شرعی سوالات

اجارہ فسخ ہو جانے کی وجہ سابقہ تسلیم نفس کی اجرت ساقط نہیں ہو گی

سوال:

زید ایک مدرسے میں درس نظامی پڑھاتا رہا  مدرسہ کا قانون یہ ہے کہ جو اساتذہ  شروع سال یعنی کہ شوال المکرم سے تدریس کا آغاز کر دیتے ہیں جب شعبان المعظم اور رمضان المبارک کے مہینے کی سالانہ تعطیلات ہوتی ہیں تو ان کو ایک اضافی تنخواہ اور دو ماہ کی ایڈوانس تنخواہ دی جاتی ہے ۔ رجب المرجب کے مہینے میں مدرسے کے ایک استاد ( جو کہ مدرسے میں بڑا سمجھا جا تا تھا ) کے ساتھ اختلافات ہو گئے ۔انتطامیہ کی طرف سے کسی قسم کا نوٹس نہیں دیا گیا چنانچہ زید نے استعفیٰ نہیں دیا اور نہ ہی انتظامیہ نے اس کو فارغ کیا البتہ جب رجب کے مہینے کی تنخواہیں دی گئیں تو دیگر تمام اسا تذہ کو دو تنخواہیں ایڈوانس اور ایک تنخواہ بونس کے طور پر دی گئی ان میں وہ اساتذہ بھی شامل تھے جن کی تاریخ تقرر وہی ہے جو زید کی ہے۔ لیکن زید کو بونس اور ایڈوانس تو دور کی بات ہے رجب کی بھی تنخواہ پوری نہ دی گئی بلکہ پورے سال کی جتنی چھٹیاں تھیں ان کی کٹوتی بھی اس رجب کی تنخواہ سے کر کے چند سورو پے جو ماہ رجب کی تنخواہ کے باقی بچے وہ زید کو دے کر ٹرخا دیا گیا۔ نہ تو اضافی تنخواہ دی گئی اور نہ ہی دو ماہ کی ایڈوانس تنخواہ دی گئی ۔ جس کی وجہ سے اگلے سال سے زید اس مدرسے میں پڑھانے نہیں گیا ۔ اس معاملہ کو تقریباً تین سال کا عرصہ گزرنے کو ہے ۔ اب اس مدرسہ کی انتظامیہ بدل چکی ہے ۔ زید کا سوال یہ ہے کہ انتظامیہ نے اس کی ایک اضافی تنخواہ اور دو ماہ کی تنخواہ جو ابھی تک زید کو نہیں دی آ یا زید اس کا مستحق ہے یا نہیں؟ اور اگر مستحق ہے تو آ یا موجودہ انتظامیہ پر یہ ادائیگی لازم ہے یا نہیں؟ اور اگر موجودہ انتظامیہ بھی زید کو ادائیگی نہیں کرتی تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور اگر سابقہ انتظامیہ کے معاملات کی یہ انتظامیہ ذمہ دار نہیں تو پھر تنخواہوں میں جو اضافہ کر کے ادا کر چکی ہے اس کا تاوان کس کے ذمہ ہو گا ؟ ملخصاً

جواب:

 صورت مسئولہ میں بر تقدیر صدق سائل سب سے پہلے جانا چاہیے کہ ایام تعطیل کی تنخواہ کو علما  نے تنخواہ کا حصہ اور مدرس کا حق قرار دیا ہے ۔ ایام تعطیل کی تنخواہ مشاہرہ کا حصہ ہے اور تنخواہ کی طرح اس کی ادائیگی بھی لازم ہے ۔ جہاں تک اس رقم کا تعلق ہے جس کو بونس یا اضافی تنخواہ کہا جا تا ہے اس کے احوال مختلف ہیں ۔ بنیادی طور پر یہ رقم فضل و احسان اور تبرعات و ہبات سے تعلق رکھتی ہے کہ ملازمین اور مدرسین کو ان کی حسن کارکردگی اور خدمت و محنت پر بہ طور فضل و عطیہ پیش کی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو شرعاً نہ اس کی ادائیگی واجب قرار پاتی ہے اور نہ عدم ادا کی صورت میں ملازم یا مدرس کو مطالبہ کا حق ٹھہرتا ہے لیکن بعض مقامات پر اس کی حیثیت قانونی اور معاہداتی ہوتی ہے کہ باضابطہ شرائط ملازمت میں اس کا اندراج اور تعین ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں بونس کی اس رقم کا شمار بھی تنخواہ کی اس رقم میں ہو گا جو بہ طور اجرت مدرس یا ملازم کو دی جاتی ہے ۔ زیر بحث سوال میں سائل نے اس رقم کے دئیے جانے کو مدرسہ مذکورہ کا قانون قرار دیا ہے اس سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ ( مدرسہ مذکورہ میں تعطیلات کی تنخواہ کے ساتھ ساتھ بونس کی رقم بھی مدرسین کی تنخواہ کا حصہ ہے۔

اس تمہیدی گفتگو کے بعد اصل سوال کا جواب یہ ہے کہ زید مدرسہ مذکورہ میں اجیر خاص تھا اور اجیر خاص کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے معین وقت میں تسلیم نفس یعنی جائے کار پر کام کے لیے حاضر رہنے کا پابند ہوتا ہے پھر اگر چہ اس کا کام انجام نہ پا سکے وہ بہ ہر حال اجرت کا مستحق ہوتا ہے۔

(انوار الفتاوی، صفحہ449،فرید بک سٹال لاہور)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button