ARTICLES

افاقی کابلااحرام حل میں کسی مقام پرانے کاحکم

الاستفتاء : کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص میقات سے گزرے لیکن مکہ مکرمہ یاحرم میں جانے کے ارادے سے نہیں جیسے مدینہ شریف سے جدہ ائے اورپھروہیں سے پاکستان اجائے تواس کیلئے کیاحکم ہوگا؟ (سائل : c/oعلامہ عرفان ضیائی صاحب،میٹھادر،کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اس پرمیقات سے گزرتے وقت احرام لازم نہیں ہوگا،لہٰذاوہ حج و عمرہ کئے بغیراپنے وطن اسکتاہے کیونکہ افاقی پرحل میں کسی مقام پرجانے کے ارادے سے احرام واجب نہیں ہوتاہے ۔چنانچہ علامہ جلال الدین بن شمس الدین خوارزمی حنفی متوفی767ھ لکھتے ہیں : اذا قصد دخول الحل لا یلزمہ الاحرام لانہ حینئذٍ یکون کاھل الحل کالبستانی لہ ان یدخل مکۃ بغیر احرامٍ، ثم من قصد مجاوزۃ میقاتٍ واحدٍ فلہ ذلک بغیر احرامٍ کالافاقی یقصد الحل او الحلی یقصد مکۃ او المکی یخرج الی الحل ولا یجاوز المیقات ثم یعود الی مکۃ۔( ) یعنی،افاقی(میقات کے باہرسے انے والا)جب حل میں (میقات کے اندر اورحدود حرم سے باہر) داخل ہونے کاارادہ کرے تواس پراحرام لازم نہیں ہوگاکیونکہ اس وقت وہ حل والے کی مثل ہوگاجیسے بستانی کیلئے بلااحرام مکہ مکرمہ میں داخل ہوناجائزہے ،پھرجو شخص ایک میقات تجاوزکرنے کاارادہ کرے تواس کیلئے بلااحرام میقات تجاوز کرنا جائزہے جیسے افاقی جب حل کاارادہ کرے یاحلی مکہ مکرمہ کاارادہ کرے یامکی حل کی طرف نکلے اورمیقات سے باہرنہ جائے اورپھروہ مکہ مکرمہ واپسی لوٹ ائے ۔ کعبہ معظمہ کے گرددودائرے ہیں پہلادائرہ حدودحرم کہلاتاہے اوریہ حل والوں کی میقات ہے دوسرادائرہ مواقیت کاہے اوریہ افاقی اورمیقاتی کے لئے میقات ہے اب جوافاقی دونوں میقاتوں سے گزرنے کاارادہ رکھتاہووہ افاقی اورمیقاتی کی میقات سے بلااحرام نہیں گزرسکتااورجوافاقی دومیقات سے گزرنے کاارادہ رکھتاہوتو اسے افاقی کی میقات سے بلااحرام گزرناجائزہے ۔ امام ابوالبقاءمحمدبن احمدمکی حنفی متوفی854ھ لکھتے ہیں : واعلم ان الاصل ان کل من قصد مجاوزۃ بمیقاتین لا یجوز لہ ان یجاوزہ الا باحرامٍ ومن قصد مجاوزۃ میقات واحد حل لہ ان یجاوزہ بغیر احرامٍ، بیانہ : من اتی میقاتا بنیۃ الحج والعمرۃ او دخول مکۃ او دخول الحرم لا یجوز لہ ان یجاوزہ الا باحرامٍ لانہ قصد مجاوزۃ میقاتین : میقات الافاقی ومیقات اھل الحل۔( ) یعنی،توجان بے شک قاعدہ یہ ہے کہ ہروہ شخص جودومواقیت تجاوزکرنے کاارادہ کرے اس کیلئے بلااحرام میقات تجاوزکرناجائز نہیں اورجوشخص کوئی ایک میقات تجاوز کرنے کاارادہ کرے تواس کیلئے بلااحرام میقات تجاوزکرناجائزہے ،اس کی وضاحت یہ ہے کہ جو شخص حج یاعمرہ کی نیت سے میقات کوائے یاپھرمکہ مکرمہ یاحرم میں داخل ہونے کی نیت سے ،تواس کیلئے یہ جائزنہیں کہ بلااحرام میقات تجاوز کرے کیونکہ اس نے دومواقیت یعنی افاقی اورحل والوں کی میقات تجاوز کرنے کاارادہ کیاہے ۔ اس لئے جوافاقی حل میں کسی جگہ کے ارادے سے میقات سے گزرے گااس پراحرام واجب نہ ہوگاپھرجب وہ حل کے کسی مقام کے ارادے سے میقات سے بلااحرام گزرگیاتواب اسے حرم بلااحرام جاناجائزہوجائے گابشرطیکہ وہ حج یاعمرہ کاارادہ نہ رکھتا ہو۔چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی متوفی993ھ اورملاعلی قاری حنفی متوفی1014ھ لکھتے ہیں : (ومن جاوز وقتہ) ای الذی وصل الیہ حال کونہ (یقصد مکانا فی الحل) کبستان بنی عامر او جدۃ او حدۃ مثلا بحیث لم یمر علی الحرم، ولیس لہ عند المجاوزۃ قصد ان یدخل الحرم بعد دخول ذلک المکان (ثم بدا لہ) ای ظھور ای حادث (ان یدخل مکۃ) ای او الحرم ولم یرد نسکا حینئذٍ (فلہ ان یدخلھا) ای مکۃ وکذا الحرم (بغیر احرامٍ)۔ وفیہ اشکال، اذ ذکر الفقھاء فی حیلۃ دخول الحرم بغیر احرامٍ ان یقصد بستان بنی عامر، ثم یدخل مکۃ۔ وعلی ما ذکرہ المصنف وقررناہ لم تحصل الحیلۃ کما لا یخفی، فالوجہ فی الجملۃ ان یقصد البستان قصدا اولیا، ولا یضرہ قصدہ دخول الحرم بعدہ قصدا ضمنیا او عارضیا، کما اذا قصد مدنی جدۃ لبیعٍ وشراءٍ اولا، ویکون فی خاطرہ انہ اذا فرغ منہ ان یدخل مکۃ ثانیا۔ بخلاف من جاء من الھند مثلا بقصد الحج اولا، وانہ یقصد دخول جدۃ تبعا، ولو قصد بیعا وشراءً، لا یقال : فصار کمذھب الشافعی انہ اذا کان قصدہ الاصلی احد النسکین یجب علیہ الاحرام والا فلا، فانا نقول : ھذا الذی ذکرنا فیما اذا لم یقصد اولا فی دخولہ ارض الحرم، فانہ اذا قصدہ ودخل بغیر احرامٍ یجب علیہ دم لھتک حرمۃ الحرم( ) یعنی،جوشخص میقات تجاوزکرتے وقت حل میں کسی مقام پرجانے کاارادہ کرے مثلا : بستان بنی عامریاجدہ یاحدہ لیکن وہ حرم سے نہ گزرے اورنہ ہی اس کامیقات سے گزرتے وقت حل میں داخل ہونے کے بعدحرم میں داخل ہونے کاارادہ ہو،پھراسے کسی کام سے مکہ مکرمہ یاحدودحرم میں جاناپڑے اوراس کاارادہ حج یاعمرے کاارادہ نہ ہو،تواس کیلئے بلااحرام مکہ مکرمہ یاحرم میں داخل ہوناجائزہے اوراس میں ایک اشکال ہے کیونکہ فقہائے کرام نے افاقی کیلئے بلااحرام حدودحرم میں داخل ہونے کے بارے میں یہ حیلہ ذکرفرمایا ہے کہ وہ میقات تجاوزکرتے وقت بستان بنی عامرجانے کاارادہ کرے پھروہ مکہ مکرمہ میں داخل ہواوراگرہم مصنف کی مذکورہ بات کوباقی رکھتے ہیں ،توحیلہ حاصل نہ ہوگاجیساکہ مخفی نہیں ہے ،لہٰذاصورت یہ ہوگی کہ وہ پہلے بستان جانے کاارادہ کرے اوراس کے بعداسے ضمنایاعارضی طورپرحرم میں داخل ہونے کاارادہ مضرنہیں ہوگا، جیسے مدینے والاجب پہلے خریدوفروخت کیلئے جدہ انے کا قصدکرے اوراس کے دل میں