شرعی سوالات

اجارہ سے متعلقہ اشیاء اجیر کے پاس امانت ہیں۔ ان میں ذاتی تصرف ، غدر اور خیانت ہے

سوال:

زید میونسپلٹی میں ملازم ہے اور اس کے سپرد یہ کام ہے کہ بھینسے جو میونسپلٹی کی جانب سے غلیظ و کوڑا وغیرہ اٹھوانے کو پالے گئے ہیں ان کی نگرانی ،کھانے،پینے کا انتطام کرے۔زیدکو میونسپلٹی سے بھوسہ دانہ وغیرہ ملتا ہے ۔ان چیزوں میں سے زید اپنے صرفہ میں و نیز اپنے اعزہ کے صرفہ میں بھی لاتا ہے ۔اس کا خیال ہے کہ یہ کافر حربی کامال ہے اور بلاغدر ملتا ہے لہذا میں اپنےصرفہ میں کیوں نہ لاؤں۔اس صورت میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟میونسپلٹی کی چیزیں گورنمنٹ کی سمجھی جائیں گی یا نہیں :ملخصا

جواب:

زید چونکہ میونسپلٹی کا ملازم ہے اور میونسپلٹی کے جانوروں کی خوراک وغیرہ کا انتظام اس کے سپرد ہے لہذا زید کو ہرگز یہ جائز نہیں کہ ان چیزوں میں خود تصرف کرے یا اپنے اعزہ کو کھلائے کہ ملازم کے پاس جو چیزیں کسی کام کے لیے دی جائیں وہ امانت ہوتی ہیں اور ان کے غیر میں صرف کرنا خیانت ہے اور امانت میں خیانت حرام ہے۔کوئی معاہد ہ کر کے اس کے خلاف کرنا بھی منافق کی علامت ہے ۔اس کا یہ خیال  کہ یہ مال بلاغدر ملتا ہے غلط خیال ہے ۔یہ کھلا ہوا غدر موجود ہے کہ جب اس نے ملازمت کی تو تمام امور کا جو اس ملازمت سے متعلق ہیں عہد کرلیا اور جو کام شرائط ملازمت کے خلاف کرے گا غدر ہوجائے گا۔غدر کے معنی عہد توڑنے کے ہیں اور بلاشبہ اس نے عہد توڑا پھر غدر کیوں نہ ہوا اور اگر فرض بھی کیاجائے کہ اس نے کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے لہذا غدر نہیں ہے تو امانت میں خیانت تو اب بھی ہے اور خیانت بھی غدر ہے لہذا کافر حربی نے اگر اس کے پاس کوئی امانت رکھی ہو تو اس میں بھی خیانت نہیں کرسکتا ۔بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ میونسپلٹی کی چیزیں گورنمنٹ کی ہیں چونکہ اس مد کی آمدنی کو گورنمنٹ نے رفاہ عام میں خرچ کرنے کے واسطے طے کرلیا ہے لہذا اس میں خرچ کرتی ہے اور اس کا انتظام ہندوستانیوں کے سپرد کردیا ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ گورنمنٹ کو اس سے تعلق نہیں۔

(فتاوی امجدیہ، کتاب الاجارۃ ،جلد3،صفحہ 279تا280،مطبوعہ  مکتبہ رضویہ،کراچی)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button