ARTICLESشرعی سوالات

احرام سے قبل لگائی گئی خوشبو کا احرام کے بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص احرام کی چادریں پہن کر نیت کرنے سے قبل اپنے ہاتھوں پر عطر لگاتا ہے اس کے بعد وہ نیت کر لیتا ہے نیت کے بعد اس کے ہاتھ اس کے جسم یا احرام کے جس حصے پر لگیں گے وہاں یہ خوشبو بھی لگ جائے گی تو اس صورت میں اُس پر کچھ لازم تو نہیں ہو گا؟

(السائل : شوکت علی قادری ولد حاجی چاند میاں قادری از کاروانِ اسلامی)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : احرام سے قبل لگی ہوئی خوشبو احرام کے بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ لگ جائے تواُس پر کوئی کفارہ وغیرہ لازم نہیں آئے گا، چنانچہ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

لأَنَّ الحلالَ لو طَیَّبَ عُضواً ثمَّ أحرَمَ فانتقَلَ مِنہ إلی آخر فلا شَیئَ علیہ اتفاقاً (54)

یعنی، کیونکہ غیر مُحرِم اگر کسی عضو کو خوشبو لگائے پھر احرام باندھ لے اُس کے بعد وہ خوشبو اُس عُضو سے دوسرے عُضو کی طرف منتقل ہو جائے تو بالاتفاق اُس پر کچھ نہیں ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأحد، 12 ذو الحجۃ 1429ھ، 29 نوفمبر 2008 م 485-F

حوالہ جات

54۔ ردّ المحتار علی الدّرّ المختار، کتاب الحجّ، باب الجنایات، تحت قولہ : إن طیّب عضوًّا، 3/653

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button