بہار شریعت

احرام کے احکام

احرام کے احکام

(۱)یہ تو پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ ہندیوں (پاک و ہندوالوں ) کے لئے میقات ( جہاں سے احرام باندھنے کا حکم ہے ) کوہ یلملم کی محاذات ہے یہ جگہ کامران سے نکل کر سمندر میں آتی ہے جب جدہ دو تین منزل رہ جاتا ہے جہاز والے اطلاع دیدتے ہیں پہلے سے احرام کا سامان تیار رکھیں

(۲) جب وہ جگہ قریب آئے مسواک کریں اور وضو کریں ، اور خوب مل کر نہائیں ، نہ نہا سکیں تو صرف وضو کریں یہاں تک کہ حیض ونفاس والی اور بچے بھی نہائیں اور با طہارت احرم باندھیں یہاں تک کہ اگر غسل کیا پھر بے وضو ہو گیا،اور احرام باندھ کر وضو کیا تو فضیلت کا ثواب نہیں اور پانی ضررکرے تو اس کی جگہ تیمم نہیں ہاں اگر نماز احرام کے لئے تیمم کرے تو ہوسکتا ہے۔

(۳) مرد چاہیں تو سر منڈالیں کہ احرام میں بالوں کی حفاظت سے نجات ملے گی ورنہ کنگھا کرکے خوشبودار تیل ڈالیں

(۴) غسل سے پہلے ناخن کتریں خط بنوائیے موئے بغل و زیر ناف دور کریں بلکہ پیچھے کے بھی کہ ڈھیلا لیتے وقت بالوں کے ٹوٹنے اکھڑنے کا قصہ نہ رہے

(۵)بدن اور کپڑوں پر خوشبوں لگائیں کہ سنت ہے ، اگر خوشبو ایسی ہے کہ اس کا جرم باقی رہے گا جیسے مشک وغیرہ تو کپڑوں پر نہ لگائیں

(۶)مرد سلے کپڑے اور موزے اتاردیں ایک چادر نئی یا دھلی اوڑھیں اور ایسا ہی تہبند باندھیں یہ کپڑے سفید اور نئے بہتر ہیں اور اگر ایک ہی کپڑاپہنا جس سے سارا ستر چھپ گیا جب بھی جائزہے۔ بعض عوام یہ کرتے ہیں کہ اس وقت سے چادر داہنی بغل کے نیچے کرکے دونوں پلوبائیں مونڈھے پر ڈال دیتے ہیں یہ خلاف سنت ہے بلکہ سنت یہ ہے کہ اس طرح چادر اوڑھنا طواف کے وقت ہے اور طواف کے علاوہ باقی وقتوں میں عادت کے موافق چادر اوڑھی جائے یعنی دونوں مونڈھے اورپیٹھ اور سینہ سب چھپارہے۔

(۷) جب وہ جگہ آئے اور وقت مکروہ نہ ہو تو دورکعت بہ نیت احرام پڑھیں پہلی میں فاتحہ کے بعد قل یٓا یھاالکفرون دوسری میں قل ھو اللہ پڑھے۔

(۸)حج تین طرح کا ہوتا ہے ایک یہ کہ صرف حج کرے‘ اسے افراد کہتے ہیں اور حاجی کو مفرد۔ اس میں بعد سلام یوں کہے۔

اللھم انی ارید الحج فیسرہ لی وتقبلہ منی نویت الحج واحرمت بہٖ مخلصًاللہ تعالی۔

(اے اللہ میں حج کا اردہ کرتا ہوں اسے تو میرے لئے آسان کر اور اسے مجھ سے قبول کر میں نے حج کی نیت کی اور خاص اللہ کے لئے احرام باندھا )

دوسرا یہ کہ یہاں سے نرے عمرے کی نیت کرے، مکہ معظمہ میں حج کا احرام باندھے اسے تمتع کہتے ہیں اور حاجی کو متمتع ۔اس میں بعد سلام یوں کہے۔

اللھم انی ارید العمرۃ فیسرہا لی وتقبلھا منی نویت العمرۃ واحرمت بھا مخلصًاللہ تعالی۔

(اے اللہ میں عمرہ کا اردہ کرتا ہوں اسے تو میرے لئے آسان کر اور اسے مجھ سے قبول کر میں نے عمرہ کی نیت کی اور خاص اللہ کے لئے احرام باندھا )

