ARTICLES

احرام حج سے باہرانے والے محصرپرعمرہ لازم ہونے کی علت

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محصرقربانی بھیج کرجب حج کے احرام سے باہرہوجائے تواس پرحج اورعمرہ کی قضاء لازم ہے ،تواس کی کیاوجہ ہے کہ اس پرحج کے ساتھ عمرہ بھی لازم ہے ؟ (سائل : مولانا طاہرعبدالرحیم)

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں حج کے ساتھ عمرہ اس لئے لازم ہے کہ حج کے احرام والے پر ابتداءًحج کرنالازم ہوتاہے اورعاجزہونے کے وقت اسے عمرہ لازم ہوتاہے ،لہذا جب وہ ان دونوں کوادا نہ کرے گا،تواسی سال حج نہ کرنے کی صورت میں اس پردونوں لازم ہوں گے ۔چنانچہ علامہ سیدمحمدامین ابن عابدین شامی حنفی متوفی1252ھ لکھتے ہیں : ان المحرم بالحج يلزمه الحج ابتداءً،وعند العجزتلزمه العمرة،فاذا لم يات بهما يلزمه قضاؤهما كما لو احرم بهما كما في جامع قاضي خان.اما لو حج منه لم يجب معها عمرة؛لانه لا يكون كفائت الحج.فتح.وايضًا انما تجب عمرة مع الحج اذا حل بالذبح.اما اذا حل بافعال العمرة فلا عمرة عليه في القضاء.شرح اللباب۔( ) یعنی،بے شک حج کے احرام والے پرابتداءحج کرنالازم ہوتاہے اور عاجز ہونے کے وقت اسے عمرہ کرنالازم ہوتاہے پس جب وہ ان دونوں کونہیں کرے گا تواسے ان دونوں کوقضاءکرنالازم ہوگاجیسے اگرکسی نے ان دونوں کااحرام باندھا ہو، جیساکہ’’جامع قاضی خان‘‘میں ہے ،بہرحال اگراسی سال اس نے حج کرلیاتوحج کے ساتھ عمرہ واجب نہیں ہوا،کیونکہ وہ حج کوفوت کرنے والے کی طرح نہیں ہوگا’’فتح القدیر‘‘اورحج کے ساتھ عمرہ بھی واجب ہوگاجبکہ وہ ذبح کے ذریعے احرام سے باہرنکلاہو،بہرحال جب وہ افعال عمرہ کے ذریعے احرام سے نکلا ہو،تواس پر قضاءمیں عمرہ لازم نہیں ہوگا’’شرح لباب‘‘ ( )۔ واللہ تعالیٰ اعلم ہفتہ،15رمضان1441ھ۔9مئی2020م

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

یہ بھی پڑھیں:
Close
Back to top button