مضامین
مشہور

اختلاف کی صورت میں کس کے موقف پر عمل کیا جائے؟

بعض اوقات فقہا کرام کے درمیان اختلاف ہو جاتا ہے۔  اگرچہ اس کی بنیاد مختلف شرعی دلائل ہوتے ہیں  لیکن  سوال یہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں کس کے موقف پر عمل کیا جائے؟

بعض اوقات فقہا کرام کے درمیان اختلاف ہو جاتا ہے۔  اگرچہ اس کی بنیاد مختلف شرعی دلائل ہوتے ہیں  لیکن  سوال یہ ہے کہ اختلاف کی صورت میں کس کے موقف پر عمل کیا جائے؟

 رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام اور تابعین کی تعلیمات یہی ہیں کہ جہاں تک ہو سکے  اس موقف پر عمل کیا جائے جس سے تمام فقہا کی باتوں پر عمل ہو جائے۔ اور ادب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دوسرا اگر کوئی  مستند  اور خوف خدا رکھنے والا عالم  دین ہو  اور شرعی دلیل دیتا ہو تو اس کی دلیل کا احترام کیا جائے۔ مثلاً ایک عالم کہے ایک کام جائز ہے اور دوسرا کہے کہ جائز نہیں تو اس کام سے بچا جائے تاکہ دونوں کی باتوں پر عمل ہو جائے۔(کیونکہ ایک منع کر رہا ہے اور دوسرے کے نزدیک بھی کرنا لازمی نہیں ہے۔)

بلا اختلاف مسلک و مشرب، کوئی حنفی ہو، مالکی ہو ، حنبلی ہو یا  شافعی ، ہمارے بڑوں کی تعلیمات بھی یہی ہیں کہ جہاں تک ہو سکے اس موقف پر عمل کیا جائے جس سے تمام فقہا کی باتوں پر عمل ہو جائے ۔

 مثال کے طور پر ایک مسئلہ ہے: کیا اذان افضل ہے یا امامت؟

اس میں علما و فقہا کے مختلف موقف ہیں [1]:

بعض فقہا فرماتے ہیں کہ اذان افضل ہے۔ ان فقہا کے نزدیک  اس موقف کے شرعی دلائل درج ذیل ہیں:

(1) قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {ومن أحسن قولا ممن دعا إلى الله} [فصلت: 33] ترجمہ: اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس آیت سے مراد موذن ہیں جو لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف بلاتے ہیں ۔

 (2) حدیث شریف میں ہے: ” المؤذنون أطول أعناقا يوم القيامة “ ترجمہ: قیامت کے دن اذان دینے والوں کی گردنیں لمبی ہوں گی۔(یعنی وہ پرسکون ہوں گے اور لوگ ان کے پیچھے پیچھے ہوں گے۔)[2]

(3) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے: ” لولا الخليفى لأذنت “ ترجمہ: اگر میں خلیفہ نہ ہوتا(یعنی خلافت کی مصروفیات نہ ہوتیں ) تو میں موذن ہوتا۔

بعض فقہا فرماتے ہیں کہ  امامت افضل ہے۔ ان فقہا کے نزدیک  اس موقف کی شرعی دلیل یہ ہے کہ  اللہ تعالی کے رسول ﷺ شرعی احکام کو سب سے زیادہ جانتے ہیں اور آپ ﷺ وہی کام اختیار فرماتے وہ سب سے افضل ہوتا۔ اور نبی اکرم ﷺ نے مستقل طور پر امامت کو اختیار فرمایا، اذان کو اختیار نہیں فرمایا۔[3] اسی طرح آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کے خلفاء رضوان اللہ علیہم اجمعین سب سے زیادہ علم والے تھے انہوں نے بھی امامت کو اختیار فرمایا جس سے پتا   چلا کہ امامت افضل ہے تبھی تو سب سے زیادہ علم والے حضرات امامت کو اذان پر ترجیح دے رہے ہیں۔ [4]

اختلاف کی صورت میں کس کے موقف پر عمل کیا جائے؟

اب آپ نے دونوں موقف پڑھ لئے اور یہ بھی پتا چل گیا کہ دونوں طرف کے حضرات کے پاس اپنے موقف کی دلیل موجود ہے۔ لیکن ہمیں کون سا موقف اپنانا چاہیے؟

اس سوال کے متعلق امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ اپنی تفسیر مفاتیح الغیب میں سورۃ المومنون کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”بعض علما کا موقف تھا کہ امامت اذان سے زیادہ افضل ہے۔ ان سے دلیل پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا:

نماز میں امام کے پیچھے قرات کی جائے یا نہیں؟

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ صرف امام قرات کرے مقتدی (امام کے پیچھے والا) قرات نہ کرے اور امام شافعی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ امام کا قرات کرنا بھی ضروری ہے اور مقتدی کا قرات کرنا بھی ضروری ہے۔ جب میں امام نہیں ہوتا اگر میں قرات چھوڑ دوں تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ ناراض نہ ہو جائیں۔ اگر میں قرات کروں تو ڈر لگتا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ناراض نہ ہو جائیں۔

