ARTICLES

افاقی کا حج سے قبل عمرہ ادا کر کے واپس جانا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہم لوگ ریاض سے حج تمتع کے ارادے سے نکلے مکہ مکرمہ پہنچے عمرہ ادا کیا او راحرام کھول دیا، پھر ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے لیڈر نے جو تصریح حاصل کی ہے وہ جعلی ہے اور ا س پر ہمیں حج کرنے کی اجازت نہیں ہے ، لہٰذا ہم سب کے سب ریاض واپس ہوئے ، اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں ہم پر کچھ لازم تو نہیں ائے گا کہ ہمارا ارادہ حج کرنے کا تھا، حج کا احرام باندھنے سے قبل ہم عمرہ کر کے واپس چلے گئے ۔

(السائل : ایک حاجی از ریاض)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں عمرہ ادا کر کے واپسی کی صورت میں کچھ بھی لازم نہ ایا کیونکہ ان لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ عمرہ ادا کر کے کھول دیا گیا اور حج کا احرام ابھی باندھا نہ تھا اور احرام باندھنے سے قبل ’’احصار‘‘ نہیں ہوتا چنانچہ علامہ ابو منصور محمد بن مکرم بن شعبان کرمانی حنفی متوفی 597ھ لکھتے ہیں :

و قبل الاحرام لا یکون محصرا (168)

یعنی، احرام سے قبل محصر نہیں ہوتا۔ اور پھر عمرہ کے احرام کے ساتھ حرم میں ا جانے سے ان پر حج کرنا لازم نہ ہوا، عمرہ کرنے کے بعد یہ لوگ مختار ہیں چاہیں تو حج کریں چاہیں تو واپس چلے جائیں ، ہاں وہ لوگ جن پر پہلے حج فرض نہ ہوا تھا ایام حج میں مکہ مکرمہ ا جانے کی وجہ سے ان پر حج فرض ہو گیا۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الجمعۃ، 13 ذوالحجۃ 1431ھ، 19 نوفمبر 2010 م 689-F

حوالہ جات

168۔ المسالک فی المناسک، فصل : فی المحصر، 2/939

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button