہوں نسب ثابت ہو جائے گا۔ (۳) وقف مثلاً ایک شخص کے پاس زمین ہے اس نے کہا یہ زمین ان دونوں آدمیوں پر وقف ہے ان کے بعد انکی اولاد ونسل پر ہمیشہ کے لئے اور ان میں کوئی نہ رہے تو مساکین پر ان دونوں میں سے ایک نے تصدیق کی اور ایک نے تکذیب اس صورت میں نصف آمدنی تصدیق کرنے والے کوملے گی اور نصف مساکین کو اس کے بعد اس منکر نے انکار سے رجوع کرکے تصدیق کی تو اس کے حصہ کی آدھی آمدنی اسے ملنے لگے گی۔ (۴) طلاق (۵) عتاق (۶) میراث یعنی ایک شخص

کے لئے وراثت کا اقرار کیا تھا اس نے تکذیب کر دی ا س کے بعد اگر تصدیق کرے گا وراثت کا مستحق ہو جائے گا۔ (۷) رقیت ایک شخص نے اقرار کیا کہ میں تیرا غلام ہوں اس نے کہا غلط ہے پھر تصدیق کر کے اسے غلام بنا سکتا ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۶: جو کچھ ترکہ وصی کے ہاتھ میں تھا وہ سب میت کی اولاد کو وصی نے دیدیا اور اس نے یہ کہہ دیا کہ میں نے کل ترکہ وصول پایا میرے والد کے ترکہ میں کوئی چیز ایسی نہیں رہ گئی ہے جس کو میں نے پا نہ لیا ہو اس کے بعد پھر وصی پر کسی چیز کے متعلق دعوی کیا کہ یہ میرے باپ کا ترکہ ہے اور اس کو گواہوں سے ثابت کیا یہ دعوی سنا جائے گا۔ یونہی اگر وارث نے یہ کہہ دیا کہ میرے والد کا جن لوگوں پر مطالبہ تھا سب میں نے وصول پایا اس کے بعد اس شخص پر دعوی کیا کہ میرے والد کا اس پر اتنا دین ہے یہ دعوی سنا جائے گا۔ یونہی وصی سے کسی وارث نے صلح کر لی یعنی ترکہ میں اتنی چیزیں ہیں ان میں سے اتنی چیزیں مجھے دی جائیں اور اس کے بعد میرا کوئی حق ترکہ باقی نہیں رہے گا اس صلح کے بعد وصی کے ہاتھ میں ایک ایسی چیز دیکھی جو صلح کے وقت ظاہر نہیں کی گئی تھی اس میں بقدر اپنے حصہ کے دعوی کر سکتا ہے۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۷: دخول کے بعد یہ ا قرار کیا کہ میں نے اس عورت کو دخول سے قبل طلاق دے دی تھی پورا مہر دخول کی وجہ سے اس کے ذمہ ہے اور نصف مہر اس اقرار کی وجہ سے ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۱۸: وقف کی آمدنی جس کے لئے تھی وہ کہتا ہے اس آمدنی کا مستحق فلاں شخص ہے میں نہیں ہوں یہ اقرار صحیح ہے یعنی اس کو آمدنی اب نہیں ملے گی اگرچہ وقف نامہ میں اسی کے لئے ہے مگر یہ بات اسی تک محدود ہے اس کے مرنے کے بعد حسب شرائط وقف نامہ اسکی اولاد پر تقسیم ہو گی۔ (درمختار ، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۹: یہ اقرار کیا کہ ہم نے فلاں کے ہزار روپے غصب کئے پھر یہ کہتا ہے ہم دس شخص تھے اور مالک یہ کہتا ہے کہ تنہا یہی تھا اسی کو پورے ہزار روپے دینے ہوں گے کیونکہ یہ لفظ (ہم) ایک کے لئے بھی بولا جاتا ہے ہاں اگر یہ کہتا کہ ہم سب نے اس کے ہزار روپے غصب کئے اور پھر کہتا ہے کہ ہم دس شخص تھے تو بیشک اس سے ایک ہی سو لیا جاتا کہ اس نے پہلے ہی سے بتا دیا کہ میں تنہا نہ تھا۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۰: ایک چیز کا اقرار کر کے کہتا ہے مجھ سے غلطی ہو گئی یعنی کچھ کا کچھ کہہ گیا یہ بات قبول نہیں کی جائے گی مگرمفتی نے اگر طلاق کا حکم دیا تھا اس بنا پر اس نے طلاق کا اقرار کیا بعد میں معلوم ہوا کہ اس مفتی نے غلط فتوی دیا تھا یہ کہتا ہے کہ اس غلط فتوی کی بنا پر میں نے غلط اقرار کیا یہ دیانۃً مسموع ہے۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۱: ایک شخص نے کہا میرے والد نے ثلث مال کی زید کے لئے وصیت کی بلکہ عمرو کے لئے بلکہ بکر کے لئے تو وصیت زید کے لئے ہے عمرو و بکر کے لئے کچھ نہیں ۔ (درمختار)

