بہار شریعت

اطراف میں قصاص کے متعلق مسائل

اطراف میں قصاص کے متعلق مسائل

مسئلہ ۱ : اعضا میں قصاص وہیں ہوگا جہاں مماثلت کی رعایت کی جاسکے۔ یعنی جتنا اس نے کیا ہے اتنا ہی کیا جائے۔ یہ احتمال نہ ہو کہ اس سے زیادتی ہو جائے گی۔ (درمختار ص ۴۸۵ ج ۵)

مسئلہ ۲ : ہاتھ کو جوڑ پر سے کاٹ لیا ہے، اس کا قصاص لیا جائے گا، جس جوڑ پر سے کاٹا ہے اسی جوڑ پر سے اس کا بھی ہاتھ لیاجائے۔ اس میں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کا ہاتھ چھوٹا تھا اور اس کا بڑا ہے کہ ہاتھ ہاتھ دونوں یکساں قرار پائیں گے۔ (درمختار و شامی ص ۴۸۵ ج ۵)

متعلقہ مضامین

مسئلہ ۳ : کلائی یا پنڈلی درمیان میں سے کاٹ دی یعنی جوڑ پر سے نہیں کاٹی بلکہ آدھی یا کم و بیش کاٹ دی اس میں قصاص نہیں کہ یہاں مماثلت ممکن نہیں اس طرح ناک کی ہڈی کل یا اس میں سے کچھ کاٹ دی یہاں بھی قصاص نہیں ۔ (درمختار و شامی ص ۴۸۵ ج ۵)

مسئلہ ۴ : پائوں کاٹا یا ناک کا نرم حصہ کاٹا یا کان کاٹ دیا۔ ان میں قصاص ہے اور اگر ناک کے نرم حصے سے کچھ کاٹا ہے تو قصاص واجب نہیں اور ناک کی نوک کاٹی ہے تو اس میں حکومت عدل ہے۔ کاٹنے والی کی ناک اس کی ناک سے چھوٹی ہے۔ تو جس کی ناک کاٹی ہے اس کو اختیار ہے کہ قصاص لے یا دیت اور اگر کاٹنے والے کی ناک میں کوئی خرابی ہے مثلاً وہ اخثم ہے جسے بو محسوس نہیں ہوتی یا اس کی ناک کچھ کٹی ہوئی ہے یا اور کسی قسم کا نقصان ہے تو اس کو اختیار ہے کہ قصاص لے یا دیت (درمختار و شامی ص ۴۸۵ ج ۵)

مسئلہ ۵ : کان کاٹنے میں قصاص اس وقت ہے کہ پورا کاٹ لیا ہو۔ یا اتنا کاٹا ہو جس کی کوئی حد ہوتا کہ اتنا ہی اس کا کان بھی کاٹا جائے۔ اور اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوں تو قصاص نہیں کہ مماثلت ممکن نہیں ۔ کاٹنے والے کا کان چھوٹا ہے اور اس کابڑا تھا۔ یا کاٹنے والے کے کان میں چھید ہے یا یہ پھٹا ہوا ہے اور اس کا کان سالم تھا، تو اسے اختیار ہے کہ قصاص لے یا دیت (شامی ص ۳۶۵ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۴۵ ج ۸)

مسئلہ ۱ : زخموں کا قصاص صحت کے بعد لیا جائے گا (شامی ص ۴۸۵ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۲۸ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۴۰ ج ۸، بدائع صنائع ص ۳۱۰ ج ۷، طحطاوی ص ۲۶۸ ج ۴)

مسئلہ ۲ : داہنے ہاتھ کی جگہ بایاں ہاتھ اور تندرست کی جگہ ایسا شل ہاتھ جو ناقابل انتفاع ہو اور عورت کے ہاتھ کے بدلے مرد کا ہاتھ اور مرد کے ہاتھ کے بدلے میں عورت کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا (عالمگیری ص ۹ ج ۶، درمختار و شامی ص ۴۸۸ ج ۵، قاضی خاں علی الہندیہ ص ۴۳۳ ج ۳، بحرالرائق ص ۳۰۳ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۱۲ ج ۶، مبسوط ص ۱۳۶ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۲۹۷ ج ۷)

مسئلہ ۳ : آزاد کا ہاتھ غلام کے ہاتھ کے بدلے میں اور غلام کا ہاتھ آزاد کے ہاتھ کے بدلے میں نہیں کاٹا جائے گا اور غلام کے ہاتھ کے بدلے میں غلام کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا (عالمگیری ص ۹ ج ۶، درمختار و شامی ص ۴۸۸ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۱۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۶ ج ۸، فتح القدیر ص ۲۷۱ ج ، مبسوط ص ۱۳۶ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۳۰۸ ج ۷، مجمع الانہر ص ۶۲۵ ج ۲، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۳۳ ج ۳)

مسئلہ ۴ : مسلمان اور ذمی ایک دوسرے کے اعضاء کاٹ دیں تو ان میں قصاص لیا جائے گا اور یہی حکم ہے۔ دو آزاد عورتوں اور مسلمہ و کتابیہ اور دونوں کتابیہ عورتوں کا (عالمگیری ص ۹ ج ۶، شامی ص ۴۸۸ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۱۲ ج ۶، مجمع الانہر ص ۶۲۶ ج ۲)

مسئلہ ۵ : بالوں سر اور بدن کی کھال اور رخساروں اور ٹھڈی، پیٹ اور پیٹھ کے گوشت میں قصاص نہیں ہے (عالمگیری ص ۹ ج ۶، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۷ ج ۴، بدائع صنائع ص ۲۹۹ ج ۷)

مسئلہ ۶ : تھپڑ مارا یا گھونسہ مارا یا دبوچا تو ان کا قصاص نہیں ہے (عالمگیری ص ۹ ج ۶)

مسئلہ ۷ : دانت کے سوا کسی ہڈی میں قصاص نہیں ہے (عالمگیری ص ۹ ج ۶، درمختار و شامی ص ۴۸۶ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۰۶ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۱۱ ج ۶، عنایہ و فتح القدیر ص ۲۷۰ ج ۸، مبسوط ص ۳۵ ج ۲۶، درغرر غنیہ ص ۹۶ ج ۲)

آنکھ کے متعلق مسائل

مسئلہ ۸ : کسی نے کسی کی آنکھ پر ایسی ضرب لگائی کہ جس سے صرف روشنی جاتی رہی اور بظاہر آنکھ میں اور کوئی عیب نہیں ہے تو اس طرح قصاص لیا جائے گا کہ مارنے والے کی آنکھ کی روشنی زائل ہو جائے اور کوئی دوسرا عیب پیدا نہ ہو (بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۰ ج ۶، عالمگیری ص ۹ ج ۶، درمختار و شامی ص ۴۸۶ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۱۱ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۳ ج ۴، مبسوط ص ۱۵۲ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۳۰۸ ج ۷، درر غرر شرنبلالی ص ۹۵ ج ۲)

مسئلہ ۹ : اگر آنکھ نکال لی یا اس طرح مارا کہ اندر دھنس گئی تو قصاص نہیں ہے، کیوں کہ مماثلت نہیں ہوسکتی (درمختار ص ۴۸۶ ج ۵، عالمگیری ص ۹ ج ۶، قاضی خاں علی الہندیہ ص ۴۳۸ ج ۳، بحرالرائق ص ۳۰۳ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۱۱ ج ۶، ہدایہ فتح القدیر ص ۲۷۰ ج ۸، مبسوط ص ۱۵۲ ج ۲۶)

مسئلہ ۱۰ : اعضاء میں جہاں قصاص واجب ہوتا ہے وہاں ہتھیار سے مارنا اور غیر ہتھیار سے مارنا برابر ہے۔ (عالمگیری ص ۹ ج ۶، درمختار و شامی ص ۴۶۸ ج ۵، بدائع صنائع ص ۳۱۰ ج ۷، بحرالرائق ص ۲۸۷ ج ۸، عنایہ ص ۲۵۳ ج ۸، علی الہندایہ و فتح القدیر، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۰ ج ۶)

مسئلہ ۱۱ : اگر ضرب لگا کر آنکھ کا ڈھیلا نکال دیا، اور جس کا ڈھیلا نکالا گیا وہ کہتا ہے کہ میں اس پر تیار ہوں کہ جانی کی آنکھ پھوڑ دی جائے اور ڈھیلا نہ نکالا جائے، تو بھی ایسا نہیں کیا جائے گا (عالمگیری ص ۹ ج ۶، بدائع صنائع ص ۳۰۸ ج ۷)

مسئلہ ۱۲ : اگر کسی نے کسی کی داہنی آنکھ ضائع کر دی ا ور جانی کی بائیں آنکھ نہیں ہے تو بھی اس کی داہنی آنکھ پھوڑ کر اس کو اندھا کر دیا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۹ ج ۶، درمختار ص ۴۸۶ ج ۵، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۳۸ ج ۳، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۰ ج ۶)

