بہار شریعت

استحاضہ کا بیان

 استحاضہ کے متعلق احکام و مسائل کا تفصیلی مطالعہ

استحاضہ کا بیان

حدیث ۱ : صحیحین میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی کہ فاطمہ بنت ابی جیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی یا رسول اللہ مجھے استحاضہ آتا ہے اور پاک نہیں رہتی تو کیا نماز چھوڑ دوں۔ فرمایا، نہ یہ تو رَگ کا خون ہے حیض نہیں ہے تو جب حیض کے دن آئیں نماز چھوڑ دے اور جب جاتے رہیں خون دھو اور نماز پڑھ۔

حدیث ۲ :            ابو داؤد نسائی کی روایت میں فاطمہ بنت ابی جیش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یوں ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب حیض کا خون ہو تو سیاہ ہو گا شناخت میں آئے گا جب یہ ہو نماز سے باز رہ اور جب دوسری قسم کا ہو تو وضو کر اور نماز پڑھ کہ وہ رَگ کا خون ہے۔

متعلقہ مضامین

حدیث ۳ :            امام مالک و ابو داؤد و دارمی کی روایت ہے کہ ایک عورت کے خون بہتا رہتا ہے اس کے لئے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور سے فتویٰ پوچھا ۔ ارشاد فرمایا کہ اس بیماری سے پیشتر مہینے میں جتنے دن راتیں  حیض آتا تھا ان کی گنتی شمار کرکے مہینے میں انہیں کی مقدار نماز چھوڑ دے اور جب وہ دن جاتے رہیں تو نہائے اور لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھے۔

حدیث ۴ :            ابو داؤد و ترمذی کی روایت ہے ارشاد فرمایا جن دنوں میں حیض آتا تھا ان میں نمازیں چھوڑ دے پھر نہائے اور ہر نماز کے وقت وضو کرے اور روزہ رکھے اور نماز پڑھے۔

 استحاضہ کے مسائل

مسئلہ ۱:    استحاضہ میں نہ نماز معاف ہے نہ روزہ نہ ایسی عورت سے صحبت حرام۔ (عالمگیری ج ۱ ص ۳۹)۔

مسئلہ ۲:   استحاضہ اگر اس حد تک پہنچ گیا کہ اس کو اتنی مہلت نہیں ملتی کہ وضو کرکے فرض نماز ادا کر سکے تو نماز کا پورا ایک وقت شروع سے آخر تک اسی حالت میں گذر جانے پر اس کو معذور کہا جائیگا ایک وضو سے اس وقت میں جتنی نمازیں چاہے پڑھے، خون آنے سے اس کا و ضو نہ جائے گا۔

مسئلہ ۳:  اگر کپڑا رکھ کر اتنی دیر تک خون روک سکتی ہے کہ وضو کرکے فرض پڑھ لے عذر ثابت نہ ہو گا۔

مسئلہ ۴:  ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گذر گیا کہ وضو کے ساتھ نماز فرض ادا نہ کرسکا تو معذور ہے اس کا بھی یہی حکم ہے کہ وقت میں وضو کرلے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وضو سے پڑھے اس بیماری سے اس کا وضو نہیں جاتا جیسے قطرے کا مرض یا دست آنا یا ہوا خارج ہونا یا دُکھتی آنکھ سے پانی گرنا یا پھوڑے یا ناسور سے ہر وقت رطوبت بہنا یا کان ، ناف ، پستان سے پانی نکلنا کہ یہ سب بیماریاں وضو توڑنے والی ہیں ان میں جب پورا ایک وقت ایسا گذر گیا کہ ہر چند کوشش کی مگر طہارت کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکا تو عذر ثابت ہو گیا۔

مسئلہ ۵:  جب عذر ثابت ہو گیا تو جب تک ہر وقت میں ایک ایک بار بھی وہ چیز پائی جائے معذور ہی رہے گا۔ مثلاً عورت کو ایک وقت تو استحاضہ نے طہارت کی مہلت نہیں دی اب اتنا موقع ملتا ہے کہ وضو کرکے نماز پڑھ لے مگر اب بھی ایک آدھ دفعہ ہر وقت میں خون آجاتا ہے تو اب بھی معذور ہے یونہی تمام بیماریوں میں اور جب پورا وقت گذر گیا اور خون نہیں آیا اب معذورنہ رہی جب پھر کبھی پہلی حالت پیدا ہو جائے تو پھر معذور ہے اس کے بعد پھر اگر پورا وقت خالی گیا تو عذر جاتا رہا۔

مسئلہ ۶:   نماز کا کچھ وقت ایسی حالت میں گذرا  کہ عذر نہ تھا اور نماز نہ پڑھی اور اب پڑھنے کا ارادہ کیا تو استحاضہ یا بیماری سے وضو جاتا رہتا ہے غرض یہ باقی وقت یونہی گذر گیا اور اسی حالت میں نماز پڑھ لی گو اب اس کے بعد کا وقت بھی پورا اگر اسی استحاضہ یا بیماری میں گزر گیا تو وہ پہلی بھی ہو گئی اور اگر اس وقت اتنا موقع ملاکہ وضو کرکے فرض پڑھ لے تو پہلی نماز کا اعادہ کرلے۔

