شرعی سوالات

اصل رقم امانتاً رکھی جائے تو اس پر کوئی منافع لینا حرام ہے

اصل رقم امانتاً رکھی جائے تو اس پر کوئی منافع لینا حرام ہے

مالی جرمانہ  شریعت میں جائز نہیں

سوال :

زید نے اپنے گاؤں میں آج سے چار سال قبل جب کہ مکمل حالات خراب ہو نے کی وجہ سے مسلمانوں کی عزت آبرو خطرے میں تھی نوجوانوں کی ایک انجمن قائم کی جس کی غرض صرف یہ تھی کہ جتنے پیسے اکٹھا ہونگے اس پیسے سے مسلمانوں پر جو آفت پڑے گی دور کر نے کی کوشش کی جائیگی، تقریباً  تیس بتیس سور وپے سال بھر میں اکٹھا ہو گئے مگر  ابھی کوئی  ضرورت ایسی نہیں آئی کہ  اس پیسے سے مسلمانوں کی اعانت کی جائے۔ انجمن نے فیصلہ کیا کہ اس پیسے کو بینک میں جمع کر دیا جائے پھر دوبارہ انجمن نے یہ فیصلہ کیا کہ اس پیسہ کو نفع پر دیا جائے تو بینک سے زیادہ نفع ملے گا ، یہ طے ہو گیا اور انجمن نے ایک فرد کو نفع پر دے دیا، پھر واپس آیا پھر دوسرے شخص کو نفع پردے دیا گیا، پھر اس نے بھی ششماہی کے بعد واپس کیا جس سے نفع ہزار بارہ سور و پے وصول ہوئے۔ زید نے بعد میں اس مسئلہ کو در یافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ نفع نہیں سود ہے، پھر زید نے سب کو بلا کر مطلع کیا اور نفع پر پیسہ دینا بند کر دیا، پھر انجمن کا خزانچی زید کے پاس مع دو نفر کے لا کر پیسہ زبردستی دے گیا بوجہ مجبوری زید نے پیسہ وصول کر لیا اور بطور امانت ایک دوسرے کے پاس رکھ دیا، پیسہ دیتے وقت زید سے خزانچی نے یہ کہا تھا کہ صرف ایک ماہ کے لیے اپنے پاس رکھو پھر ایک ماہ کے اندر یا بعد میں بینک میں ڈال دیا جائیگا ، زید نے کہا ٹھیک ہے میں بھی آپ کے ساتھ اس کام میں شریک رہونگا کہ ایک ماہ بعد بینک میں پیسہ ڈال دیا جاۓ ۔ زید کوا تنا وقت نہیں ملتا تھا کہ وہ ان پیسوں کو بینک میں جمع کر تا یا زید کی یہ کاہلی اور سستی کہہ لیجئے ، بہر کیف زید اپنے وطن سے دور رہ کر ملازمت کر رہا ہے، کبھی کبھی گھر پہنچتا ہے اس وقت گھر یلو ضروریات ہی سے اس کو فرصت نہیں ملتی اور اتنی مدت میں انجمن کے کسی رکن نے بھی نہ کہا کہ پیسے بینک میں جمع کر دیئے جائیں۔ آج انجمن کا ہر فرد زید سے مطالبہ کر رہا ہے کہ بجائے ساڑھے بیالیس سو روپے کے دس ہزار رو پے آپ نفع دیجئے ،زید نے حجت قائم کی چونکہ زید نے روپیہ بینک میں جمع نہیں کیا تھا اور اپنے پاس بھی نہیں رکھا تھا بلکہ بطور امانت ایک دوسرے کے پاس رکھ دیا تھا آج زید سے اتنا پیسا طلب کرنا نفع نہیں ہے بلکہ سود ہے ۔کیا واقعی انجمن کا چندہ  سے جمع شدہ رقوم سےیہ  مطالبہ شرعا مشروع ہے؟

جواب:

            بر تقد یر صدق مستفتی زید سے اصل رقم کے علاوہ مزید دس ہزار روپیوں کا مطالبہ ناجائز و حرام ہے، کیونکہ حسب بیان سائل خزانچی نے اصل رقم زید کے پاس امانت رکھی تھی اور امانت دار جب رقم پوری ادا کر دے تو اس سے مزید کسی منافع کا مطالبہ ظلم و زیادتی ہے اگر امانت دار پر زائد رقم واجب ہوتی تو خزانچی بھی تو امانت دار ہی ہوتا ہے اس سے بھی زائد رقم کا مطالبہ ضروری ہوتا ، کیونکہ کچھ دنوں اس کے پاس بھی تو وہ رقم امانت ہی رہی ہے لیکن اللہ ور رسول جل جلالہ  و صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم  کا یہ حکم نہیں۔ اور اگر یہ خیال ہو کہ زید نے اس رقم کو ڈاکخانہ میں جمع نہ کر کے کوتاہی کی ہے اس لیے اس پر دیں ہزار جرمانہ لگایا جا رہا ہے تو

(اولاً) یہ جرم تنہا زید کا نہیں خزانچی صاحب بھی اس جرم میں زید کے ساتھ شریک ہیں سائل کا بیان ہے کہ خزانچی نے رقم دیتے وقت زید سے ایک مہینہ کے بعد بینک میں ڈالنے کا وعدہ کیا تھا ،تو تنہا زید پرہی کیوں جرمانہ لگایا جا تا ہے۔

( ثا نیاً)  یہ کوتاہی کوئی اتنا بڑا جرم نہیں جس کی اتنی بڑی سزا دی جائے۔

 ( ثالثاً ) مالی جرمانہ  شریعت میں جائز نہیں۔

(فتاوی بحر العلوم، جلد4، صفحہ80، شبیر برادرز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button