تیسرا یہ کہ حج و عمرہ دونوں کی یہیں سے نیت کرے اور یہ سب سے افضل ہے اسے قران کہتے ہیں اورحاجی کو قارن ۔ اس میں بعد سلام یوں کہے۔

اللھم انی ارید الحج والعمرۃ فیسرہما لی وتقبل ہمامنی نویت العمرۃو الحج واحرمت بہما مخلصًاللہ تعالی۔

(اے اللہ میں حج وعمرہ کا اردہ کرتا ہوں اسے تو میرے لئے آسان کر اور اسے مجھ سے قبول کر میں نے عمرہ وحج کی نیت کی اور خاص اللہ کے لئے احرام باندھا )

اور تینوں صورتوں میں اس نیت کے بعد لبیک بآواز کہے لبیک یہ ہے

لبیک اللھم لبیک ط لبیک لاشریک لک لبیک ط ان الحمد والنعمۃ لک والملک ط لا شریک لکط

( میں تیرے پاس حاضر ہوا، اے اللہ میں تیرے حضور حاضر ہوا، تیرے حضور حاضر ہو ا،تیر ا کوئی شریک نہیں میں تیرے حضور حاضر ہوا بیشک تعریف اورنعمت اور ملک تیرے ہی لئے ہے تیرا کوئی شریک نہیں )

جہاں جہاں وقف کی علامیتں بنی ہیں وہاں وقف کرے۔ لبیک تین بار کہے اور درود شریف پڑھے اور پھر دعامانگے ۔ایک دعا یہاں منقول ہے۔

اللھم انی اسئالک رضاک والجنۃ واعوذبک من غضبک والنار۔

(اے اللہ میں تیری رضا اور جنت کا سائل ہوں اور تیرے غضب اور جہنم سے تیری ہی پناہ مانگتا ہوں )

اور یہ بھی بزرگوں سے منقول ہے۔

اللھم احرم لک شعری وبشری وعظمی ودمی من النسآئ والطیب وکل شیئٍ حرمتہ‘ علی المحرم ابتغی بذالک وجھک الکریم لبیک وسعدیک والخیر کلہ‘ بیدیک والرغبائ الیک والعمل الصالح لبیک ذاالنعمآئ والفضل الحسن لبیک مرغوبًا ومرھوبًا الیک لبیک الہ الخلق لبیک لبیک حقاً حقاً تعبدًا ورقاً لبیک عدد التراب والحصی لبیک لبیک ذاالمعارج لبیک لبیک من عبدٍ ابق الیک لبیک لبیک فراج الکروب لبیک لبیک انا عبدک لبیک لبیک غفار الذنوب لبیک اللھم اعنی علی ادآ ئ فرض الحج وتقبلہ منی واجعلنی من الذین استجا بو لک و ا منو ابوعدک واتبعو امرک واجعلنی من وفدک الذین رضیت عنھم وار ضیت ھم وقبلتھم۔

(اے اللہ تیرے لئے احرام باندھا میرے بال اور بشرہ نے اور میرے خون نے عورتوں اور خوشبو سے اور ہر چیز سے جس کو تو نے محرم پر حرام کی اس سے میں تیرے وجہہ کریم کا طالب ہوں میں تیرے حضور حاضر ہوا اور کل خیر تیرے ہاتھ میں ہے اور رغبت اور عمل صالح تیری طرف ہے میں تیرے حضور حاضر ہوا اے نعمت اور اچھے فضل والے میں تیرے حضور حاضر ہو ا تیری طرف رغبت کرتا ہوا اور ڈرتا ہو تیرے حضور حاضر ہوا اے مخلوق کے معبود بار بار حاضر ہوں حق سمجھ کر عبادت اور بندگی جان کر خاک اور کنکریوں کی گنتی کے موافق لبیک بار بار حاضر ہوا ہوں اے بلندیوں والے بار بار حاضرہے بھاگے ہوئے غلام کی تیرے حضور لبیک لبیک اے سختیوں کے دور کرنے والے میں تیرا بندہ ہوں لبیک لبیک اے گناہوں کے بحشنے والے اے اللہ حج فرض کے ادا کرنے پر میری مدد کر اور اس کو میری طرف سے قبول کر اور مجھ کو ان لوگوں میں کر جنھوں نے تیری بات قبول کی اور تیرے وعدے پر ایمان لائے اور تیرے امر کا اتباع کیا اور مجھ کو اپنے اس وفد میں کر دے جن سے تو راضی ہے اور جن کو تو نے راضی کیا اور جن کو تو نے مقبول بنایا)

