بہار شریعت

احرام کے متعلق مسائل

احرام کے متعلق مسائل

الحج اشھرٌ معلومتٌط فمن فرض فیھن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج ط وما تفعلو من خیرٍ یعلمہ‘ اللہ ط وتزودو افان خیر الزادالتقوی و التقون یآ اولی الالبابo

(حج کے چندمہینے معلوم ہیں جس نے ان میں حج (اپنے اوپر ) لازم کیا (احرام باندھا ) تو نہ فحش ہے نہ فسق ہے نہ جھگڑنا حج میں اور جو کچھ بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے اور توشہ لو‘ بے شک سب سے اچھاتوشہ تقوی ہے اور مجھی سے ڈرو اے عقل والو)

اور فرماتا ہے:۔

یٓا یھا الذین امنو ااوفوا بلعقود ط احلت لکم بھیمۃ الا نعام الامایتلی علیکم غیرمحلی الصید وانتم حرمٌ ط ان اللہ یحکم ما یریدoیٓا یھاالذین امنو لا تحلو شعآ ئرآللہ ولا الشھر الحرام ولا الھدی ولا القلآئد ولآ امین البیت الحرام یبتغون فضلاً من ربھم ورضوانًا ط واذاحللتم فاصطادوا۔

(اے ایمان والوں عقود پورے کرو تمھارے لئے چوپائے جانور حلال کئے گئے سوا ان کے جن کا تم پر بیان ہوگا مگر حا لت احرام میں شکار کا قصد نہ کرو بے شک اللہ جو چاہتاہے حکم فرماتا ہے۔ اے ایمان والو اللہ کے شعائر اور ماہ حرام اور حرم کی قربانی اور جن جانوروں کے گلوں میں ہار ڈالے گئے (قربانی کی علامت کے لئے) ان کی بے حرمتی نہ کرو اور نہ ان لوگوں کی جو خانٔہ کعبہ کا قصد اپنے رب کے فضل اور رضا طلب کرنے کے لئے کرتے ہیں اور جب احرم کھولو اس وقت شکار کرسکتے ہو۔

حدیث ۱ : صحیحین میں ا م المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے میں رسول اللہ ﷺ سے احرم کے لئے احرام سے پہلے اور احرام کھولنے کے لئے طواف سے پہلے خوشبو لگاتی جس میں مشک تھی اس کی چمک حضور ﷺ کی مانگ میں احرام کی حالت میں گویا میں اب دیکھ رہی ہوں (مسلم ص ۳۷۸ج۱، بخاری ص۲۰۸ج۱،ابو داؤدص۲۴۴ج۱)

حدیث ۲: ابوداؤد زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ نبی ﷺ نے احرام باندھنے کے لئے غسل کیا۔(ابو داؤد ج۱، تر مذی ص۱۰۲ج۱)

حدیث ۳ : صحیح مسلم شریف میں ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ، کہتے ہیں کہ ہم حضور کے ساتھ حج کو نکلے اپنی آواز حج کے ساتھ خوب بلند کرتے (مسلم ص۳۷۴)

حدیث ۴ : تر مذی و ابن ماجہ وبیہقی سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مسلمان لبیک کہتا ہے تو دہنے بائیں جو پتھر یا درخت یا ڈھیلا ختم زمین تک ہے لبیک کہتا ہے(ترمذی ص۱۰۲ج۱، ابن ماجہص۲۰۹)

حدیث ۵،۶: ابن ماجہوابن خزیمہ و ابن حبان وحاکم زید بن خالد جہنی سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جبرئیل نے مجھ سے آکر کہا کہ اپنے اصحاب کو حکم فرمادیجئے کہ لبیک میں اپنی آواز یں بلند کریں کہ یہ حج کا شعار ہے اسی کے مثل سائب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے (ابن ماجہ ص۲۰۹)

حدیث ۷ : طبرانی اوسط میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ لبیک کہنے والا جب لبیک کہتا ہے تو اسے بشارت دی جاتی ہے عرض کی گئی جنت کی بشارت دی جاتی ہے ، فرمایا ہاں ۔

حدیث ۸ : امام احمد وابن ماجہ جابربن عبداللہ اور طبرانی وبیہقی عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالی عنہم سے راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ، محرم جب آفتاب ڈوبنے تک لبیک کہتا ہے تو آفتاب ڈوبنے کے ساتھ اس کے گناہ غائب ہو جاتے ہیں اور ایسا ہو جاتا ہے جیسا اس دن کہ پیدا ہوا۔

حدیث ۹: ترمذی وابن ماجہو ابن خزیمہ امیر المومنین صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی ہیں کہ کسی نے رسول اللہ ﷺسے سوال کیا کہ حج کے افضل اعمال کیا ہیں فرمایا بلند آواز سے لبیک کہنا اور قربانی کرنا (ترمذی ص ۱۰۲ج۱، ابن ماجہ ص۲۱۰)

حدیث ۱۰: امام شافعی خزیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالی سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ جب لبیک سے فارغ ہوتے تو اللہ سے اس کی رضا اور جنت کا سوال کرتے اور دوزخ سے پناہ مانگتے ۔

حدیث ۱۱ : ابو داؤد ابن ماجہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی ، کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو مسجد اقصی سے مسجد حرام تک

حج یا عمرہ کا احرام باندھکر آیا اس کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے یا اس کے لئے جنت واجب ہو گئی (ابوداؤد ص ۲۴۳ج۱، ابن ماجہ )

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button