مسئلہ ۲۲: ایک شخص نے اقرار کیا کہ میں نے فلاں شخص کے لئے ہزار روپے کا اپنی نابالغی میں اقرار کیا تھا وہ یہ کہتا ہے کہ

حالت بلوغ میں اقرار کیا تھا اس صورت میں قسم کے ساتھ مقر کا قول معتبر ہے اور اگر یہ کہتا ہے کہ سر سام کی حالت میں میں نے اقرار کیا تھا جب میری عقل جاتی رہی تھی اور اگر معلوم ہو کہ اسے سرسام ہوا تھا جب تو کچھ نہیں ورنہ ہزار دینے ہوں گے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۳: مرد کہتا ہے میں نے نابالغی میں تجھ سے نکاح کیا تھا عورت کہتی ہے مجھ سے جب تم نے نکاح کیا تھا تم بالغ تھے اس میں مرد کا قول معتبر ہے اور اگر مرد یہ کہتا ہے کہ میں نے جب نکاح کیا تھا مجوسی تھا عورت کہتی ہے مسلمان تھے اس میں عورت کا قول معتبر ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۴: دو شخصوں میں شرکت مفاوضہ ہے ان میں سے ایک نے یہ اقرار کیا کہ میرے ساتھی کے ذمہ شرکت سے پہلے کے فلاں شخص کے اتنے روپے ہیں اور ساتھی اس سے انکار کرتا ہے اور طالب یہ کہتا ہے کہ وہ دین زمانہ ٔ شرکت کا ہے تو دین دونوں شریکوں پر لازم ہو گا اور اگر یہ اقرار کیا کہ یہ دین شرکت سے پہلے کا ہے اور مجھ پر ہے شریک پر نہیں اور طالب کہتا ہے زمانہ ٔ شرکت کا دین ہے اس صورت میں بھی دونوں پر لازم ہوگا اور اگر تینوں اس امر پر متفق ہیں کہ شرکت سے قبل کا دین ہے تو اسی کے ذمہ دین قرار پائے گا جس نے لیا ہے دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۵: یہ کہا کہ اس چیز میں فلاں کی شرکت ہے یا یہ چیز میرے اور فلاں کے مابین مشترک ہے یا یہ چیز میری اور فلاں کی ہے ان سب صورتوں میں دونوں نصف نصف کے شریک مانے جائیں گے اور اگر اقرار میں شریک کا حصہ بھی بتا دے مثلاً وہ تہائی یا چوتھائی کا شریک ہے تو جتنا اس کا حصہ بتایا اتنے ہی کی شرکت کا اقرار ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۶: یہ کہا کہ میرا کوئی حق فلاں کی جانب سے نہیں اس کہنے سے وہ شخص تمام ہی حقوق سے بری ہو گیا یعنی حقوق مالیہ اور غیر مالیہ دونوں سے برأ ت ہو گئی۔ غیر مالیہ مثلاً کفالت بالنفس قصاص حد قذف۔ حقوق مالیہ خواہ دین ہوں جو مال کے بدلے میں واجب ہوئے ہوں مثلاً ثمن، اجرت یا غیر مال کے بدلے میں ہوں مثلاً مہر۔ جنایت کی دیت اور حقوق مالیہ خواہ عین مضمونہ ہوں جیسے غصب یا امانت ہوں مثلاً ودیعت ، عاریت، اجارہ بالجملہ اس کہنے کے بعد اب وہ کسی حق کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اور اگر یہ لفظ کہا کہ فلاں پر میرا کوئی حق نہیں تو صرف مضمون کا اقرار ہے امانت سے برأ ت نہیں اور اگر یہ کہا کہ فلاں کے پاس میرا کوئی حق نہیں یہ امانت سے برأت ہے شے مضمون سے برأت نہیں ۔ (عالمگیری)

مسئلہ ۲۷: ایک شخص نے دو گواہوں سے مدعی علیہ کے ذمہ ہزار روپے ثابت کئے اور مدعی علیہ نے یہ گواہ پیش کئے کہ مدعی نے ہزار روپے اس سے معاف کر دیئے اسکی چند صورتیں ہیں اگر وجوب مال کی تاریخ ہو اور برأت (معافی) کی بھی تاریخ ہو اور تاریخ معافی بعد میں ہو معافی کا حکم دیا جائے گا اوراگر دستاویز کی تاریخ بعد میں ہے اور معافی کی پہلے ہو تو وجوب مال کا حکم دیا جائے گا اور اگر دونوں کی تاریخ نہ ہو یا دونوں کی ایک ہو یا دستاویز کی تاریخ ہو معافی کی نہ ہو یا معافی کی ہو مال کی نہ ہو ان سب صورتوں میں معافی کا حکم دیا جائے گا۔ (عالمگیری)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button