مسئلہ ۱۳ : بھینگے کی ایسی آنکھ جس میں پوری روشنی تھی، قصداً پھوڑ دی تو اس کا قصاص لیا جائے گا اور اگر اتنا بھینگا ہے کہ کم دیکھتا ہے تو اس صورت میں انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۹ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۳۹ ج ۳، درمختار و شامی ص ۴۸۶ ج ۵، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۸ ج ۴، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۰ ج ۶)

مسئلہ ۱۴ : کم نظر بھینگے نے کسی کی اچھی آنکھ پھوڑ دی تو اس شخص کو اختیار ہے چاہے تو قصاص لے اور نقصان پر راضی ہو جائے اور چاہے تو جانی کے مال سے آدھی دیت لے لے۔ (عالمگیری ص ۹ ج ۶، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۳۹ ج ۳، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۹ ج ۴، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۰ ج ۶)

مسئلہ ۱۵ : جس شخص کی داہنی آنکھ میں جالا ہے اور وہ اس سے کچھ دیکھتا ہے اس نے کسی شخص کی داہنی آنکھ ضائع کر دی تو جس کی آنکھ ضائع کی گئی ہے اس کو اختیار ہے کہ اس کی ناقص آنکھ ضائع کر دے یا آنکھ کی دیت لے لے اور اگر وہ جالے والی آنکھ سے کچھ نہیں دیکھتا تو قصاص نہیں ہے۔ اور اگر اس شخص نے جس کی آنکھ ضائع ہوئی تھی ابھی کچھ اختیار نہیں کیا تھا کہ کسی اور شخص نے اس آنکھ پھوڑنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو پہلے والے کا حق اس کی آنکھ میں باطل ہوگیا اور اگر پہلے جس کی آنکھ پھوڑی گئی تھی۔ اس نے دیت اختیار کر لی تھی، پھر کسی شخص نے جانی کی آنکھ پھوڑ دی تو اگر اس کا اختیار صحیح تھا تو اس کا حق آنکھ سے دیت کی طرف منتقل ہو جائے گا اور آنکھ کے ضائع ہونے سے اس کا حق باطل نہیں ہوگا اور اگر اس کا اختیار صحیح نہیں تھا تو اس کا حق باطل ہو جائے گا۔ اختیار صحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جنایت کرنے والے نے اختیار دیا ہو اور اگر اس نے خود ہی دیت کو اختیار کر لیا ہے تو اختیار صحیح نہیں ہے اور اس صورت میں جس میں اختیار صحیح نہیں ہے اگر جانی کی جالے والی آنکھ میں روشنی آگئی تو پھر قصاص لے سکتا ہے اور اس صورت میں جس میں اختیار صحیح ہے قصاص کی طرف رجوع نہیں کرسکتا۔ (عالمگیری ص ۱۰ ج ۶)

مسئلہ ۱۶ : کسی کی جالے والی ایسی آنکھ کو نقصان پہنچایا جس میں روشنی ہے اور جانی کی آنکھ بھی ایسی ہے تو قصاص نہیں ہے۔ (شامی ص ۴۸۶ ج ۵، عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، طحطاوی علی الدراز محیط ص ۲۶۸ ج ۴)

مسئلہ ۱۷ : اگر کسی کی آنکھ پر اس طرح ضرب لگائی کہ کچھ پتلی پر جالا آگیا یا آنکھ کو زخمی کر دیا یا اس میں چھالا یا جالا آگیا یا آنکھ میں کوئی ایسا عیب پیدا کر دیا کہ اس سے روشنی کم ہوگئی تب بھی انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا (شامی عن تاتار خانیہ ص ۴۸۶ ج ۵، عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، شامی درمختار از خانیہ ص ۴۸۶ ج ۵، مجمع الانہر ص ۶۲۵ ج ۲، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۸ ج ۴، بدائع صنائع ص ۳۰۸ ج ۷)

مسئلہ ۱۸ : اگر کسی کی بائیں آنکھ پھوڑ دی تو جانی کی داہنی آنکھ سے اور اگر داہنی آنکھ پھوڑ دی تو بائیں آنکھ سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (شامی ص ۴۸۶ ج ۵، عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۰ ج ۶، مجمع الانہر ص ۶۲۵ ج ۲، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۳۳ ج ۳، بحرالرائق ص ۳۰۳ ج ۸)

مسئلہ ۱۹ : کسی کی آنکھ پر مارا کہ جالا آگیا پھر جالا جاتا رہا اور وہ دیکھنے لگا تو مارنے والے پر کچھ نہیں ہے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب پوری نظر واپس آجائے لیکن اگر بینائی میں نقصان رہا تو انصاف سے تاوان لیا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، مجمع الانہر ص ۶۲۵ ج ۲، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۸ ج ۴، شامی ص ۴۸۶ ج ۵)

مسئلہ ۲۰ : اگر کسی بچے کی آنکھ پیدائش کے فورا بعد یا چند روز بعد پھوڑ دی اور جانی کہتا ہے کہ بچہ آنکھ سے نہیں دیکھتا تھا یا کہتا ہے کہ مجھے اس کے دیکھنے یا نہ دیکھنے کا علم نہیں تو اس کی بات مان لی جائے گی اور اسے تاوان دینا ہوگا جس کا فیصلہ انصاف سے کیا جائے گا اور اگر یہ علم ہو جائے کہ بچے نے اس آنکھ سے دیکھا ہے۔ اس طرح کہ دو گواہ بچے کی آنکھ کی سلامتی کی گواہی دیں تو غلطی سے پھوڑنے کی صورت میں نصف دیت اور قصدا پھوڑنے کی صورت میں قصاص ہے (عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، قاضی خان ص ۴۳۹ ج ۳، بحرالرائق ص ۳۳۷ ج ۸، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۳۹ ج ۳، تبیین الحقائق ص ۱۳۵ ج ۶)

مسئلہ ۲۱ : جس کی آنکھ پھوڑی گئی اس کی آنکھ پھوڑنے والے کی آنکھ سے چھوٹی ہو یا بڑی بہرصورت قصاص لیا جائے گا (شامی ص ۴۸۶ ج ۵، عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، مجمع الانہر ص ۶۲۵ ج ۲، طحطاوی ۳علی الدر ص ۲۶۸ ج ۴، بحرالرائق ص ۳۰۳ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۱۱ ج ۶، بزازیہ ص ۳۹۰ ج ۶)

مسئلہ ۲۲ : کسی کی آنکھ میں چوٹ لگ گئی یا زخم آگیا۔ ڈاکٹر نے اس شرط پر علاج کیا کہ اگر روشنی چلی گئی تو میں ضامن ہوں پھر اگر روشنی چلی گئی تو وہ ضامن نہیں ہوگا (بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۱ ج ۶)

(کان)

مسئلہ ۲۳ : جب کسی کا پورا کان قصدا کاٹ دیا جائے تو قصاص ہے اور اگر کان کا بعض حصہ کاٹ دیا جائے اور اس میں برابری کی جاسکتی ہو تو بھی قصاص ہے ورنہ نہیں ۔ (عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، شامی ص ۴۸۶ ج ۵، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۸ ج ۴، بحرالرائق ص ۳۰۲ ج ۸، بدائع صنائع ص ۳۰۸ ج ۷، غنیہ ص ۹۵ ج ۲، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۸ ج ۶)

مسئلہ ۲۴ : کسی نے کسی کا کان قصداً کاٹا اور کاٹنے والے کا کان چھوٹا یا پھٹا ہوا یا چرا ہوا ہے اور جس کا کان کاٹا گیا اس کا کان بڑا یا سالم ہے تو اس کو اختیار ہے کہ چاہے وہ قصاص لے اور چاہے تو نصف دیت لے اور اگر جس کا کان کاٹا گیا ہے اس کا کان ناقص تھا تو انصاف کے ساتھ تاوان ہے۔ (شامی ص ۴۸۶ ج ۵، عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۳ ج ۸، طحطاوی علی الدر ص ۴۶۸ ج ۴)

مسئلہ ۲۵ : اگر کسی شخص نے کان کھینچا اور کان کی لو جدا کر لی تو اس میں قصاص نہیں ۔ اس پر اپنے مال میں دیت ہے۔ (عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۳ ج ۸، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۸ ج ۴)

(ناک)

مسئلہ ۲۶ : اگر ناک کا نرم حصہ پورا قصداً کاٹ دیا تو اس میں قصاص ہے اور اگر بعض حصہ کاٹا تو اس میں قصاص نہیں ہے (شامی ص ۴۸۵ ج ۵، عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۸ ج ۴، بدائع صنائع ص ۳۰۸ ج ۷)

مسئلہ ۲۷ : اگر ناک کے بانسے یعنی ہڈی کا کچھ حصہ عمداً کاٹ دیا تو قصاص نہیں ہے۔ (شامی ص ۴۸۵ ج ۵، عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، بدائع صنائع ص ۳۰۸ ج ۷، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۳۵ ج ۳، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۸ ج ۴)

مسئلہ ۲۸ : اگر ناک کی پھنک یعنی نرم حصہ کا بعض کاٹ دیا تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، شامی ص ۴۸۵ ج ۵، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۳۵ ج ۳، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۸ ج ۴، بدائع صنائع ص ۳۰۸ ج ۷)