اور لبیک کی کثرت کریں جب شروع کریں تین بارکہیں ۔

مسئلہ ۱: لبیک کے الفاظ جو مذکور ہیں ان میں کمی نہ کی جائے‘ زیادہ کرسکتے ہیں بلکہ بہتر ہے مگر زیادتی آخر میں ہو درمیان میں نہ ہو(عالمگیری ص۲۲۳ج۱، تبیین ص ۱۰،۱۱ ج۲‘ بحر ص۳۲۲ج۲‘ جوہر ہ ص۱۹۵‘درمختار و ردالمحتارص۲۱۸ج۲)

مسئلہ ۲: جو شخص بلند آواز سے لبیک کہہ رہا ہے تو اس کو اس حالت میں سلام نہ کیا جائے کہ مکروہ ہے اور اگر کرلیا توختم کرکے جواب دے۔ ہاں اگر جانتا ہو کہ ختم کرنے کے بعد جواب کا موقع نہ ملے گا تو اس وقت جواب دے سکتا ہے (منسک ص۷۱)

مسئلہ ۳: احرام کے لئے ایک مرتبہ زبان سے لبیک کہنا ضروری ہے اور اگر اس کی جگہ سبحن اللہ ، الحمدللہ ، لآالہ الا اللہ یا اور کوئی ذکر الی کیا اور احرام کی نیت کی تو احرام ہوگیا مگر سنت لبیک کہنا ہے (جوہر ہ ص ۱۹۵، عالمگیری ص ۲۲۲ج۱، منسک ص۷۰) گونگا ہو تو اسے چائیے کہ ہونٹ کو جنبش دے۔

مسئلہ ۴: احرام کے لئے نیت شرط ہے اگر بغیر نیت لبیک کہا احرام نہ ہوا یونہی تنہا نیت بھی کافی نہیں جب تک لبیک یا اس کے قائم مقام کوئی اور چیز نہ ہو (عالمگیری ص۲۲۲ج۱ ‘ تبیین ص۱۱، در مختار وردالمحتار ص ۲۱۶ج۲)

مسئلہ ۵: احرام کے وقت لبیک کہے تو اس کے ساتھ نیت بھی ہو یہ بار ہا معلوم ہوچکاہے کہ نیت دل کے ارادہ کو کہتے ہیں ۔ دل میں ارادہ نہ ہو تو احرام ہی نہ ہوا اور بہتر یہ ہے کہ زبان سے بھی کہے ۔ قران میں لبیک بالعمرۃ والحج اور تمتع میں لبیک بالعمرۃ اور افراد میں لبیک بالحج کہے،(درمختاروردالمحتار ص۲۱۶،۲۱۷ج۲،تبیین ص۱۱ج۲، بحرص۳۲۱ج۲)

مسئلہ ۶: دوسرے کی طرف سے حج کو گیا تو اس کی طرف سے حج کرنے کی نیت کرے اور بہتر یہ کہ لبیک میں یوں کہے لبیک عن فلان یعنی فلاں کی جگہ اس کا نام لے اور نام نہ لیا مگر دل میں ارادہ ہے جب بھی حرج نہیں (درمختار و ردالمحتار ص۳۲۷ج۲، منسک ص۷۰)

مسئلہ ۷: سونے والے یا مریض یا بیہوش کی طرف سے کسی اور نے احرام باندھا تو وہ محر م ہوگیا ۔جس کی طرف سے احرام باندھا گیا محرم کے احکام اس پر جاری ہوں گے کسی ممنوع کا ارتکاب کیا تو کفارہ وغیرہ اس پر لازم آئے گا اس پر نہیں جس نے اس کی طرف سے احرام باندھ دیا اور احرام باندھنے والا خود بھی محرم ہے اور جرم کیا تو ایک ہی جزا واجب ہوگی دونہیں کہ اس کا ایک ہی احرام ہے ۔ مریض اور سونے والے کی طرف سے احرام باندھنے میں یہ ضروری ہے کہ احرام باندھنے کا انھوں نے حکم دیا ہو اور بیہوش میں اس کی ضرورت نہیں (عالمگیری ص۲۳۶ج۱،درمختار و ردالمحتارص۳۲۷‘۳۲۸ ج۲‘،منسک ص۷۵ )