یہ ہوکہ وہ اس سے فارغ ہونے کے بعدمکہ مکرمہ جائے گا،برخلاف اس شخص کے جو ہندوستان سے پہلے حج کرنے کے ارادے سے میقات تجاوزکرے اورضمناجدہ میں داخل ہونے کارادہ کرے اگرچہ خریدوفروخت کیلئے ،اوراسے مذہب شوافع کی مثل ہونانہیں کہیں گے کہ جب کسی کامیقات تجاوزکرتے وقت حج یاعمرے کاارادہ ہو،تواس پراحرام واجب ہوگا ورنہ نہیں ،کیونکہ یہ جوہم نے ذکرکیا ہے وہ اس صورت میں ہے کہ جب کسی کاپہلے حرم میں پرداخل ہونے کاارادہ نہ ہو،لہٰذاجب وہ میقات سے گزرتے وقت حرم میں جانے کاارادہ کرے گااوربلااحرام داخل ہوگاتواس پرحرم کی حرمت پامال کرنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا۔ اورعلامہ علاءالدین حصکفی حنفی متوفی1088ھ لکھتے ہیں : لو قصد موضعًا من الحل كخليصٍ وجدة حل له مجاوزته بلا احرامٍ فاذا حل به التحق باهله فله دخول مكة بلا احرامٍ وهو الحيلة لمريد ذلك الا لمامورٍ بالحج للمخالفة۔( ) یعنی،افاقی جب حل میں کسی مقام پرجانے کاارادہ کرے جیسے خلیص یاجدہ،تواس کیلئے بلااحرام میقات سے گزرناجائزہے ،پھرجب وہ میقات کے اندراجائے گاتوحلی ہوجائے گا،لہٰذااس کیلئے بلااحرام مکہ مکرمہ میں داخل ہونابھی جائزہوگااوریہ حیلہ اس کیلئے ہے کہ جوبلااحرام مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کاارادہ کرے لیکن جسے حج بدل کیلئے بھیجاگیاہووہ یہ حیلہ نہیں کرسکتاہے کیونکہ اس صورت میں حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔ اورصدرالشریعہ محمدامجدعلی اعظمی حنفی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : مکہ معظمہ جانے کا ارادہ نہ ہو بلکہ میقات کے اندرکسی اور جگہ مثلا جدہ جانا چاہتا ہے تو اسے احرام کی ضرورت نہیں پھر وہاں سے اگر مکہ معظمہ جانا چاہے تو بغیر احرام جاسکتا ہے ، لہٰذا جو شخص حرم میں بغیر احرام جانا چاہتا ہے وہ یہ حیلہ کرسکتا ہے بشرطیکہ واقعی اس کا ارادہ پہلے مثلا جدہ جانے کا ہو۔ نیز مکہ معظمہ حج اور عمرہ کے ارادہ سے نہ جاتا ہو،مثلا تجارت کے لیے جدہ جاتا ہے اور وہاں سے فارغ ہو کر مکہ معظمہ جانے کا ارادہ ہے اور اگر پہلے ہی سے مکہ معظمہ کا ارادہ ہے تو اب بغیر احرام نہیں جاسکتا۔ جو شخص دوسرے کی طرف سے حج بدل کو جاتا ہو اسے یہ حیلہ جائز نہیں ۔( ) اورارادہ میقات سے گزرتے وقت کامعتبرہے ۔چنانچہ علامہ سیدمحمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ لکھتے ہیں : والمعتبر القصد عند المجاوزة لا عند الخروج من بيته۔( ) یعنی،اورارادہ میقات سے گزرتے وقت کامعتبرہوگانہ کہ اپنے گھرسے نکلتے وقت کا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب بدھ،9/شوال،1443ھ،10/مئی،2022م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button