مسئلہ ۲۹ : اگر ناک کاٹنے والے کی ناک چھوٹی ہے تو مقطوع الانف کو اختیار ہے کہ چاہے قصاص اور چاہے ارش لے۔ (عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، شامی ص ۴۸۵ ج ۵، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۸ ج ۴)

مسئلہ ۳۰ : اگر ناک کاٹنے والے کی ناک میں سونگھنے کی طاقت نہیں یا اس کی ناک کٹی ہوئی ہے یا اس کی ناک میں اور کوئی نقص ہے تو جس کی ناک کاٹی گئی ہے، اس کو اختیار ہے کہ چاہے تو اس کی ناک کاٹ لے اور چاہے تو دیت لے لے (عالمگیری ص ۱۰ ج ۶، شامی ص ۴۸۵ ج ۵، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۸ ج ۴)

ہونٹ

مسئلہ ۳۱ : اگر کسی نے کسی کا پورا ہونٹ قصدا ًکاٹ دیا تو قصاص ہے، اوپر کے ہونٹ میں اوپر کے ہونٹ سے، اور نیچے کے ہونٹ میں نیچے کے ہونٹ سے قصاص لیا جائے گا اور اگر بعض ہونٹ کاٹ دیا تو قصاص نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۱۱ ج ۶، ہدایہ ص ۵۵۵ ج ۴، بحرالرائق ص ۳۰۳ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۱۲ ج ۶، طحطاوی علی الدر ص ۲۷۰ ج ۴، بدائع صنائع ص ۳۰۸ ج ۷)

زبان

مسئلہ ۳۲ : زبان پوری کاٹی جائے یا بعض اس میں قصاص نہیں ہے (عالمگیری ص ۱۱ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۶ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۱۲ ج ۶، قاضی خاں علی الہندیہ ص ۴۳۷ ج ۳، درمختار و شامی ص ۴۸۹ ج ۵، مجمع الانہر ص ۶۲۶ ج ۲، طحطاوی علی الدر ص۲۷۰ ج ۴، بدائع صنائع ص ۳۰۸ ج ۷)

دانت

مسئلہ ۳۳ : دانت میں مماثلت کے ساتھ قصاص ہے یعنی داہنے کے بدلے میں بایاں اور بائیں کے بدلے میں دایاں اوپر والے کے بدلے میں نیچے والا اور نیچے والے کے بدلے میں اوپر والا نہیں توڑا جائے گا۔ سامنے والے کے بدلے میں سامنے والا، کیلے کے بدلے میں کیلا اور ڈاڑھ کے بدلے میں ڈاڑھ توڑی جائے گی (عالمگیری ص ۱۱ ج ۶، درمختار و شامی ص ۴۸۸ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۰۴ ج ۸، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۱ ج ۶)

مسئلہ ۳۴ : دانت میں چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں ہے۔ چھوٹے کے بدلے میں بڑا اور بڑے کے بدلے میں چھوٹا توڑا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۱ ج ۶، درمختار و شامی ص ۴۸۶ ج ۵، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۳۸ ج ۳، بحرالائق ص ۳۰۴ ج ۸، مجمع الانہر ص ۶۲۵ ج ۲، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۹ ج ۴، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۲ ج ۶)

مسئلہ ۳۵ : سن زائد (فالتو دانت) میں قصاص نہیں ہے۔ اس میں انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۱ ج ۶، شامی ص ۴۸۶ ج ۵، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۹ ج ۴، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۱ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۴ ج ۸)

مسئلہ ۳۶ : اگر کسی نے دانت کا بعض حصہ قصدا توڑ دیا تو اگر مماثلت کے ساتھ قصاص ممکن ہو تو قصاص لیا جائے گا، ورنہ دیت لازم ہوگی (عالمگیری ص ۱۱ ج ۶، شامی ص ۴۸۷ ج ۵، طحطاوی ص ۲۶۹ ج ۴، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۴ ج ۸)

مسئلہ ۳۷ : اگر کسی کے دانت کا بعض حصہ توڑ دیا اور بعد میں بقیہ بعض خود گر گیا تو اس صورت میں قصاص نہیں ہے۔ (شامی ص ۴۸۷ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۳۷ ج ۶، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۴ ج ۶، عالمگیری ص ۱۱ ج ۶)

مسئلہ ۳۸ : کسی شخص کے دانت کو ایسا مارا کہ دانت ہل گیا مگر اکھڑا نہیں ۔ پھر دوسرے شخص نے اس کو اکھیڑ دیا تو اس صورت میں ایک پر انصاف کے ساتھ تاوان ہے (شامی ص ۴۸۷ ج ۵، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۲ ج ۶)

مسئلہ ۳۹ : دانت کا بعض حصہ توڑ دیا۔ پھر باقی حصہ کالا یا سرخ یا سبز ہوگیا یا اس میں کوئی عیب اس کے توڑنے کی وجہ سے پیدا ہوگیا تو قصاص نہیں ہے۔ دیت ہے۔ (عالمگیری ص ۱۱ ج ۶، طحطاوی ص ۲۶۹ ج ۴، درمختار و شامی ص ۴۸۷ ج ۵، مجمع الانہر ص ۶۴۷ ج ۲، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۱ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۴ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۳۷ ج ۶)

مسئلہ ۴۰ : دو شخص اکھاڑے میں اس لئے اترے تھے کہ مکے بازی کریں گے پس ایک نے دوسرے کو اس طرح مارا کہ اس کا دانت اکھڑ گیا تو مارنے والے پر قصاص ہے اور اگر ہر ایک نے دوسرے سے کہا کہ مار مار اور ایک نے دوسرے کو مکہ مار کر دوسرے کا دانت توڑ دیا تو اس پر کچھ نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۱۱ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۵ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۳۷ ج ۶)

مسئلہ ۴۱ : اگر کسی نے قصداً کسی کے سامنے کے دانت اکھیڑ دیئے اور اکھیڑنے والے سے قصاص لے لیا گیا۔ پھر جس سے قصاص لیا گیا تھا اس کے دانت دوبارہ نکل آئے تو اس کے دانت دوبارہ نہیں اکھیڑے جائیں گے۔ (عالمگیری ص ۱۱ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۵ ج ۸)

مسئلہ ۴۲ : زید نے بکر کا دانت اکھیڑ دیا اور بکر نے قصاص میں زید کا دانت اکھیڑ دیا اس کے بعد بکر کا دانت اگ گیا۔ تو زید کو بکر دانت کی دیت دے گا۔ اور اگر دانت ٹیڑھا اگا تو بکر انصاف کے ساتھ زید کو تاوان دے گا اور اگر آدھا اگا تو نصف دیت دے گا۔ (عالمگیری ص ۱ ۱ ج ۶، قاضی خان برحاشیہ عالمگیری ص ۴۳۷ ج ۳، بحرالرائق ص ۳۰۵ ج ۸، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۵ ج ۶، فتح القدیر، ہدایہ عنایہ ۳۲۰ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۳۷ ج ۶)

مسئلہ ۴۳ : کسی کے دانت کو ایسا مارا کہ دانت کالا ہوگیا اور مارنے والے کے دانت کالے یا پیلے یا سرخ یا سبز ہیں تو جس پر جنایت کی گئی ہے اس کو اختیار ہے کہ چاہے قصاص لے لے اور چاہے تو دیت لے لے (شامی ص ۴۸۶ ج ۵، قاضی خان برحاشیہ عالمگیری ص ۴۳۸ ج ۳، عالمگیری ص ۱۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۵ ج ۸)

مسئلہ ۴۴ : کسی کے دانت کو ایسا مارا کہ دانت کالا ہوگیا، پھر دوسرے شخص نے یہ دانت اکھیڑ دیا تو پہلے والے پر پوری دیت لازم ہے اور دوسرے پر انصاف کے ساتھ تاوان ہے۔ (شامی ص ۴۸۷ ج ۵، قاضی خان برحاشیہ عالمگیری ص ۴۳۸ ج ۳، بحرالرائق ص ۳۰۵ ج ۸)

مسئلہ ۴۵ : کسی شخص کا عیب دار دانت توڑا تو اس میں انصاف کے ساتھ تاوان ہے (شامی ص ۴۸۶ ج ۵، عالمگیری ص ۱۲ ج ۶، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۵ ج ۸)

مسئلہ ۴۶ : اگر کسی کے دانت پر مارا اور دانت گر گیا تو قصاص لینے میں زخم کے مندمل ہونے کا انتظار کیا جائے گا، لیکن ایک سال تک انتظار نہیں ہوگا۔ (عالمگیری ص ۱۱ ج ۶، شامی ص ۴۸۷ ج ۵، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۲ ج ۶، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۹ ج ۴، تبیین الحقائق ص ۱۳۷ ج ۶، فتح القدیر ص ۳۲۰ ج ۸)