مسئلہ ۸: تمام افعال حج اداکرنے تک بے ہوش رہا اور احرام کے وقت ہوش میں تھا اور اپنے آپ احرام باندھاتھا تو اس کے ساتھ والے تمام مقامات میں لے جائیں اور اگر احرام کے وقت بھی بے ہوش تھا انہی لوگوں نے احرام باندھ دیا تھا تو لے جانابہتر ہے ضروری نہیں (عالمگیری ص۲۳۶‘ج۱ درمختار و ردالمحتار )

مسئلہ ۹ : احرم کے بعد مجنون ہو ا تو حج صحیح ہے اور جرم کرے گا تو جزالازم(عالمگیری ص۲۳۶ج۱‘ ردالمحتار )

مسئلہ ۱۰: نا سمجھ بچے نے خود احرام باند ھایا افعال حج ادا کئے تو حج نہ ہوا بلکہ اس کا ولی اس کی طرف سے بجالائے مگر طواف کے بعد کی دورکعتیں کہ بچہ کی طرف سے ولی نہ پڑھے گا ، اس کے ساتھ باپ اوربھائی دونوں ہوں ، باپ ارکان ادا کرے سمجھ والا بچہ خود افعال حج ادا کرے رمیٓ وغیرہ بعض باتیں چھوڑدیں تو ان پر کفارہ وغیرہ لازم نہیں یوں ہی نا سمجھ بچہ کی طرف سے اس کے ولی نے احرام باندھا اور بچہ نے کوئی ممنوع کام کیا تو باپ پر بھی کچھ لازم نہیں (عالمگیری ص۲۳۶ج۱‘ منسک ص۷۶،۷۷،ردالمحتار )

مسئلہ ۱۱: بچہ کی طرف سے احرام باندھا تواس کے سلے ہوئے کپڑے اتار لینے چاہیئں ، چادر اور تہبند پہنا ئیں اور ان تمام باتوں سے بچائیں جو محرم کے لئے ناجائز ہیں اور حج کو فاسد کردیا تو قضا واجب نہیں اگر چہ وہ بچہ سمجھ والا ہو(عالمگیری ص ۲۳۶ج۱)

مسئلہ ۱۲: لبیک کہتے وقت نیت قران کی ہے تو قران ہے اور افراد کی ہے تو افراد اگرچہ زبان سے نہ کہا ہو حج کے ارادے سے گیا اور احرام کے وقت نیت حاضرنہ رہی تو حج ہے اور اگر نیت کچھ نہ تھی تو جب تک طواف نہ کیا ہواسے اختیار ہے کہ حج کا احرام قراردے یا عمرے کا اور طواف کا ایک پھیرا بھی کرچکا تو یہ احرام عمرہ کا ہوگیا۔یونہی طواف سے پہلے جماع کیا یا روک دیا گیا (جس کو اخصار کہتے ہیں ) تو عمرہ قرار دیا جائے یعنی قضا میں عمرہ کرنا کافی ہے (عالمگیری ص۲۲۳ج۱)

مسئلہ ۱۳: جس نے حجۃ الاسلام ادا نہ کیا ہو اور حج کا احرام باندھا فرض ونفل کی نیت نہ کی تو حجۃالاسلام ادا ہوگیا( عالمگیری ص ۲۲۳ج۱، درمختار ص۲۲۰ج۲)

مسئلہ ۱۴ : دو حج کا احرام باندھا تو دو حج واجب ہوگئے اور دو عمرے کا تو دو عمرے ۔ احرام باندھا اور حج یا عمرہ کسی خاص کو معین نہ کیا پھر حج کا احرام باندھا تو پہلا عمرہ ، اور دو سرا عمرہ کا باندھا تو پہلا حج ہے اور اگر دوسرے احرام میں بھی کچھ نیت نہ کی تو قران ہے (عالمگیری ص ۲۲۳ج۱)

مسئلہ ۱۵ : لبیک میں حج کہا اور نیت عمرہ کی ہے یا عمرہ کہا اور نیت حج کی ہے تو جو نیت ہے وہ ہے لفظ کا اعتبار نہیں اور لبیک میں حج کہا اور نیت دونوں کی ہے تو قران ہے( عالمگیر ی ص ۲۲۳ج۱)

مسئلہ ۱۶: احرام باندھا اور یا د نہیں کہ کس کا باندھا تھا تو دونوں واجب ہیں یعنی قران کے افعال بجالائے کہ پہلے عمرہ کرے پھر حج مگر قران کی قربانی اس کے ذمہ نہیں ۔ اگر دو چیزوں کا احرام باندھا اور یاد نہیں کہ دونوں حج ہیں یا عمرے یا حج وعمرہ تو قران ہے اور قربانی واجب ، حج کا احرام باندھا اور نیت نہیں کہ کس سال کرے گا تو اس سال کا مراد لیا جائے گا (عالمگیری ص۲۲۳ج۱)

