شرعی سوالات

اجیر کو طے شدہ اجرت سے کم دینا ناجائز ہے اور متولی نے اجرت مثل سے زیادہ مقرر کر دی تو وہ ضامن ہو گا

سوال:

زید ایک وقف کے مال سے چلنے والے ادارے میں اجیر ہے ، جہاں ہر سال اجارہ ہوتا ہے ۔ قمری سال 1430 ھ کا اجارہ اس سال کے آٹھ ماہ اور اگلے سال کے مزید چار ماہ ملا کر بارہ ماہ کا کیا اور زبانی و تحریری محفوظ کر لیا گیا ۔اجارہ میں جو اجرت مقر ر ہوئی ، وہ ادارے نے نہیں دی ، بلکہ اس سے کم رقم دی ۔ کیا زبانی مقرر کی ہوئی رقم ادارے سے لینے کا حق رکھتا ہے اور ادارے نے جو رقم مقر ر کی وہ نہ دی تو کیا حکم ہے؟ اگر ادارہ زید کی مقرر کی ہوئی رقم دینے سے انکار کرے اور کہے یہ وقف کا مال ہے ، ہم سے غلطی سے تحریری اور زبانی طور پر اجارہ ہو گیا تواب کیا حکم ہے؟ اگر ادارہ زید کو مقر رقم دینے کے بجائے اجارہ فسخ کرنا چاہے تو کیا حکم ہے؟

جواب:

صورت مسئولہ میں مذکورہ وقف ادارے کے ذمہ داران کو چاہیے کہ اجارہ کے وقت جو اجرت طے کی ،مہینے کے اختتام پر اجیر کو طے شدہ پوری رقم دیں ، جو اجیر کا حق ہے اور اسے لینے کا حق رکھتا ہے ۔اجیر کو اس کی اجرت نہ دینے پر حدیث پاک میں وعید آئی ہے۔

فریقین پر لازم ہے کہ عقد اجارہ کی پابندی کریں ، ظاہر ہے کہ مستاجر نے اجارہ وقف کے متولی یا اس کے نمائندہ  مجاز ہی کی حیثیت میں کیا ہو گا نہ کہ شخصی اور ذاتی حیثیت میں ۔اگر وقف کے متولی کا گمان یہ ہے کہ اس نے اجیر کی اجرت ،اجرت مثلی سے زیادہ مقرر کی ہے ،تو اس کا بار متولی کی ذات پر آئے گا اور یہ بار اسے اپنے ذمے لینا پڑے گا،

لیکن جہاں تک امامت و خطابت اور تدریس کے شعبے سے وابستہ اشخاص کا تعلق ہے ،اس میں ہر فرد کی اپنی اپنی صلاحیت و قابلیت ہوتی ہے،  سب کو ایک ترازو سے نہیں تولا جا سکتا ، لہذا ہر ایک کے ساتھ جو اجرت طے پائے گی ،وہ اس کا حق دار ہو گا اور مستاجر کی طرف سے اس میں کمی کرنا عہد شکنی ہو گی ۔ مذکورہ  صورت میں ذمہ داران پر تاوان لا زم ہے اور کسی ایک فریق کو تنہا فسخ اجارہ کا حق حاصل نہیں ۔

(تفہیم المسائل، جلد6،صفحہ 403،ضیا القرآن پبلی کیشنز، لاہور)

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button