مسئلہ ۴۷ : اگر کسی نے بچے کے دانت اکھیڑ دیئے تو ایک سال تک انتظار کیا جائے گا اور چاہیئے کہ جنایت کرنے والے سے ضامن لے لیں پھر اگر اکھڑے دانت کی جگہ سے دوسرا دانت اگ آئے تو کچھ نہیں اور اگر دانت نہیں اگا تھا اور ایک سال پورا ہونے سے پہلے بچہ مرگیا تو بھی کچھ نہیں ہے۔ (شامی ص ۴۸۷ ج ۵، عالمگیری ص ۱۱ ج ۶، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۹ ج ۴، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۲ ج ۶، فتح القدیر ص ۳۲۱ ج ۸)

مسئلہ ۴۸ : کسی نے کسی کے دانت پر ایسا مارا کہ دانت ہل گیا تو ایک سال تک انتظار کیا جائے گا۔ عام ازیں کہ جس کو مارا ہے وہ بالغ ہو یا نابالغ، ایک سال تک اگر دانت نہ گرا تو مارنے والے پر کچھ نہیں اور اگر سال کے اندر گر گیا اور قصداً مارا تھا تو قصاص واجب ہے اور اگر خطائً مارا ہے تو دیت واجب ہے (عالمگیری ص ۱۱ ج ۶، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۹ ج ۴)

مسئلہ ۴۹ : دانت ہلنے کی صورت میں قاضی نے ایک سال کی مہلت دی تھی اور سال پورا ہونے سے پہلے مضروب کہتا ہے کہ اسی ضرب کی وجہ سے میرا دانت گر گیا۔ مگر ضارب کہتا ہے کہ کسی دوسرے کے مارنے سے اس کا دانت گرا ہے تو مضروب کا قول معتبر ہے اور اگر سال پورا ہونے کے بعد مضروب نے یہ دعوی کیا تو ضارب کا قول معتبر ہوگا۔ (عالمگیری ص ۱۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۴ ج ۸، بدائع صنائع ص ۳۱۶ ج ۷، تبیین الحقائق ص ۱۳۷ ج ۶)

مسئلہ ۵۰ : کسی کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اس کے دانت اکھڑ گئے تو دانتوں کا تاوان نہیں ہے (قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۳۷ج ۳، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۵ ج ۶)

مسئلہ ۵۱ : کسی شخص کے کپڑے کو دانتوں سے پکڑ لیا اور اس نے اپنا کپڑا کھینچا اور کپڑا پھٹ گیا تو دانتوں سے پکڑنے والا کپڑے کا نصف تاوان دے گا اور اگر کپڑا دانتوں سے پکڑ کر کھینچا کہ پھٹ گیا تو کپڑے کا کل تاوان دے گا۔ (قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۳۷ ج ۳)

مسئلہ ۵۲ : کسی نے کسی کا دانت اکھیڑ دیا اس کے بعد نصف دانت اگ آیا تو قصاص نہیں ہے بلکہ نصف دیت ہے اور اگر پیلا اگا یا ٹیڑھا اگا تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (درمختار و شامی ص ۵۱۵ ج ۵، بحرالرائق ص ۳۰۵ ج ۸، طحطاوی ص ۲۸۴ ج ۴، مجمع الانہر و ملتقی الابحر ص ۶۴۷ ج ۲)

مسئلہ ۵۳ : اگر کسی نے کسی کے بتیسوں دانت توڑ دیئے تو اس پر ۵/۳ ۱ دیت لازم ہوگی۔ (بحرالرائق ص ۳۰۴ ج ۸، درمختار و شامی ص ۵۰۹ ج ۵، طحطاوی علی الدر ص ۲۸۱ ج ۴، مجمع الانہر و ملتقی الابحر ص ۶۴۲ ج ۲، عالمگیری ص ۲۵ ج ۶، بزازیہ ص ۳۹۱ ج ۶، بدائع صنائع ص ۳۱۵ ج ۷، تبیین الحقائق ص ۱۳۱ ج ۶)

مسئلہ ۵۴ : اگر کسی نے کسی کا دانت اکھیڑ دیا اس کے بعد اس کا پورا دانت صحیح حالت میں دوبارہ نکل آیا تو جانی پر قصاص و دیت نہیں ہے مگر علاج معالجہ کا خرچہ اس سے وصول کیا جائے گا۔ (بحرالرائق ص ۳۰۵ ج ۸، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۹ ج ۴، درمختار و شامی ص ۵۱۵ ج ۵، بزازیہ ص ۳۹۱ ج ۶، مبسوط ص ۷۱ ج ۲۶، ہدایہ و عنایہ علی الفتح ص ۳۲۰ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۳۷ ج ۶)

مسئلہ ۵۵ : اگر کسی نے کسی کا کوئی دانت اکھیڑ دیا اور اس وقت اکھیڑنے والے کا وہ دانت نہیں تھا مگر جنایت کے بعد نکل آیا تو قصاص نہیں ہے، دیت ہے، خواہ جنایت کے وقت جانی کا یہ دانت نکلا ہی نہ ہو، یا نکلا ہو مگر اکھڑ گیا ہو، (بحرالرائق ص ۳۰۵ ج ۸)

مسئلہ ۵۶ : مریض نے ڈاکٹر سے دانت اکھیڑنے کو کہا، اس نے ایک دانت اکھیڑ دیا، مگر مریض کہتا ہے کہ میں نے دوسرے دانت کو اکھیڑنے کے لئے کہا تھا تو مریض کا قول یمین کے ساتھ مان لیا جائے گا اور مریض کے قسم کھانے کے بعد ڈاکٹر پر دانت کی دیت واجب ہوگی۔ (بحرالرائق ص ۳۰۵ ج ۸)

مسئلہ ۵۷ : کسی نے کسی کا دانت قصداً اکھیڑ دیا اور جانی کے دانت کالے یا پیلے یا سرخ یا سبز ہیں تو جس کا دانت اکھیڑا گیا ہے اس کو اختیار ہے کہ چاہے قصاص لے اور چاہے دیت لے لے۔ (بحرالرائق ص ۳۰۵ ج ۸، عالمگیری ص ۱۲ ج ۶)

مسئلہ ۵۸ : کسی بچے نے بچے کا دانت اکھیڑ دیا تو جس کا دانت اکھیڑا گیا ہے اس کے بالغ ہونے تک انتظار کیا جائے گا، بلوغ کے بعد اگر صحیح دانت نکل آیا تو کچھ نہیں اور اگر نہیں نکلا یا عیب دار نکلا تو دیت لازم ہے (درمختار و شامی ص ۵۱۶ ج ۵، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۲ ج ۶،)

مسئلہ ۵۹ (ا): کسی نے کسی کے دانت پر ایسی ضرب لگائی کہ دانت کالا، یا سرخ یا سبز ہوگیا یا بعض حصہ ٹوٹ گیا اور بقیہ کالا یا سرخ یا سبز ہوگیا تو قصاص نہیں ہے، دانت کی پوری دیت واجب ہے۔ (تبیین الحقائق ص ۱۳۷ ج ۶، طحطاوی ص ۲۶۹ ج ۴، بدائع صنائع ص ۳۱۵ ج ۷، بحرالرائق ص ۳۰۴ ج ۸)

انگلیاں

مسئلہ ۵۹ (ب) :انگلیاں اگر جوڑ پر سے کاٹی جائیں تو ان میں قصاص لیا جائے گا اور اگر جوڑ پر سے نہ کاٹی جائیں تو قصاص نہیں ہے۔ (عالمگیری ص ۱۲ ج ۶، قاضی خاں علی الہندیہ ص ۴۳۸ ج ۳، بحرالرائق ص ۳۰۷ ج ۸)

مسئلہ ۶۰ : ہاتھ کی انگلی کے بدلے میں پیر کی انگلی اور پیر کی انگلی کے بدلے میں ہاتھ کی انگلی نہیں کاٹی جائے گی۔ (عالمگیری ص ۱۲ ج ۶)

مسئلہ ۶۱ : داہنے ہاتھ کی انگلی کے بدلے میں بائیں ہاتھ کی اور بائیں ہاتھ کی انگلی کے بدلے میں دائیں ہاتھ کی انگلی نہیں کاٹی جائے گی۔ (عالمگیری ص ۱۲ ج ۶، بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۳ ج ۶، طحطاوی علی الدر ص ۲۶۸ ج ۴، بدائع صنائع ص ۲۹۷ ج ۷)

مسئلہ ۶۲ : ناقص انگلیوں والے ہاتھ کے بدلے میں صحیح ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۲ ج ۶)

مسئلہ ۶۳ : کسی نے چھٹی انگلی کو کاٹ دیا اور کاٹنے والے کے ہاتھ میں بھی چھٹی انگلی ہے تو بھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۲ ج ۶، بدائع صنائع ص ۳۰۳ ج ۷، بحرالرائق ص ۳۰۶ ج ۸)

مسئلہ ۶۴ : اگر ایسی ہتھیلی کاٹ دی جس کی گرفت میں حارج زائد انگلی تھی تو قصاص نہیں ہے۔ اور اگر گرفت میں انگلی حارج نہیں تھی تو قصاص لیا جائے گا (عالمگیری عن المحیط ص ۱۲ ج ۶، بدائع صنائع ص ۳۰۳ ج ۷)

