ARTICLES

اشہرحج میں عمرہ ادا کرنا اور مکہ مکرمہ کو وطن اقامت بنا لینا

استفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مدینہ شریف کی پیدائش ہے والدین یہاں رہتے ہیں اب وہ ذوالقعدہ و ذوالحجہ میں مکہ شریف میں رہے گا لیکن اسے کسی کمپنی نے کام کے لئے بلایا ہے ، ممکن ہے اس کو حج کی اجازت نہ ملے ، کام کینٹین کا ہے ، ایسی صورت میں کیا اس پر حج فرض ہو گیا؟ اور اگلے سال اس کو یہ حج ادا کرنا ہو گا یا ابھی جب وہ جائے گا عمرہ ادا کرے گا تو اب وہ مکی ہو جائے گا ، اس سال دوبارہ حج نہیں کر سکتا یا عمرہ ادا کر لے اور حج میں اگر موقع ملے تو حج بھی کر لے تو اس کا یہ کون سا حج ہو گا؟

(السائل : اقبال صوفی، مدینہ منورہ)

متعلقہ مضامین

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اس پر حج فرض ہو جائے گا اور اگر وہ اسی سال حج کرتا ہے تو اس پر دم تمتع لازم ائے گا کیونکہ حج کرنے کی صورت میں یہ متمتع قرار پائے گا، چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن عبد اللہ بن ابراہیم سندھی حنفی متوفی 993ھ لکھتے ہیں :

لانہ قال فاذا قدم الکوفی بعمرۃ فی اشہر الحج، و فرغ منہا و قصر ثم اتخذ مکۃ او البصرۃ دارا و حج من عامہ ذلک فہو متمتع (261)

یعنی، اسی لئے کہا کہ جب کوئی اشہر حج میں عمرہ کے لئے ایا، اور اس سے فارغ ہوا اور قصر کیا پھر اس نے مکہ یا بصرہ میں اپنا گھر بنا لیا اور حج کیا اسی سال، پس وہ متمتع ہے ۔ کیونکہ مذکورہ شخص کام کے سلسلے میں مکہ مکرمہ میں رکے گا نہ اس لئے کہ اس نے مکہ مکرمہ کو اپنا گھر بنایا ہے ، اس لئے مکہ مکرمہ اس کے واسطے وطن اقامت ہے اور وہ افاقی ہی ہے اور اس کے لئے تمتع کا جواز اس کے ساتھ مقید ہے کہ وہ مکہ کو اپنا گھر نہ بنائے اور وہ اس نے نہیں بنایا، چنانچہ ملا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

لان جواز التمتع للافاقی مقید بعدم الاستیطان لا بعدم الاقامۃ کما سبق (262)

یعنی، کیونکہ افاقی کے تمتع کا جواز وطن نہ بنانے کے ساتھ مقید ہے نہ کہ اقامت کے نہ ہونے کے ساتھ جیسا کہ پہلے گزرا۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الجمعۃ، 28 شوال المکرم 1436ھـ، 14 اغسطس 2015 م 955-F

حوالہ جات

261۔ جمع المناسک، باب التمتع، فصل فی شرائط صحۃ التمتع، ص222

262۔ المسلک المتقسط، باب التمتع، فصل فی شرائطہ، تحت قولہ : و اطلق فی ’’خزانۃ الاکمل الخ‘‘، ص385

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button