مسئلہ ۱۷: منت ونفل یا فرض و نفل کا احرام باندھا تو نفل ہے (عالمگیری ص۲۲۳ج۱)

مسئلہ ۱۸ : اگر یہ نیت کی کہ فلاں نے جس کا احرام باندھا اسی چیز کا میرا احرام ہے اور بعد میں معلوم ہو گیا کہ اس نے کس چیز کا احرام باندھا ہے تو اس کا بھی وہی ہے اور معلوم نہ ہوا تو طواف کے پہلے پھیرے سے پیشتر جو چاہے معین کرلے ‘ اور طواف کا ایک پھیرا کرلیا تو عمرہ کا ہو گیا ۔ یونہی طواف سے پہلے جماع کیا یا روک دیا گیا یا وقوف عرفہ کا وقت نہ ملا تو عمرہ کا ہے (منسک ص ۷۳)

مسئلہ ۱۹ : حج بدل منت یا نفل کی نیت کی تو جو نیت کی وہی ہے اگر چہ اس نے اب تک حج فرض نہ کیا ہو اور اگر ایک ہی حج میں فرض و نفل دونوں کی نیت کی تو فرض ادا ہو گا اور اگر یہ گمان کرکے احرام باندھا کہ یہ حج مجھ پر لازم ہے یعنی فرض ہے یا سنت ‘ بعد کو ظاہر ہو اکہ لازم نہ تھا تو اس حج کو پور ا کرنا ضروری ہو گیا ۔ فاسد کرے گا تو قضا لازم ہوگی بخلاف نماز کہ فرض سمجھ کر شروع کی تھی بعد کو معلوم ہوا کہ فرض پڑھ چکا ہے تو پوری کرنا ضروری نہیں فاسد کرے گا تو قضا نہیں (ردالمحتار ص ۲۲۰ج۲ ، منسک ص ۷۴)

مسئلہ ۲۰ : لبیک کہنے کے علاوہ ایک دوسری صورت بھی احرام کی ہے اگر چہ لبیک نہ کہنا برا ہے کہ ترک سنت ہے وہ یہ کہ بدنہ (یعنی انٹ یا گائے) کے گلے میں ہار ڈال کر حج یا عمرہ یا دونوں یا دونوں میں ایک غیرمعین کے ارادے سے ہانکتا ہوا لے چلا تو محرم ہوگیا اگر چہ لبیک نہ کہے خواہ وہ بدنہ نفل کا ہو یا نذر کا یا شکار کا بدلہ یا کچھ اور ‘ اگر دوسرے کے ہاتھ بدنہ بھیجا پھر خود گیا تو جب تک راسۃ میں اسے پا نہ لے محرم نہ ہو گا لہذا اگر میقات تک نہ پایا تو لبیک کے ساتھ احرام باندھنا ضروری ہے ۔ ہاں اگر تمتع یا قران کا جانور ہے تو پالینا شرط نہیں مگر اس میں یہ ضروری ہے کہ حج کے مہینوں میں خود بھی چلا ہو پیشتر سے بھیجنا کام نہ دے گا اور اگر بکری کو ہا ر پہنا کر بھیجا یا لے چلا یا اونٹ گائے کو ہا ر نہ پہنا یا بلکہ نشانی کیلئے کوہان چیر دیا یا جھول اڑ ھادیا تو محرم نہ ہوا (عالمگیری ص ۲۲۲ج۱ ‘ در مختار و ردالمحتار ص ۲۱۰ج۲)

مسئلہ ۲۱ : چند شخص بدنہ میں شریک ہیں اسے لئے جاتے ہیں سب کے حکم سے ایک نے اسے ہار پہنا یا سب محرم ہو گئے اور بغیر ان کے حکم کے اس نے پہنا یا تو یہ محرم ہوا وہ نہ ہوئے (عالمگیری ص۲۲۲ج۱ ‘ در مختار و ردالمحتار ص۲۱۹ج۲)