مسئلہ ۶۵ : اگر کوئی شخص کسی کے ہاتھ کی انگلی کاٹ لے جس سے اس کی ہتھیلی شل ہو جائے یا جوڑ سے انگلی کا ایک پورا کاٹ لے جس سے بقیہ انگلی یا ہتھیلی شل ہو جائے تو انگلی کا قصاص نہیں ہے۔ ہاتھ یا شل انگلی کی دیت ہے (بدائع صنائع ص ۳۰۶ ج ۷)

ہاتھ کے مسائل

مسئلہ ۶۶ : اگر کسی کا ایسا زخمی ہاتھ کاٹا گیا جس کا زخم گرفت میں حارج نہ تھا تو قصاص لیا جائے گا اور اگر زخم گرفت میں حارج تھا تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۲ ج ۶، شامی ص ۴۹۰ ج ۵)

مسئلہ ۶۷ : اگر کالے ناخن والا ہاتھ کاٹا تو اس کا قصاص لیا جائے گا (عالمگیری ص ۱۲ ج ۶، شامی ص ۴۹۰ ج ۵)

مسئلہ ۶۸ : اگر کسی کا صحیح ہاتھ کاٹ دیا اور کاٹنے والے کا ہاتھ شل یا ناقص ہے تو مقطوع الید کو اختیار ہے، چاہے تو ناقص ہاتھ کاٹ دے یا چاہے تو پوری دیت لے لے یہ اختیار اس صورت میں ہے کہ ناقص ہاتھ کارآمد ہو ورنہ دیت پر اکتفا کیا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۲ ج ۶، درمختار و شامی ص ۴۸۹ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۱۲ ج ۶)

مسئلہ ۶۹ : زید نے بکر کا ہاتھ کاٹا اور زید کا ہاتھ شل یا ناقص تھا اور بکر نے ابھی اختیار سے کام نہیں لیا تھا کہ کسی شخص نے زید کا ناقص ہاتھ ظلماً کاٹ دیا یا کسی آفت سے ضائع ہوگیا تو بکر کا حق باطل ہو جائے گا۔ اور اگر زید کا ناقص ہاتھ قصاص یا چوری کے جرم میں کاٹ دیا گیا تو بکر دیت کا حق دار ہے۔ (عالمگیری ص ۱۲ ج ۶)

مسئلہ ۷۰ : اگر کسی نے کسی کی انگلی یا ہاتھ کا کچھ حصہ کاٹ دیا پھر دوسرے شخص نے باقی ہاتھ کاٹ دیا اور زخمی مرگیا تو جان کا قصاص دوسرے شخص پر ہے، پہلے پر نہیں ، پہلے کی انگلی یا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۵ ج ۶)

مسئلہ ۷۱ : کسی کا ہاتھ قصداً کاٹا پھر کاٹنے والے کا ہاتھ آکلہ کی وجہ سے یا ظلماً کاٹ دیا گیا تو قصاص اور دیت دونوں باطل ہو جائیں گے اور اگر کاٹنے والے کا ہاتھ کسی دوسرے قصاص یا چوری کی سزا میں کاٹا گیا تو پہلے مقطوع الید کو دیت دے گا۔ (قاضی خاں ص ۴۳۶ ج ۳، علی الہندیہ)

مسئلہ ۷۲ : کسی شخص کی دو انگلیاں کاٹ دیں اور کاٹنے والے کی صرف ایک انگلی ہے تو یہ ایک انگلی کاٹ دی جائے گی اور دوسری انگلی کی دیت واجب ہوگی۔ (عالمگیری ص ۱۳ ج ۶)

مسئلہ ۷۳ : کسی شخص کا ہاتھ پہنچے سے کاٹ دیا اور قاطع سے اس کا قصاص لے لیا گیا اور زخم بھی اچھا ہوگیا، پھر ان میں سے کسی نے دوسرے کا پہنچے سے کٹا ہوا ہاتھ کہنی سے کاٹ دیا تو قصاص نہیں لیا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۳ ج ۶)

مسئلہ ۷۴ : کسی شخص نے کسی کے داہنے ہاتھ کی انگلی جوڑ سے کاٹی پھر اسی قاطع نے کسی دوسرے شخص کا داہنا ہاتھ کاٹ دیا، یا پہلے کسی کا داہنا ہاتھ کاٹا، پھر دوسرے کے داہنے ہاتھ کی انگلی کاٹ دی اس کے بعد دونوں مقطوع آئے اور انھوں نے دعوی کیا تو قاضی پہلے قاطع کی انگلی کاٹے گا اس کے بعد مقطوع الید کو اختیار ہے کہ چاہے تو مابقی ہاتھ کو کاٹ دے اور چاہے تو دیت لے لے اور اگر مقطوع الید پہلے آیا اور اس کی وجہ سے قاطع کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر انگلی کٹا آیا تو اس کے لئے دیت ہے۔ (عالمگیری ص ۱۳ ج ۶، مبسوط ص ۱۴۳ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۳۰۰ ج ۷)

مسئلہ ۷۵ : اگر کسی نے کسی کی انگلی کا ناخن والا پورا کاٹ دیا، پھر دوسرے شخص کی اسی انگلی کو جوڑ سے کاٹ دیا اور پھر تیسرے شخص کی اسی انگلی کو جڑ سے کاٹ دیا اور تینوں انگلیوں کے لئے قاضی کے پاس حاضر ہوئے اور اپنا حق طلب کیا تو قاضی پہلے پورے والے کے حق میں قاطع کا پہلا پورا یعنی ناخن والا کاٹ دے گا پھر درمیان والے کو اختیار دے گا کہ چاہے تو درمیان سے قاطع کی انگلی کاٹ دے اور پہلے پورے کی دیت نہ لے اور چاہے تو انگلی کی دیت میں سے ۳ /۲ دوتہائی لے لے۔ پھر جب درمیان والے نے انگلی کاٹ دی تو تیسرے کو یعنی جس کی انگلی جڑ سے کاٹی گئی تھی اس کو اختیار ہے کہ چاہے تو قاطع کی انگلی جڑ سے کاٹ دے اور دیت کچھ نہ لے اور چاہے تو پوری انگلی کی دیت قاطع کے مال سے لے لے اور اگر تین میں سے قاضی کے پاس ایک آیا اور دو غائب اور جو آیا وہ پہلے پورے والا ہے تو اس کے حق میں قاطع کی انگلی کا پہلا پورا کاٹا جائے گا۔ پورا کاٹنے کے بعد اگر دونوں غائبین بھی آگئے تو ان کو مذکورہ بالا اختیار ہوگا۔ اور اگر پہلے وہ آیا جس کی پوری انگلی کاٹی تھی دوسرے دونوں نہیں آئے اور قاضی نے قاطع کی پوری انگلی کاٹ دی پھر دوسرے دونوں آگئے تو ان کے لئے دیت ہے (عالمگیری ص ۱۳ ج ۶)

مسئلہ ۷۶ : اگر کسی کا پہنچا کاٹ دیا پھر اسی قاطع نے دوسرے شخص کا وہی ہاتھ کہنی سے کاٹ دیا پھر دونوں مقطوع قاضی کے پاس آئے تو قاضی پہنچے والے کے حق میں قاطع کا پہنچا کاٹ دے گا۔ پھر کہنی والے کو اختیار دے گا کہ چاہے تو باقی ہاتھ کہنی سے کاٹ دے اور چاہے تو دیت لے لے اور اگر دونوں مقطوعوں میں سے ایک حاضر ہوا اور دوسرا غائب تو حاضر کے حق میں قصاص کا حکم دے گا۔ (عالمگیری ص ۱۳ ج ۶، مبسوط ص ۱۴۵ ج ۲۶، بدائع صنائع ص ۳۰۱ ج ۷)

مسئلہ ۷۷ : کسی نے کسی کے ہاتھ کی انگلی کاٹ دی، پھر انگلی کٹے نے قاطع کا ہاتھ جوڑ سے کاٹ دیا تو مقطوع الید کو اختیار ہے کہ چاہے تو اس کا ناقص ہاتھ ہی کاٹ دے اور چاہے تو دیت لے لے اور انگلی کا حق باطل ہے۔ (عالمگیری ص ۱۳۰ ج ۶)

مسئلہ ۷۸ (ا) :کسی شخص نے دو آدمیوں کے داہنے ہاتھ قصداً کاٹ دیئے پھر ایک نے بحکم قاضی قصاص لے لیا تو دوسرے کو دیت ملے گی اور اگر دونوں ایک ساتھ قاضی کے پاس آئے تو دونوں کے لئے قصاص میں قاطع کا داہنا ہاتھ کاٹ دے گا اور ہر ایک کو ہاتھ کی نصف دیت بھی ملے گی (قاضی خان ج ۳ ص ۴۳۶، درمختار ردالمختار ج ۵ ص ۴۹۱، بدائع صنائع ج ۷ ص ۲۹۹، درر غرر ص ۹۷ ج ۲)