لیکن جب میں امامت کرتا ہوں تو یہ خوف نہیں ہوتا اور دونوں کے فرمان پر عمل ہو جاتا ہے۔ جبکہ اذان میں ایسی کوئی فضیلت نہیں ہے (کہ ایک ہی عمل سے مختلف فقہا کے موقف پر عمل ہو جائے) اس لئے میرے نزدیک امامت افضل ہے ۔ دونوں فقہا کی باتوں سے بڑھ کر بھی کوئی فضیلت ہو سکتی ہے!“[5]

آپ اندازہ لگائیں: قطع نظر اس بات کے کہ میں شافعی ہوں یا حنفی؟ کس کا موقف زیادہ مضبوط ہے؟  کس کے پاس دلائل زیادہ ہیں؟ میرا اس بارے میں رجحان کیا ہے؟ بس یہ دیکھا  کہ دو اتنے بڑے فقہا کا اختلاف ہے جو کسی شرعی دلیل کے بغیر کوئی موقف ہی نہیں اپناتے؛ فورا ہی ادب سے سر جھک گیا اور افضل وہی ہے جس میں دونوں کی باتوں پر عمل ہو جائے۔ اتنا ادب!

امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ شافعی تھے اور شافعی ہونے کے باوجود امام اعظم کا اتنا ادب کرتے تھے لیکن یہ ادب صرف دوسروں کے ہاں نہیں ۔ امام اعظم رحمہ اللہ اگرچہ امام شافعی رحمہ اللہ کے دادا استاد تھے ، پھر بھی ادب تو ادب ہے ناں، وہ چاہے شاگرد ہو یا استاد. علمائے احناف امام شامفی رحمہ اللہ کا شاگرد ہونے کے باوجود بھی بہت ادب کرتے ہیں۔ دونوں بزرک بلکہ رسو ل اللہ ﷺ کے دین کی خدمت میں زندگی گزارنے والی ہر شخصیت ہمارے سر آنکھوں پر۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ تو پھر سید بھی تھے۔  یہ واقعہ حنفی فقہیہ امام ابن نجیم رحمہ اللہ نے لکھا۔  لکھنے کے بعد فرمایا: ” یہ واقعہ پڑھنے سے پہلے بھی میرا  بالکل یہی موقف تھا اور تھا بھی امام شافعی رحمہ اللہ کے احترام کے پیش نظر۔“  [6]

علما احناف کا اختلاف کی صورت میں طرز عمل:

بلکہ ہمارے علما تو ادب میں دوسروں سے بڑھ کر تھے۔ ابھی اوپر جو موقف پڑھا وہ کتنا اچھا ہے کہ اس سے دو فقہا کے موقف پر عمل ہو رہا ہے۔ لیکن ادب والے ادب ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ ابھی جو موقف بیان ہوا اس میں قرات والا اختلاف تو حل ہو گیا لیکن جو  فقہا اذان کے افضل ہونے کا  موقف رکھتے ہیں ان کی بات پر عمل نہیں ہوا۔

اذان کے مسئلے میں اختلاف ہونے کے باوجود ادب کی ایک صورت:

ہمارا موقف یہ ہے کہ وہ امام افضل ہے جو موذن بھی ہو[7]۔ یوں قرات والے مسئلے میں بھی تمام فقہا کی بات پر عمل ہو جائے گا اور اذان اور امامت والے مسئلے میں بھی تمام کے موقف پر عمل ہو جائے گا۔

[1] : فقہا کا یہ اختلاف بھی مختلف شرعی دلائل کے پیش نظر ہے۔  فقہا کے اختلاف کی وجوہات جاننےکے لئے اس لنک پر کلک کر کے میرا یہ آرٹیکل پڑھیں۔

[2] : بحرالرائق میں ہے: ” اختلف هل الأذان أفضل أم الإمامة قيل بالأول للآية {ومن أحسن قولا ممن دعا إلى الله} [فصلت: 33] فسرته عائشة بالمؤذنين وللحديث: المؤذنون أطول أعناقا يوم القيامة

[3] : اگرچہ آپ ﷺ نے چند بار اذان دی لیکن یہ آپ ﷺ کی عادت نہیں تھی، آپ ﷺ نے مستقل طور پر امامت کو ہی اختیار فرمایا۔

[4] : بحر الرائق میں ہے: ” قيل الإمامة أفضل؛ لأن النبي – صلى الله عليه وسلم – والخلفاء من بعده كانوا أئمة ولم يكونوا مؤذنين وهم لا يختارون من الأمور إلا أفضلها

[5] : امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”إن بعض العلماء اختار الإمامة فقيل له في ذلك فقال أخاف إن تركت الفاتحة أن يعاتبني الشافعي وإن قرأتها مع الإمام أن يعاتبني أبو حنيفة فاخترت الإمامة طلبا للخلاص من هذا الاختلاف. اهـ.

[6] : بحر الرائق میں ہے: ” وقد كنت أختارها لهذا المعنى بعينه قبل الاطلاع على هذا النقل والله الموفق “

[7] : علامہ ابن نجم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ” وقول عمر لولا الخليفى لأذنت لا يستلزم تفضيله عليها بل مراده لأذنت مع الإمامة لا مع تركها فيفيد أن الأفضل كون الإمام هو المؤذن وهذا مذهبنا وعليه كان أبو حنيفة كما علم من إخباره. اهـ.

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button