ARTICLES

احرام متعین کے بغیر طواف شروع کرنے والے کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص احرام باندھتے وقت احرام کو معین کرنا بھول جائے کہ یہ عمرہ کا احرام ہے یا حج کا اور اس کے دل میں بھی کوئی نیت نہ ہو کہ یہ عمرہ ہے یا حج، پھر جب وہ طواف شروع کرے تو اسے یاد اجائے کہ اس نے کوئی نیت ہی نہیں کی یعنی احرام کو متعین نہیں کیا، تو اب کیا کرنا چاہئے ؟

(السائل : حافظ رضوان ولد غلام حسین، کراچی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں اسے چاہئے کہ نئے عمرہ کی نیت نہ کرے کیونکہ اس نے جو احرام باندھا وہ عمرہ کا ہی قرار پایا اور اس مسئلہ کی صراحت تو نظر میں نہیں مگر ’’لباب‘‘ میں ایک مسئلہ مذکور ہے جس سے ہمارے اس مسئلہ کا جواب مل جاتا ہے وہ یہ ہے کہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

و من احرم لا ینوی شیئا معینا فشرع فی الطواف، ثم اھل بعمرۃٍ رفضھا لان الاولیٰ تعینت عمرۃً (13)

یعنی، جس نے احرام باندھا اور کسی شی معین کی نیت نہ کی، پس طواف میں شروع ہوا، پھر (دوسرے ) عمرہ کی تلبیہ کہی تو اسے (یعنی دوسرے کو) چھوڑ دے (14) کیونکہ پہلا (احرام) عمرہ متعین ہو گیا۔ اس مسئلہ میں جب اس نے طواف شروع کرنے کے بعد عمرہ کے لئے تلبیہ کہی تو علامہ رحمت اللہ سندھی علیہ الرحمہ نے لکھا کہ اسے چھوڑ دے اس لئے کہ پہلا احرام عمرہ کے لئے متعین ہو چکا، اگر وہ عمرہ کے لئے تلبیہ نہ کہتا تو اس کا احرام عمرہ کے لئے متعین ہوتا، لہٰذا صورت مسؤلہ میں بھی اس کا احرام عمرہ کا احرام ہو گا۔

واللٰہ تعالی اعلم بالصواب

یوم الاثنین، 8 شوال المکرم 1433ھ، 27 اغسطس 2012 م 803-F

حوالہ جات

13۔ لباب المناسک، باب الجمع بین النسکین المتحدین، فصل : فی الجمع بین العمرتین، ص187

14۔ اس میں مصنف نے ذکر نہیں کیا کہ اس پر قضا اور دم لازم ائے گا یا نہیں اور نہ ہی شارح نے اس پر کلام کیا ہے حالانکہ اس پر قضاء اور دم دونوں لازم ائیں گے جیسا کہ مصنف نے دوسرے مسئلے میں لکھا ہے کہ فلو احرم بعمرۃٍ فطاف لھا شوطا او کلہ او لم یطف شیئًا، ثم احرم باخری قبل ان یسعی للاولیٰ رفض الثانیۃ و دم للرفض و قضائً المرفوض (لباب المناسک، کتاب الجمع بین النسکین المتحدین، فصل : فی الجمع بین العمرتین، ص187) یعنی، پس اگر عمرہ کا احرام باندھا پھر عمرہ کا طواف ایک چکر کیا یا مکمل کیا یا بالکل نہ کیا پھر دوسرے عمرہ کا احرام پہلے کی سعی سے قبل باندھ لیا تو دوسرے عمرے کو چھوڑ دے اور عمرہ چھوڑنے کا دم دے اور چھوڑے ہوئے عمرے کی قضاء کرے ۔

اسی طرح ’’رد المحتار‘‘ (کتاب الحج، باب الجنایات، تحت قول التنویر، من اتی بعمرۃ الخ، 3/716) میں ہے اور اس مسئلے میں بھی جب اس کا دوسرے عمرے کا احرام شمار ہوا تو اسے اس دوسرے عمرے کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا،اور اس پر دوسرے عمرہ کو چھوڑنے کی وجہ سے دم لازم ہوا اور چھوڑے ہوئے عمرے کی قضاء بھی، لہٰذا اس پر بھی دم اور قضاء دونوں لازم ائیں گے ۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button