مسئلہ ۷۸ (ب):کسی شخص نے دو افراد کے سیدھے ہاتھ قصداً کاٹ دیئے اور قاضی نے دونوں کے قصاص میں قاطع کا ہاتھ کاٹنے اور پا نچ ہزار درہم ہاتھ کی دیت دینے کا حکم دیا۔ دونوں نے پانچ ہزار درہم پر قبضہ کر لیا پھر ایک نے معاف کر دیا تو جس نے معاف نہیں کیا ہے۔ اس کو نصف دیت ید، یعنی ڈھائی ہزار درہم ملیں گے۔ (قاضی خان ص ۴۳۶ ج ۳، شامی ص ۴۹۱ ج ۵، عالمگیری)

مسئلہ ۷۹ : کسی نے دو آدمیوں کے داہنے ہاتھ قصداً کاٹ دیئے۔ قاضی نے دونوں کے حق میں قصاص اور دیت کا حکم دیا دیت پر قبضہ سے پہلے ایک نے معاف کر دیا تو دوسرے کو صرف قصاص کا حق ہے۔ دیت معاف ہو جائے گی۔ (درمختار و شامی ص ۴۹۱ ج۵، عالمگیری ص ۱۴ ج ۶)

مسئلہ ۸۰ : کسی کا ناخن والا پورا قصداً کاٹ دیا وہ اچھا ہوگیا اور قصاص نہیں لیا گیا تھا کہ اسی انگلی کا اور ایک پورا کاٹ دیا تو قصاص میں ناخن والا پورا کاٹ دیا جائے گا اور دوسرے پورے کی دیت ملے گی اور اگر پہلا زخم اچھا نہیں ہوا تھا کہ دوسرا پورا کاٹ دیا تو دونوں پورے ایک ساتھ کاٹ کر قصاص لیا جائے۔ (عالمگیری ص ۱۲ ج ۶)

مسئلہ ۸۱ : کسی کا ناخن والا پورا قصدا کاٹ دیا اور زخم اچھا ہوگیا اور اس کا قصاص بھی لے لیا گیا پھر اسی قاطع نے اسی انگلی کا دوسرا پورا کاٹ دیا اور زخم اچھا ہوگیا اور اس کا قصاص بھی لیا جائے گا۔ یعنی قاطع کا دوسرا پورا پورا کاٹ دیا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۴ ج ۶، بدائع صنائع ص ۳۰۳ ج ۷)

مسئلہ ۸۲ : کسی شخص کا نصف پورا قصداً ٹکڑے کر کے کاٹ دیا اور زخم اچھا ہوگیا پھر بقیہ پورا جوڑ سے کاٹ دیا تو اس صورت میں قصاص نہیں ہے اور اگر درمیان میں زخم اچھا نہیں ہوا تھا تو جوڑ سے پورا کاٹ کر قصاص لیا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۴ ج ۶، بدائع صنائع ص ۳۰۲ ج ۷)

مسئلہ ۸۳ : قصدا کسی کی انگلیاں کاٹ دیں پھر زخم اچھا ہونے سے پہلے جوڑ سے پہنچا کاٹ دیا تو قاطع کا پہنچا جوڑ سے کاٹ کر قصاص لیا جائے گا، انگلیاں نہیں کاٹی جائیں گی اور اگر درمیان میں زخم اچھا ہوگیا تھا تو ا نگلیوں میں قصاص لیا جائے گا اور پہنچے کا انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (عالمگیری ص ۱۴ ج ۶)

مسئلہ ۸۴ : کسی شخص کی انگلی کا ناخن والا پورا قصداً کاٹ دیا، پھر زخم اچھا ہونے سے پہلے دوسرے پورے کا نصف کاٹ دیا تو قصاص واجب نہیں ہے اور اگر درمیان میں زخم اچھا ہوگیا تھا تو پہلے پورے کا قصاص لیا جائے گا اور باقی کی دیت لی جائے گی (عالمگیری ص ۱۴ ج ۶)

مسئلہ ۸۵ : اگر کسی کی انگلی قصداً کاٹ دی اور اس کی وجہ سے اس کی ہتھیلی شل ہوگئی تو انگلی کا قصاص نہیں ہے۔ ہاتھ کی دیت لی جائے گی (عالمگیری ص ۱۴ ج ۶)

مسئلہ ۸۶ : کسی کی انگلی قصداً کاٹی اور چھری نے پھسل کر دوسری انگلی کو بھی کاٹ دیا تو پہلی کا قصاص لیا جائے گا اور دوسری کی دیت لی جائے گی۔ (عالمگیری ص ۱۵ ج ۶، بدائع صنائع ص ۳۰۶ ج ۷)

مسائل متفرقہ

مسئلہ ۸۷ : چند آدمیوں نے ایک ہی چھری کو پکڑ کر کسی شخص کا کوئی عضو قصداً کاٹ دیا تو قصاص نہیں لیا جائے گا( درمختار و شامی ص ۴۹۱ ج ۵، طحطاوی علی الدر ص ۲۷۱ ج ۴، درر غرر شرنبلانی ص ۹۷ ج ۲)

مسئلہ ۸۸ : عورت اور مرد اگر ایک دوسرے کے اعضا کاٹ دیں تو ان میں قصاص نہیں ہے اسی طرح اگر غلام اور آزاد ایک دوسرے کا عضو کاٹ دیں یا دو غلام ایک دوسرے کا کوئی عضو کاٹیں تو قصاص نہیں ہے۔ چونکہ ان کے اعضا میں مماثلت نہیں ہے۔ (درمختار و شامی ص ۴۸۸ ج ۵، بدائع صنائع ص ۳۲ ج ۷)

مسئلہ ۸۹ : ذکر کو اگر جڑ سے کاٹ دیا یا صرف پوری سپاری کو کاٹ دیا تو قصاص لیا جائے گا یعنی قاطع کا ذکر جڑ سے کاٹ دیا جائے گا اور سپاری کی صورت میں سپاری کاٹی جائے گی اور درمیان سے کاٹے جانے کی صورت میں قصاص نہیں ہے۔ چونکہ اس صورت میں مماثلت ممکن نہیں ہے۔ (شامی و درمختار ص ۴۸۹ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۱۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۶ ج ۸، قاضی خان علی الہندیہ ص ۴۳۴ ج ۳، طحطاوی علی الدر ص ۲۷۰ ج ۴، مجمع الانہر ص ۶۲۶ ج ۲)

مسئلہ ۹۰ : خصی یا عنین کا ذکر کاٹ دیا تو اس میں انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (شامی و د رمختار ص ۴۸۹ ج ۵)

مسئلہ ۹۱ : بچے کا ذکر کاٹ دیا گیا۔ اگر انتشار ہوتا تھا، تو قصداً کاٹنے میں قصاص اور خطائً کاٹنے میں دیت واجب ہوگی اور اگر انتشار نہیں ہوتا تھا تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (شامی و درمختار ص ۴۸۹ ج ۵)

مسئلہ ۹۲ : اگر عورت نے کسی کا ذکر کاٹ دیا تو اس میں قصاص نہیں ہے (شامی ص ۴۸۹ ج ۵)

مسئلہ ۹۳ : اگر کسی نے کسی کا خصیہ پکڑ کر مسل دیا جس سے وہ نامرد ہوگیا تو دیت لازم ہوگی۔ (بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۴ ج ۶)

فصل فی الفعلین

شخص واحد میں قتل اور قطع عضو کا اجتماع

مسئلہ ۹۴ : کسی شخص کو عضو کاٹ کر قتل کر دیا جائے تو اس میں عقلی وجوہ سولہ نکلیں گی مثلاً دونوں فعل یعنی قتل اور قطع عمداً ہوں گے یا خطائً یا قتل خطا ہوگا اور قطع عمداً یا قتل عمداً ہوگا اور قطع خطائً تو یہ چار صورتیں ہوئیں ۔ پھر ہر ایک صورت میں د ونوں فعلوں کے درمیان میں صحت واقع ہوئی یا نہیں تو یہ آٹھ صورتیں ہوگئیں ۔ پھر یہ دونوں فعل ایک شخص سے صادر ہوں گے یا دو اشخاص سے اس طرح کل سولہ صورتیں بنیں ۔ ان سولہ صورتوں میں سے آٹھ صورتیں وہ ہیں جن میں قاطع اور قاتل دو مختلف اشخاص ہوں ۔ ان کاحکم یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ اس کے فعل کے بموجب قصاص یا دیت لی جائے گی۔ (درمختار و شامی ص ۴۹۴ ج ۵)

مسئلہ ۹۵ : بقیہ آٹھ صورتیں جن میں فاعل ایک شخص ہو ان کا حکم یہ ہے کہ نمبر (۱) قطع اور قتل جب دونوں قصداً ہوں اور درمیان میں صحت واقعہ ہوگئی ہو تو دونوں کا قصاص لیا جائے گا۔ (شامی ص ۴۹۴ ج ۵)

مسئلہ ۹۶ : قتل و قطع جب دونوں قصداً ہوں اور درمیان میں صحت واقع نہ ہوئی ہو تو ولی کو اختیار ہے کہ چاہے تو پہلے عضو کاٹے، پھر قتل کرے اور چاہے تو قتل پر اکتفا کرے (عنایہ و فتح القدیر ص ۲۸۳ ج ۸)

