شرعی سوالات

افیون کی بیع جائز ہے مگر ایسے شخص کے ہاتھ ممنوع جو ناجائز طور پر کھاتا ہو

افیون کی بیع جائز ہے مگر ایسے شخص  کے ہاتھ ممنوع جو ناجائز طور پر کھاتا ہو

کتے کی بیع جائز ہے مگر اس کا پالنا مواضع ضرورت کے علاوہ ممنوع ہے

سوال:

افیم کی تجارت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور کتے پال کر بیچنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:

افیون کا کھانا ناجائز مگر جبکہ کسی دوا وغیرہ میں اتنی قلیل ملائی گئی کہ اس دوا کے کھانے سے حواس پر اثر نہ پڑے تو جائز ہے۔افیون شراب کی طرح نجس وناپاک نہیں ہے لہذا اس کا لیپ وغیرہ کرنا جائز،اکثر آشوب چشم میں اس کا ضماد آنکھوں میں لگاتے ہیں اور یہ لگانا جائز ہے اسی حالت میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں لہذا اس کی بیع جائز ہے البتہ اس کی بیع ایسے شخص سے کرنا جو اسے ناجائز طور پر کھاتا ہو،ممنوع ہے کہ یہ معصیت پر اعانت ہے ۔کتے کی بیع بھی جائز ہے۔یہ کتے کی نفس بیع کے  متعلق حکم ہے مگر اس کا پالنا صرف مواضع ضرورت میں جائز ہے انکے علاوہ ممنوع۔احادیث صحیحہ میں پالنے کی صرف تین صورتیں جائز فرمائی گئی ہیں۔

(1)شکار کے لیے۔

(2)مویشیوں کی حفاظت کےلیے۔

(3)کھیتوں کی نگہبانی کےلیے۔

اور فقہاء  نے مکان کی حفاظت کےلیے بھی پالنے کی اجازت دی ہے۔لہذا پالنا اگر ان ضرورتوں کے لیے نہ ہو بلکہ محض تجارت کے لیے ہوتو یہ پالنا جائز نہیں اگرچہ بیع بوجہ اس کی مالیت کے جائز ہوگی۔

(فتاوی امجدیہ،کتاب البیوع،جلد3،صفحہ183،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button