مسئلہ ۲۲ : ہار پہنانے کے یہ معنی ہیں کہ اون یا بال کی رسی میں کوئی چیز باندھ کر اس کے گلے میں لٹکا دیں کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ حرم شریف میں قربانی کے لئے ہے تاکہ اس سے کوئی تعرض نہ کرے اور راستے میں تھک گیا اور ذبح کردیا تو اسے مالدار شخص نہ کھا ئے(عالمگیری ص ۲۲۲ج۱‘ درمختار وردالمحتارص ۳۴۵ج۲، تبیین ص ۹۲ج۲ ، منسک ص ۷۶)

مسئلہ ۲۳: اس صورت میں بھی سنت یہی ہے کہ بدنہ کو ہار پہنانے سے پیشتر لبیک کہے(منسک ص ۷۲)

وہ امور جو احرام میں حرام ہیں

(۹) یہ احرام تھا اس کے ہوتے ہی یہ کام حرام ہوگئے(۱) عورت سے صحبت‘ (۲) بوسہ‘(۳) مساس‘ (۴)گلے لگانا، (۵) اس کے اندام نہانی پر نگاہ جب کہ یہ چاروں باتیں بشہوت ہوں ۔(۶) عورت کے سامنے اس کام کا نام لینا ،(۷) فحش ،(۸) گناہ ہمیشہ حرام تھے اب اور سخت حرام ہوگئے ۔(۹) کسی سے دنیوی لڑائی ، (۱۰)جنگل کا شکار (۱۱) اس کی طرف شکار کرنے کو اشارہ کرنا ،(۱۲)یا کسی طرح بتانا،(۱۳) بندوق یا بارود یا اس کے ذبح کرنے کو چھری دینا (۱۴) اس کے انڈے توڑنا ،(۱۵) پر اکھیڑنا ،(۱۶) پاؤ ں یا بازو توڑنا (۱۷) اس کا دودھ دوہنا (۱۸) اس کا گوشت یا( ۱۹) انڈے پکانا بھوننا (۲۰) بیچنا (۲۱) خریدنا (۲۲) کھانا اور(۲۳) اپنا یا دوسرے کا ناخن کتر نا یا دوسرے سے اپنا کتروانا ،(۲۴) سر سے پاؤں تک کہیں سے کوئی بال کسی طرح جداکرنا ، (۲۵)منہ یا(۲۶) سر کسی کپڑے وغیرہ سے چھپانا ، (۲۷) بستہ یا کپڑے کی بقچی یا گٹھر ی سر پر رکھنا ،(۲۸) عمامہ باندھنا ،(۲۹) برقع (۳۰)دستانے پہننایا (۳۱)موزے یاجرابیں وغیرہ جو وسط قدم کو چھپائے (جہاں عربی جوتے کا تسمہ ہوتا ہے پہننااگر جوتیاں نہ ہوں تو موزے کاٹ کر پہنیں کہ وہ تسمہ کی جگہ نہ چھپے ،(۳۲) سلا کپڑاپہننا ،(۳۳) خوشبوبالوں یا (۳۴) بدن یا(۳۵) کپڑوں میں لگانا،(۳۶) ملا گیری یا کسم کیسر غرض کسی خوشبو کے رنگے کپڑے پہننا جب کہ ابھی خوشبودے رہے ہوں ،(۳۷) خالص خوشبو مشک عنبر زعفران جاوتری لونگ الائچی دار چینی زنجبیل وغیرہ کھانا (۳۸)ایسی خوشبو کا آنچل میں باندھنا جس میں فی الحال مہک ہو جیسے مشک عنبر زعفران ،(۳۹) سر یا داڑھی کو خطمی یا کسی خوشبودار ایسی چیز سے دھونا جس سے جوئیں مر جائیں ،(۴۰) وسمہ یا مہندی کا خضاب لگانا ، (۴۱) گوند وغیرہ سے بال جمانا ،(۴۲) زیتون یا(۴۳) تل کا تیل اگر چہ بے خوشبو ہو بالوں یا بدن میں لگانا (۴۴)کسی کا سر مونڈنا اگر چہ اس کا احرام نہ ہو ، (۴۵)جوں مارنا(۴۶) پھینکنا ،(۴۷) کسی کو اس کے مارنے کا اشارہ کرنا ،(۴۸) کپڑااس کے مارنے کو دھونا (۴۹)یا دھوپ میں ڈالنا ، (۵۰) بالوں میں پارہ وغیرہ اس کے مارنے کو لگانا غرض جوں کے ہلاک پر کسی طرح باعث ہونا۔

یہ مسائل کتاب بہار شریعت سے ماخوذ ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے اصل کتاب کی طرف رجوع کریں۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button