مسئلہ ۹۷ : قطع اور قتل اگر دونوں خطائً ہوں اور درمیان میں صحت ہوگئی تو دونوں کی دیت لی جائے گی۔ (تبیین الحقائق ص ۱۱۷ ج ۶)

مسئلہ ۹۸ : قطع اور قتل ، اگر دونوں خطائً ہوں اور درمیان میں صحت واقع نہ ہوئی ہو تو صرف دیت نفس واجب ہوگی (تبیین ص ۱۱۷ ج ۶)

مسئلہ ۹۹ : اگر قطع قصداً ہو اور قتل خطا ئً اور درمیان میں صحت واقع ہوگئی ہو تو قطع کا قصاص اور قتل کی دیت لی جائے گی۔ (تبیین الحقائق ص ۱۱۷ ج ۶)

مسئلہ ۱۰۰ : اگر قطع عمدا ًاور قتل خطاء ًہو اور درمیان میں صحت واقع نہ ہوئی ہو تو قطع میں قصاص اور قتل میں دیت لی جائے گی۔ (تبیین ص ۱۱۷ ج ۶)

مسئلہ ۱۰۱ : اگر قطع خطائً اور قتل عمداً ہو اور درمیان میں صحت واقع ہوگئی ہو تو قطع کی دیت اور قتل کا قصاص لیا جائے گا۔ (تبیین ص ۱۱۷ ج ۶)

مسئلہ ۱۰۲ : اگر قطع خطاً اور قتل عمدا ًہو اور درمیان میں صحت واقع نہ ہوئی ہو تو، قطع کی دیت اور قتل کا قصاص واجب ہوگا (تبیین ص ۱۱۷ ج ۶)

مسئلہ ۱۰۳ : اگر کسی شخص کو نوے کوڑے ایک جگہ مارے وہ جگہ اچھی ہوگئی ہو اور ضربات کے نشانات بھی باقی نہ رہے پھر دس کوڑے دوسری جگہ مارے اس سے وہ مرگیا تو اس صورت میں صرف دیت نفس واجب ہے (درمختار و شامی ص ۴۹۴ ج ۵، فتح القدیر ص ۲۸۴ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۱۸ ج ۶، عنایہ ص ۲۸۴ ج ۸)

مسئلہ ۱۰۴ : اگر کسی شخص کو نوے کوڑے مارے اور اس کے زخم اچھے ہوگئے مگر نشانات باقی رہ گئے پھر دس کوڑے مارے جن سے وہ مرگیا تو دیت نفس اور انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا۔ (تبیین الحقائق ص ۱۱۸ ج ۶)

مسئلہ ۱۰۵ : اگر کسی نے کسی کا عضو کاٹا یا اس کو زخمی کر دیا اور زخمی نے جنایت کرنے والے کو معاف کر دیا اور اس کے بعد وہ زخمی اس زخم یا قطع عضو کی وجہ سے مرگیا تو اس میں چار صورتیں بنیں گی۔

(۱) یہ جنایت اگر قصداً تھی اور معاف کرنے والے نے کہا کہ میں نے قطع عضو اور جنایت اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کو معاف کر دیا تو عام معافی ہو جائے گی اور جانی کے ذمے کچھ واجب نہ ہوگا۔ (طحطاوی ص ۲۷۳ ج ۴، مجمع الانہر ص ۶۳۰ ج ۲، دررغرر ص ۹۸ ج ۲)

(۲) اور اگر معاف کرنے والے نے کہا کہ میں نے قطع عضو اور جنایت کو معاف کر دیا اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کا کچھ ذکر نہیں کیا تو استحساناً دیت واجب ہوگی۔ (طحطاوی علی الدر ص ۲۷۳ ج ۴، بحرالرائق ص ۳۱۶ ج ۸)

(۳) اور اگر قطع عضو یا زخم خطائً تھا اور مرنے والے نے یہ کہا کہ میں نے قطع عضو سے معاف کر دیا اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کا ذکر نہیں کیا تو سرایت کی معافی نہیں ہوگی اور دیت نفس واجب ہوگی۔

(۴) اور اگر قطع عضو یا زخم خطاء تھا اور مرنے والے نے کہا کہ میں نے قطع عضو اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات کو بھی معاف کر دیا تو بالکل معافی ہو جائے گی۔ اور جانی پر کچھ واجب نہ ہوگا۔ (عالمگیری ص ۲۶ ج ۲، فتح القدیر و عنایہ ص ۲۸۵ ج ۸، درمختار و شامی ص ۴۹۵ ج ۵، تبیین الحقائق ص ۱۱۸ ج ۲، بحرالرائق ص ۳۱۶ ج ۸)

مسئلہ ۱۰۶ : اگر ماں نے اپنے بچے کو تادیب کے لئے مارا اور بچہ مرگیا تو ماں ضامن ہے (شامی ص ۴۹۹ ج ۵، طحطاوی ص ۲۷۵ ج ۴)

متفرقات

مسئلہ ۱۰۷ : کسی نے کسی شخص کے عمدا تیر مارا اور وہ تیر اس شخص کے جسم کے پار ہو کر کسی دوسرے شخص کو لگ گیا اور دونوں مرگئے تو پہلے کا قصاص لیا جائے گا اور دوسرے کی دیت قاتل کے عاقلہ پر واجب ہوگی (درمختار و شامی ص ۴۹۲ ج ۵، طحطاوی ص ۲۷۲ ج ۵، طحطاوی ص ۲۷۲ ج ۴، بدائع صنائع ص ۳۰۶ ج ۷، دررغرر ص ۹۷ ج ۲، مجمع الانہر و درالملتقی ص ۶۲۹ ج ۲)

مسئلہ ۱۰۸ : کسی شخص پر سانپ گرا، اس نے اس کو پھینک دیا اور وہ دوسرے شخص پر جاگرا اسی طرح اس نے بھی پھینکا اور وہ تیسرے شخص پر جاگر اور اس کو کاٹ لیا اور وہ مرگیا تو اگر سانپ نے گرتے ہی کاٹ لیا تھا تو اس آخری پھینکنے والے کے عاقلہ پر دیت ہے اور اگر گرنے کے کچھ دیر بعد کاٹا تو کسی پر کچھ نہیں ہے (درمختار و شامی ص ۴۹۲ ج ۵، طحطاوی ص ۲۷۲ ج ۴)

مسئلہ ۱۰۹ : کسی شخص نے راستہ میں سانپ یا بچھو ڈال دیا اور ڈالنے کے فورا بعد اس نے کسی کو کاٹ لیا اور وہ مرگیا تو ڈالنے والے کے عاقلہ پر دیت ہے اور اگر کچھ دیر کے بعد یا اپنی جگہ سے ہٹ کر کاٹا تو کسی پر کچھ نہیں ۔ (درمختار و شامی ص ۴۹۲ ج ۵، طحطاوی علی الدر ص ۲۷۲ ج ۴)

مسئلہ ۱۱۰ : کسی شخص نے راستے میں تلوار رکھ دی اور کوئی اس پر گر پڑا اور مرگیا اور تلوار بھی ٹوٹ گئی تو مرنے والے کی دیت تلوار رکھنے والے پر ہے اور تلوار کی قیمت مرنے والے کے مال سے ادا کی جائے گی۔ (درمختار و شامی ص ۴۹۳ ج ۵، طحطاوی ص ۲۷۲ ج ۴)

مسئلہ ۱۱۱ : عمدا ًقتل کرنے والے نے ایسے شخص کے ساتھ مل کر قتل کیا جس پر قصاص نہیں ہوتا۔ مثلاً اجنبی نے باپ کے ساتھ مل کر بیٹے کو قتل کیا یا عاقل نے مجنون کے ساتھ مل کر، یا بالغ نے نابالغ کے ساتھ مل کر قتل کیا تو کسی پر قصاص نہیں ہے (درمختار و شامی ص ۴۹۳ ج ۵، طحطاوی ص ۲۷۲ ج ۴)

مسئلہ ۱۱۲ : اگر کسی نے اپنی بیوی یا باندی کے ساتھ کسی کو ناجائز حالت میں دیکھا اور للکارنے کے باوجود نہیں بھاگا تو اس نے اس کو قتل کر دیا تو اس پر قصاص بھی نہیں اور کوئی گناہ بھی نہیں ہے (درمختار ص ۴۹۳ ج ۵، طحطاوی علی الدر ص ۲۷۲ ج ۴)

مسئلہ ۱۱۳ : کسی شخص نے کسی بچے کو اپنا گھوڑا دیا کہ اس کو باندھ دے اور گھوڑے نے لات مار دی جس سے بچہ مرگیا تو گھوڑا دینے والے کے عاقلہ پر دیت ہے۔ اسی طرح بچہ کو لاٹھی یا کوئی اسلحہ دیا اور کہا کہ اس کو پکڑے رہو بچہ تھک گیا اور وہ اسلحہ اس کے جسم کے کسی حصہ پر گر پڑا جس کے صدمے سے بچہ مرگیا اسلحہ والے کے عاقلہ پر بچہ کی دیت ہے۔ (درمختار و شامی ص ۴۹۳ ج ۵، طحطاوی ص ۲۷۲ ج ۴)