مسئلہ۷:  خون بہتے میں وضو کیا اور وضوکے بعد خون بند ہو گیا اور اسی وضو سے نماز پڑھی اور اس کے بعد جو دوسرا وقت آیا وہ بھی پورا گزر گیا خون نہ آیا تو پہلی نماز کا اعادہ کرے یونہی اگر نماز میں بند ہوا اور اس کے بعد دوسرے میں بالکل نہ آیا جب بھی اعادہ کرے۔

مسئلہ ۸:  فرض نماز کا وقت جانے سے معذور کا وضو ٹوٹ جاتا ہے جیسے کسی نے عصر کے وقت وضو کیا تھا ظہر کا وقت ختم نہ ہو وضو نہ جائے گا کہ ابھی تک کسی فرض نماز کا وقت نہیں گیا۔

مسئلہ ۹:   وضو کرتے وقت وہ چیز نہیں پائی گئی جس کے سبب معذور ہے اور وضو کے بعد بھی نہ پائی گئی یہاں تک پورا وقت نماز کا خالی گیا تو وقت کے جانے سے وضو نہیں ٹوٹا یونہی اگر وضو سے پیشتر پائی گئی مگر نہ وضو کے بعد باقی وقت میں پائی گئی نہ اس کے بعد دوسرے وقت میں تو وقت جانے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ ۱۰: اور اگر اس وقت میں وضو سے پیشتر وہ چیز پائی گئی اور وضو کے بعد بھی وقت میں پائی یا وضو کے اندر پائی گئی اور وضو کے بعد اس وقت میں نہ پائی گئی مگر بعد والے میں پائی گئی تو وقت ختم ہونے پر وضو جاتا رہے گا اگرچہ وہ حدث نہ پایا جائے۔

مسئلہ ۱۱:  معذورکا وضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب معذور ہے اگر کوئی دوسری چیز توڑنے ولی پائی گئی تو وضو جاتا رہا۔ مثلاً جس کو قطرے کا مرض ہے ہوا نکلنے سے اس کا وضو جاتا رہے گا اور جس کو ہوا نکلنے کا مرض ہے قطرے سے وضو جاتا رہا گا۔

مسئلہ ۱۲: معذور نے کسی حدث کے بعد وضو کیا اور وضو کرتے وقت وہ چیز نہیں ہے جس کے سبب معذور ہے پھر وضو کے بعد وہ عذر والی چیز پائی گئی تو وضو جاتا رہا جیسے استحاضہ والی نے پاخانہ پیشاب کے بعد وضو کیا اور وضو کرتے وقت خون بند تھا بعد وضو کے آیا تو وضو ٹوٹ گیا اور اگر وضو کرتے وقت وہ عذر والی چیز بھی پائی جاتی تھی تو اب وضو کی ضرورت نہیں۔

مسئلہ ۱۳: معذور کے نتھنے سے خون آرہا تھا وضو کے بعد دوسرے نتھنے سے آیا وضو جاتا رہا یا ایک زخم بہ رہا تھا اب دوسرا بہا یہاں تک کہ چیچک کے ایک دانہ سے پانی آرہا تھا اب دوسرے دانہ سے آیا وضو ٹوٹ گیا۔

مسئلہ ۱۴: اگر کسی ترکیب سے عذر جاتا رہے یا اس میں کمی کی جائے تو اس ترکیب کا کرنا فرض ہے مثلاً کھڑے ہو کر پڑھنے سے خون بہتا ہے اور بیٹھ کر پڑھے تو نہ بہے گا تو بیٹھ کر پڑھنا فرض ہے۔

مسئلہ ۱۵: معذور کو ایسا عذر ہے جس کے سبب کپڑے نجس ہو جاتے ہیں تو اگر درہم سے زیادہ نجس ہو گیا اور جانتا ہے کہ اتنا موقع ہے کہ اسے دھو کر یا کپڑوں سے نماز پڑھ لوں گا تو دھو کر پڑھنا فرض ہے اور کہ نماز پڑھتے پڑھتے پھر اتنا ہی نجس ہو جائے گا تو دھونا ضروری نہیں اسی سے پڑھے اگرچہ مصلیٰ بھی آلودہ ہو جائے کچھ حرج نہیں اور اگر درہم کے برابر ہے تو پہلی صورت میں دھونا واجب اور درہم سے کم ہے تو سنت اور دوسری صورت میں مطلقاً نہ دھونے میں کوئی حرج نہیں۔

مسئلہ ۱۶: استحاضہ والی اگر غسل کرکے  ظہر کی نماز آخر وقت میںاور عشاء کی وضو کرکے اوّل وقت میں پڑھے اور فجر کی بھی غسل کرکے پڑھے تو بہتر ہے اور عجب نہیں کہ یہ ادب جو حدیث میں ارشاد ہوا ہے اس کی رعایت کی برکت سے اس کے مرض کو بھی فا ئدہ پہنچے۔

مسئلہ ۱۷: کسی زخم سے ایسی رطوبت نکلے کہ بہے نہیں تو نہ اس کی وجہ سے وضو ٹوٹے نہ معذور ہو نہ وہ رطوبت ناپاک۔

ماخوذ از:
بہار شریعت، جلد1مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button