ARTICLES

اب زمزم کو کھڑے ہو کر پینا کیسا؟

الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اب زمزم کو کھڑے ہوکر پینا شرعا کیسا ہے ؟حالانکہ ایک حدیث شریف سے کھڑے ہوکر پینے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے ؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ـ ۔صورت مسؤلہ میں کھڑے ہوکر اب زمزم پینا حضور نبی علیہ الصلوۃ و السلام کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے مبارک عمل سے ثابت ہے اور جس حدیث شریف سے کھڑے ہوکر پینے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ و السلام پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکرپانی پینے سے منع فرمایاتو حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے کھانے کے بارے میں عرض کیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ زیادہ برا ہے ۔(128) اوراس حدیث شریف میں مطلق طور پر کھڑے ہوکر پینے سے منع فرمایاگیا ہے لہٰذاکسی کے ذہن میں یہ بات اسکتی ہے کہ پھراب زمزم کو بھی بیٹھ کر پیا جائے کیونکہ ’’اصول فقہ ‘‘کا قاعدہ یہ ہے کہ’’ مطلق اپنے اطلاق پر جاری ہوتاہے ‘‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اب زمزم کو کھڑے ہوکر پینا دوسری احادیث سے ثابت ہے ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے : عن الشعبی، ان ابن عباسٍ رضی اللہ عنہما حدثہ قال : سقیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من زمزم، فشرب وہو قائم۔ یعنی،حضرت امام شعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں (یعنی امام شعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے )بیان کیاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم میں سے پلایاپس حضورعلیہ السلام نے اسے حالت قیام میں پیا۔ اس حدیث پاک کوامام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری متوفی256ھ نے ’’صحیح بخاری‘‘(129)میں ، امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری نیساپوری متوفی261ھ نے ’’صحیح مسلم‘‘(130) میں ، اور حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی 852ھ ’’الدرایۃ فیما جاء فی ماء زمزم من الروایۃ‘‘(131)میں نقل فرمایا۔ اسی لئے فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ زمزم شریف کھڑے ہوکر پیا جائے ۔ چنانچہ علامہ علاء الدین سمرقندی
متوفی539/540ھ لکھتے ہیں : ثم یاتی زمزم ویشرب من مائھاقائما۔(132) پھر وہ (چشمہ)زمزم پر ائے اور اس کاپانی کھڑے ہوکر پئے ۔ اورعلامہ علاء الدین کاسانی حنفی متوفی 539ھ نے ’’تحفہ‘‘کی شرح میں اسے برقرار رکھا ہے ، اس پر کسی قسم کا کوئی کلام نہیں فرمایا۔ اس سے ظاہرہے کہ ان کے نزدیک بھی یہی ہے کہ زم زم شریف کھڑے ہوکر پیا جائے ۔(133) اسی طرح فقہ حنفی کی دیگر کتب میں بھی مذکور ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب یوم
الجمعۃ،13،ذوالحجۃ1439ھ۔24اغسطس2018م FU-33

حوالہ جات

(128) صحیح مسلم ،کتاب الاشربۃ،باب کراہیۃالشرب قائما،برقم :
2024،3/1600،وفیہ : عن قتادۃ، عن انسٍ،عن النبی علیہ الصلوۃ و السلام صلی اللہ علیہ وسلم، انہ نہی ان یشرب الرجل قائمًا، قال قتادۃ : فقلنا فالاکل، فقال : ذاک اشر او اخبث)

(129) صحیح بخاری،کتاب الحج،باب ماجاء فی زمزم، برقم : 1637، 1/403

(130) صحیح مسلم،کتاب الاشربۃ،باب فی الشرب من زمزم قائما،برقم : 2027،3/1601

(131) الدرایۃ فیما جاء فی ماء زمزم من الروایۃ،القسم الاول سیاق الاحادیث الصحیحۃ فی الباب،الحدیث الثالث،ص : 21

(132) تحفۃ الفقہاء،کتاب المناسک،باب الاحرام ،ص203

(133) بدائع الصنائع،کتاب الحج،باب فصل فی شرائط ارکانہ ،3/150

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button