مسئلہ ۱۱۴ : اگر کسی نے کسی کا پورا حشفہ (سپاری) قصداً کاٹ دیا تو اس میں قصاص ہے اور اگر بعض کاٹا تو قصاص نہیں ہے (عالمگیری ص ۱۵ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۱۲ ج ۶، بحرالرائق ص ۳۰۶ ج ۸، درمختار و شامی ص ۴۸۹ ج ۵، مجمع الانہر ص ۶۲۶ ج ۲، ہدایہ ص ۵۵۵ ج ۴، بدائع صنائع ص ۳۰۸ ج ۷)

مسئلہ ۱۱۵ : کوئی بچہ دیوار پر چڑھا ہوا تھا کہ کوئی شخص نیچے سے اچانک چیخا جس سے بچہ گر کر مرگیا تو اس چیخنے والے پر دیت ہے۔ اور اسی طرح اگر اچانک کسی شخص نے چیخ ماری جس سے کوئی شخص مرگیا تو اس پر اس کی دیت واجب ہے (درمختار و شامی ص ۴۹۳ ج ۵)

مسئلہ ۱۱۶ : کسی نے صورت تبدیل کر کے بچہ کو ڈرایا جس سے بچہ ڈر کر پاگل ہوگیا تو ڈرانے والا دیت دے گا۔ (درمختار و شامی ص ۴۹۳ ج ۵)

مسئلہ ۱۱۷ : کسی نے کسی سے کہا پانی یا آگ میں کود جا اور وہ کود گیا اور مرگیا تو یہ دیت دے گا۔ (شامی ص ۴۹۳ ج ۵، طحطاوی ص ۲۷۲ ج ۴)

مسئلہ ۱۱۸ : کسی نے کسی کو زخمی کر دیا اور وہ کمائی کرنے کے قابل نہ رہا تو زخمی کرنے والے پر اس کا نفقہ، علاج معالجہ کے مصارف واجب الادا ہوں گے۔ (درمختار ص ۴۹۳ ج ۵)

مسئلہ ۱۱۹ : کسی ظالم حاکم نے پولیس سے کسی کو اتنا پٹوایا کہ وہ کمائی سے عاجز ہوگیا تو اس کا نفقہ اور علاج کے مصارف اس حاکم پرلازم ہیں ۔ (درمختار و شامی ص ۴۹۴ ج ۵)

مسئلہ ۱۲۰ : کسی کے تلوار مارنا چاہتا تھا اور کسی نے تلوار کو پکڑ لیا تلوار والے نے تلوار کھینچی جس سے پکڑنے والے کی انگلیاں کٹ گئیں ۔ اگر جوڑ سے کٹی ہیں تو قصاص ہے ورنہ دیت لازم ہے (بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۳ ج ۶)

مسئلہ ۱۲۱ : زید نے عمرو کا ہاتھ کاٹا اور اس کے قصاص میں زید کا ہاتھ کاٹا گیا پھر عمرو ہاتھ کاٹنے کی وجہ سے مرگیا تو زید کو قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ (طحطاوی ص ۲۷۴ ج ۴، درمختار و شامی ص ۴۹۷ ج ۵، تبیین ص ۱۲۰ ج ۶، عالمگیری ص ۱۵ ج ۶، فتح القدیر و عنایہ ص ۲۹۰ ج ۸، مجمع الانہر ص ۶۳۲ ج ۲)

مسئلہ ۱۲۲ : زید نے عمرو کا ہاتھ کاٹا اور اس کے قصاص میں زید کا ہاتھ کاٹا گیا اور اس ہاتھ کے کاٹنے کی وجہ سے زید مرگیا، تو اگر زید کا ہاتھ بلاحکم حاکم کاٹا گیا ہے تو عمرو کے عاقلہ پر زید کی دیت واجب ہوگی اور اگر حاکم کے حکم سے ہاتھ کاٹا گیا ہے تو کچھ لازم نہیں ہوگا۔ (درمختار و شامی ص ۴۹۷ ج ۵، عالمگیری ص ۱۵ ج ۶، تبیین الحقائق ص ۱۲۰ ج ۶، طحطاوی ص ۲۷۵ ج ۴، مجمع الانہر ص ۶۳۲ ج ۲)

مسئلہ ۱۲۳ : کسی شخص نے کسی کو قتل کر دیا مقتول کے ولی نے قاتل کا ہاتھ کاٹ لیا اس کے بعد قاتل کو معاف کر دیا تو اس ولی پر ہاتھ کاٹنے کی دیت لازم ہوگی۔ (بحرالرائق ص ۳۱۹ ج ۸، تبیین الحقائق ص ۱۲۱ ج ۶، شامی و درمختار ص ۴۹۸ ج ۵)

مسئلہ ۱۲۴ : اسی طرح اگر معلم نے بچہ کو باپ کی اجازت کے بغیر مارا اور بچہ مرگیا تو معلم پر ضمان ہے اور اگر باپ کی اجازت سے مارا اور بچہ مرگیا تو ضمان نہیں ہے اور اسی طرح شوہر نے اپنی بیوی کو تادیب کے لئے مارا اور وہ مرگئی تو شوہر پر ضمان ہے (درمختار و شامی ص ۴۹۸ ج ۵، طحطاوی ص ۲۷۵ ج ۴، مجمع الانہر ص ۶۳۲ ج ۲)

مسئلہ ۱۲۵ : اگر قاضی نے چور کا ہاتھ کاٹا اور چور مرگیا تو قاضی پر کچھ نہیں ہے (درمختار و شامی ص ۴۹۷ ج ۵، طحطاوی ص ۲۷۵ ج ۴، مجمع الانہر ص ۶۳۲ ج ۲)

مسئلہ ۱۲۶ : کسی اجنبی عورت کو اس طرح مارا کہ اس کے مخرج بول و حیض ایک ہوگئے۔ یا مخرج حیض و مقعد ایک ہوگئے تو اگر وہ پیشاب کو روک سکتی ہے تو جانی پر تہائی دیت واجب ہوگی اور اگر پیشاب کو نہیں روک سکتی ہے تو جانی پر کل دیت واجب ہوگی۔ (درمختار و شامی ص ۴۹۹ ج ۵، طحطاوی ص ۲۷۵ ج ۴)

مسئلہ ۱۲۷ : اگر کسی شخص نے باکرہ سے زنا کیا جس سے اس کے مخرجین ایک ہوگئے، اگر یہ فعل عورت کی رضامندی سے تھا تو دونوں کو حد لگائی جائے گی اور تاوان نہیں ہوگا اور اگر بالجبر تھا تو مرد پر حد اور دیت دونوں واجب ہیں ۔ (درمختار و شامی ص ۴۹۹ ج ۵)

مسئلہ ۱۲۸ : اگر اپنی زوجہ بالغہ سے وطی کی جو اس کی استطاعت رکھتی تھی اور اس کی وجہ سے مخرجین کی درمیانی جگہ پھٹ کر ایک ہوگئی تو شوہر پر کوئی تاوان نہیں ہے اور اگر زوجہ نابالغہ سے یا ایسی زوجہ سے جو اس کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔ یا کسی عورت سے جبراً وطی کی اور مخرجین ایک ہوگئے یا موت واقع ہوگئی تو عاقلہ پر دیت لازم ہوگی۔ (درمختار و شامی ص ۴۹۹ ج ۵)

مسئلہ ۱۲۹ : جراح نے آنکھ کا آپریشن کیا اور آنکھ پھوٹ گئی اور جراح اس فن کا ماہر نہ تھا تو اس پر نصف دیت لازم ہے (درمختار و شامی ص ۴۹۹ ج ۵)

مسئلہ ۱۳۰ : بچہ چھت سے گر پڑا اور اس کا سر پھٹ گیا اکثر جراحوں نے یہ رائے دی کہ اگر اس کا آپریشن کیا گیا تو مر جائے گا اور ایک نے کہا کہ اگر آپریشن نہیں کیا گیا تو مر جائے گا لہذا میں آپریشن کرتا ہوں اور اس نے آپریشن کر دیا اور دو ایک دن بعد بچہ مرگیا تو اگر آپریشن صحیح طریقے پر ہوا اور ولی کی اجازت سے ہوا تو جراح ضامن نہیں ہے۔ اور اگر ولی کی اجازت کے بغیر تھا یا غلط طریقے سے ہوا تھا تو ظاہر یہ ہے کہ قصاص لیا جائے گا۔ (درمختار و شامی ص ۴۹۹ ج ۵)

مسئلہ ۱۳۱ : کسی کا ناخن اکھیڑ دیا اگر پہلے جیسا دوبارہ اگ آیا تو کچھ نہیں ہے اور اگر نہ اگا، یا عیب دار اگا تو انصاف کے ساتھ تاوان لیا جائے گا لیکن عیب دار اگنے کا تاوان نہ اگنے کے تاوان سے کم ہوگا۔ (بزازیہ علی الہندیہ ص ۳۹۳ ج ۶)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button