ARTICLESشرعی سوالات

اضطباع کتنے پھیروں میں کرے ؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ طوافِ عمرہ میں ’’اضطباع‘‘ تمام پھیروں میں کیا جائے یا صرف رَمل کی طرح شروع کے تین پھیروں میں کیونکہ ایک شخص بحث کر رہا تھا کہ ’’اضطباع‘‘ صرف تین پھیروں میں ہے جب کہ ہم نے علماء کرام سے سنا تھا کہ ’’اضطباع‘‘ تمام پھیروں میں ہے ؟

(السائل : محمد جاوید از لبیک حج اینڈ عمرہ سروسز، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ’’اضطباع‘‘ جس طواف میں مسنون ہے اس کے تمام پھیروں میں مسنون ہے نہ کہ صرف تین میں چنانچہ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

و فی ’’شرح اللّباب‘‘ : و اعلم أَنَّ الإضطباعَ سنّۃٌ فی جمیع أشواطِ الطَّوافِ کما صرَّحَ بہ ’’ابنُ الضِّیاء‘‘ (80)

یعنی، ’’شرح اللباب‘‘ (81) میں ہے اور جان لے کہ ’’اضطباع‘‘ طواف کے تمام پھیروں میں سنّت ہے جیسا کہ (قاضی و مفتی حرمِ مکہ علامہ ابو البقاء محمد بن احمد بن محمد ) ابن الضّیاء (حنفی متوفی 854ھ) نے (اپنی کتاب ’’البحر العمیق‘‘ میں ) (82) اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ اور مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ لکھتے ہیں :

سیوم اضطباع در جمیع اشواط طوافے کہ بعد از وی سعی است اگرچہ طواف حج باشد یا عمرہ (83)

یعنی، تیسری سنت ہر اُس طواف کے تمام پھیروں میں اضطباع ہے کہ جس کے بعد سعی ہے اگرچہ طوافِ حج ہو یا طوافِ عمرہ۔ اور ’’اضطباع‘‘ میں تین پھیروں کا وہم رمل کی وجہ سے پیدا ہوا کیونکہ رمل صرف تین پھیروں میں مسنون ہے اس لئے قائل کو شبہ ہوا کہ شاید ’’اضطباع‘‘ بھی صرف تین پھیروں میں ہے چنانچہ ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ

’’والاضطباع‘‘ أی : فی جمیعِ أشواطِ الطّواف الّذی سنَّ فیہ کما صرَّحَ بہ ’’ابنُ الضِّیاء‘‘ خلافاً لما توہَّمہُ قولہ : ’’و الرّمل فی الثّلاثۃ الأول‘‘ لأنَّ المتبادرَ أنَّ الظرفَ قیدٌ لہما(84)

یعنی، ’’اضطباع‘‘ مسنون ہے یعنی اس طواف کے تمام پھیروں میں جس میں یہ مسنون ہے جیسا کہ (قاضی و مفتی حرمِ مکہ علامہ ابو البقاء محمد بن احمد بن محمد) ابن الضّیاء (حنفی) نے اِس کی تصریح فرمائی برخلاف اس کے جو (صاحبِ لُباب کے ) اِس قول سے اِس (یعنی تین پھیروں میں اضطباع) کا وہم کیا (اور وہ قول یہ ہے کہ) ’’اور رمل کے پہلے تین پھیروں میں ‘‘ کیونکہ متبادر یہ ہے کہ ظرف دونوں (یعنی اضطباع و رمل) کے لئے قید ہے ۔ لہٰذا تمام یا بعض پھیروں میں ترکِ اضطباع مکروہ ہے چنانچہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی لکھتے ہیں :

سنت است اضطباع درجمیعِ اشواط طواف پس اگر ترک کرد اورا در بعض اشواط مکروہ باشد (85)

یعنی، طواف کے پھیروں میں اضطباع سنت ہے پس اگر اسے بعض پھیروں میں ترک کر دیا تو مکروہ ہوا۔ اور یہاں کراہت سے مراد کراہت تنزیہی ہو گی کہ ترکِ سنت کی وجہ سے لازم آئی ہے اور مُرتکب پر اسائت لازم آئے گی۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت، 26 ذوالقعدہ1430ھ، 14 نوفمبر2009 م 650-F

حوالہ جات

80۔ ردّ المحتار علی الدّرّ المختار، کتاب الحج، مطلب : فی طواف القدوم، تحت قولہ : قبل شروعہ، 3/579

81۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب دخول مکۃ، فصل فی صفۃ الشّروع فی الطّواف، ص183

82۔ البحر العمیق، الباب العاشر فی دخول مکۃ المشرفۃ إلخ، فصل فی بیان أنواع الأطوفۃ، سُنَن الطّواف، 2/1168

83۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم دربیان طواف و انواع آن، فصل دویم دربیان شرائط صحۃ طواف ، أمّا سُنَن طواف، ص121

84۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب أنواع الأطوفۃ، فصل فی سُنَن الطّواف، ص225

85۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم در بیان طواف و انواع آن، فصل سیوم در بیان کیفیۃ اداء طواف، ص126

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button