بہار شریعت

ادائے دین وغیرہ کے متعلق قسم کے متعلق مسائل

ادائے دین وغیرہ کے متعلق قسم کے متعلق مسائل

مسئلہ۷: قسم کھائی کہ اس کا قرض فلاں روز ادا کرو ں گا اور کھوٹے روپے یا بڑی گولی کا روپیہ جو دوکاندار نہیں لیتے اس نے قرض میں دیا تو قسم نہیں ٹوٹی اوراگر اس روز روپیہ لیکر اس کے مکان پر آیا مگر وہ ملا نہیں توقاضی کے پاس داخل کر آئے ورنہ قسم ٹوٹ جائیگی۔ اگر یہ روپے اسے دیتا ہے مگر وہ انکار کرتا ہے نہیں لیتا تو اگر اس کے پاس اتنے قریب رکھ دئیے کہ لینا چاہے تو ہاتھ بڑھا کر لے سکتا ہے تو قسم پوری ہوئی گئی۔(درمختار بحر)

مسئلہ۸: قسم کھائی کہ فلاں روز اس کے روپے ادا کردونگا اوروقت پورا ہونے سے پہلے اس نے معاف کردیا یا اس دن کے آنے سے پہلے ہی اس نے ادا کردیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یونہی اگر قسم کھائی کہ یہ روٹی کل کھائیگا اور آج ہی کھالی تو قسم نہیں ٹوٹی۔ اگر قرضخواہ نے قسم کھائی کہ فلاں روز روپیہ وصول کرلوں گا اور اس دن کے پہلے معاف کردیا یا ہبہ کر دیا تو نہیں ٹوٹی اور اگر دن مقرر نہ کیا تھا تو ٹوٹ گئی۔ (درمختار ، عالمگیری)

متعلقہ مضامین

مسئلہ۹: قرضخواہ نے قسم کھائی کہ بغیر اپنا حق لیے تجھے نہ چھوڑونگا پھر قرضدار سے اپنے روپے کے بدلے میں کوئی چیزخریدلی اور چلا لیا تو قسم نہیں ٹوٹی۔ یونہی اگر کسی عورت پر روپے تھے اور قسم کھائی کہ بغیر حق لیے نہ ہٹو ں گا اور وہیں رہا یہاں تک کہ اس روپے کو مہر قرار دیکر عورت سے نکاح کر لیا تو قسم نہیں ٹوٹی (بحر)

مسئلہ۱۰: قسم کھائی کہ بغیر اپنا لیے تجھ سے جدا نہ ہو ں گا تو اگر وہ ایسی جگہ ہے کہ یہ اسے دیکھ رہا ہے اور اس کی حفاظت میں ہے تو اگر چہ کچھ فاصلہ ہو مگر جدا ہونا نہ پایا گیا۔ یونہی اگر مسجد کا ستون درمیان میں حائل ہو یا ایک مسجد کے اندر ہے دوسرا باہر اور مسجد کا دروازہ کھلا ہوا ہے کہ اسے دیکھتا ہے تو جدا نہ ہو اور اگر مسجد کی دیوار درمیان میں حائل ہے کہ اسے نہیں دیکھتا اور ایک مسجد میں ہے اوردوسرا باہر تو جدا ہوگیا اور قسم ٹوٹ گئی۔ اور اگر قرضدار کو مکان میں کرکے باہر سے قفل بند کردیا اوردروازہ پر بیٹھا ہے اور کنجی اس کے پاس ہے تو جدا نہ ہوا۔ اور اگر قرضدار نے اسے پکڑ کر مکان میں بند کر دیا اورکنجی قرضدار کے پاس ہے تو قسم ٹوٹ گئی (بحر)

مسئلہ۱۱: قسم کھائی کہ اپنا روپیہ اس سے وصول کرونگا تو اختیار ہے کہ خود وصول کرے یا اس کا وکیل اورخواہ خود اسی سے لے یا اس کے وکیل یا ضامن سے یا اس سے جس پر اس نے حوالہ کردیا بہر حال قسم پوری ہوجائے گئی (عالمگیری)

مسئلہ۱۲: قرضخواہ قرضدار کے دروازہ پر آیا اور قسم کھائی کہ بغیر لئے نہ ہٹو ں گا اور قرضدار نے آکر اسے دھکا دیکر ہٹا دیا مگر اس کے ڈھکیلنے سے ہٹا خود اپنے قدم سے نہ چلا اور جب اس جگہ سے ہٹا دیا گیا اب اس کے بعد بغیر لئے چلا گیا تو قسم نہیں ٹوٹی کہ وہاں سے خود نہ ہٹا (عالمگیری)

مسئلہ۱۳: قسم کھائی کہ میں اپنا کل روپیہ ایک دفعہ لو ں گا تھوڑاتھوڑا نہیں لو ں گا اورایک ہی مجلس میں دس دس یا پچیس پچیس گن گن کر اسے دیتا گیا اور یہ لیتا گیا توقسم نہیں ٹوٹی یعنی گننے میں جو وقفہ ہوا اس کا قسم میں اعتبار نہیں اور اس کو تھوڑا تھوڑا لینا نہ کہیں گے۔ اور اگر تھوڑے تھوڑے روپے لئے تو قسم ٹوٹ جائیگی مگر جب تک کہ کل روپیہ پر قبضہ نہ کرلے نہیں ٹوٹے گی یعنی جس وقت سب روپے پر قبضہ ہوجائیگا اس وقت ٹوٹے گی اس سے پہلے اگرچہ کئی مرتبہ تھوڑے تھوڑے لئے ہیں مگر قسم نہیں ٹوٹی تھی (عالمگیری ، درمختار)

مسئلہ۱۴: کسی نے کہا اگر میرے پاس مال ہو تو عورت کو طلاق ہے اور اس کے پاس مکان اور اسباب ہیں جو تجارت کے لئے نہیں تو طلاق نہ ہوئی (درمختار)

مسئلہ۱۵: قسم کھائی کہ یہ چیز فلاں کو ہبہ کرونگا اور اس نے ہبہ کیا مگر اس نے قبول نہ کیا تو قسم سچی ہو گئی اور اگر قسم کھائی کہ اس کے ہاتھ بیچوں گا اور اس نے کہا کہ میں نے یہ چیز تیرے ہاتھ بیچی مگر اس نے قبول نہ کی تو قسم ٹوٹ گئی (درمختار)

مسئلہ۱۶: قسم کھائی کہ خوشبو نہ سونگھے گا اور بلا قصد ناک میں گئی توقسم نہیں ٹوٹی اورقصداً سونگھی تو ٹوٹ گئی (بحر وغیرہ)

مسئلہ۱۷: قسم کھائی کہ فلاں شخص جو حکم د ے گا بجالاؤں گا اور جس چیز سے منع کر ے گا باز رہوں گا اور اس نے بی بی کے پاس جانے سے منع کردیا اور یہ نہیں مانا اگروہاں کوئی قرینہ ایسا تھا جس سے سمجھا جاتا ہو کہ اس سے منع کرے گا تو اس سے بھی باز آئوں گا جب تو قسم ٹوٹ گئی ورنہ نہیں (عالمگیری)

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button