ARTICLESشرعی سوالات

آفاق سے حج کا احرام باندھنے والے متمتع کے لئے طوافِ قدوم کا حکم

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر ایک حاجی عمرہ کرنے کے بعد مدینہ شریف چلا جائے اور پانچ ذوالحجہ کو وہاں سے مکہ کو حج کا احرام باندھ کر لوٹے تو اس کا حج حجِ اِفراد ہو گا یا حجِ تمتّع جب کہ اس کا گھر پاکستان میں ہے ، نیز حجِ تمتع ہونے کی صورت میں اس پر طوافِ قدوم لازم ہو گا یا نہیں ؟

(السائل : حافظ محمد عامر، فتانی حج گروپ، مکہ مکرمہ)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں مذکور حاجی کا حج حجِ تمتّع واقع ہو گا کیونکہ اپنے شہر سے آنے کے بعد عمرہ ادا کر کے وہ مدینہ شریف گیا اپنے گھر کو نہ لوٹا لہٰذا لمام صحیح نہ پایا گیا اور یہ تمتع کی شرائط میں سے ایک شرط ہے ، چنانچہ صدر الشریعہ محمد امجد علی متوفی 1367ھ تمتع کے شرائط میں لکھتے ہیں : (6) المام صحیح نہ کیا ہو، المام صحیح کے معنی یہ ہیں کہ عمرہ کے بعد، احرام کھول کر اپنے وطن کو واپس جائے اور وطن سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ رہتا ہے ، پیدائش کا مقام اگرچہ دوسری جگہ ہو لہٰذا اگر عمرہ کرنے کے بعد وطن گیا پھر واپس آ کر حج کیا تو تمتع نہ ہوا ۔ (82) اور مُلّا علی قاری حنفی متوفی 1014ھ لکھتے ہیں :

و تصریحہم بأنّ من شرائط التّمتّع مطلقاً أن لا یلمّ بأھلہ بینہما إلماماً صحیحاً (83)

یعنی، فقہاء کرام کی تصریح ہے کہ مطلقاً تمتع کی شرائط سے ہے کہ وہ اس نے عمرہ اور حج کے مابین اپنے اہل سے المام صحیح نہ کیا ہو۔ لہٰذا مذکور شخص جب مدینہ شریف سے صرف حج کا احرام باندھ کر آئے گا اور یہاں آ کر حج کرے گا تو متمتع ہی رہے گا کیونکہ عمرہ تو وہ حج کے مہینوں میں ادا کر چکا اور مدینہ طیبہ جانے پر المام صحیح نہ پائے جانے کی وجہ سے اس کا تمتع باطل نہ ہوا۔ اور فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ متمتع پر طوافِ قُدوم نہیں ہے چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن عبداللہ سندھی حنفی لکھتے ہیں :

و لیس علیہ (أی علی المتمتع) طواف القدوم

یعنی، متمتع پر طوافِ قُدوم نہیں ہے ۔ اس کے تحت مُلّا علی قاری لکھتے ہیں :

أی بالإتفاق کما صرّح بہ الکرمانی و غیرہ

یعنی، جیسا کہ (علامہ ابو منصور) کرمانی (حنفی) (84)وغیرہ نے اس کی تصریح کی ہے کہ بالاتفاق مُتمتّع پر طوافِ قُدوم نہیں ہے ۔(85) اور متمتع پر طوافِ قُدوم نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ عمرہ کرنے کے بعد جب مکہ میں ٹھہرا تو اہلِ مکہ میں سے ہو گیا اور اہلِ مکہ جب حج کریں تو اُن پر طوافِ قدوم نہیں چنانچہ مُلّا علی قاری لکھتے ہیں :

و المراد قبل الإحرام بالحج أو مطلقاً لأنہ صار من أھل مکۃ حینئذٍ، و لیس علیہم طواف القدوم فی حجتہم إلا أنہم إذا أرادوا أن یقدموا السعی، فلا بد أن یطوفوا و لو نفلاً لیصح سعیہم بعدہ (86)

یعنی، مراد یہ ہے کہ حج کا احرام باندھنے سے قبل یا مطلقاً (اس پر طوافِ قُدوم نہیں ) کیونکہ وہ اس وقت اہلِ مکہ میں سے ہو گیا اور اُن پر اُن کے حج میں طوافِ قُدوم نہیں مگر یہ کہ وہ حج کی سعی کرنے کا ارادہ کریں تو ضروری ہے کہ وہ طواف کریں اگرچہ نفلی طواف کریں تاکہ اس کے بعد اُن کی سعی درست ہو جائے ۔ اور فقہاء کرام کا یہ کہنا کہ مکی پر طوافِ قُدوم نہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ مُتمتّع مکی کے ساتھ لاحق ہے کیونکہ مُتمتّع من وجہٍ حکماًآفاقی ہے چنانچہ مُلّا علی قاری لکھتے ہیں :

و أما قولہم المکّی لیس علیہ طواف القدوم، فلیس المعنی أن المتمتّع ملحق بہ حیث أن یحرم من حیث أحرم المکی بہ إذا المتمتّع فی حکم الآفاقی من وجہ (82)

یعنی، فقہاء کرام کا قول کہ مکی پر طوافِ قُدوم نہیں تو اس کا یہ معنی نہیں کہ مُتمتّع مکی کے ساتھ ملحق ہے کہ وہ وہیں سے احرام باندھے جہاں سے مکی نے باندھا کیونکہ متمتّع من وجہٍ آفاقی کے حکم میں ہے ۔ اور متمتّع ہر نُسک (یعنی حج و عمرہ) میں مسافر کے حکم میں ہوتا ہے اسی وجہ سے جب وہ قارن کی طرح آفاق سے حج کا احرام باندھ کر آئے گا اس پر طوافِ قدوم لازم ہو گا، چنانچہ مُلّا علی قاری لکھتے ہیں :

و لہٰذا قالوا فی تعریفہ إنہ الجامع بین نسکین بسفرٍ واحدٍ، و إذا کان فی حکم المسافر فی کل نسک یلزمہ طواف القدوم فی حجہ کالقارن (83)

یعنی، اسی وجہ سے مُتمتّع کی تعریف میں کہا کہ وہ دو نُسک کو ایک سفر میں جمع کرنے والا ہے جب وہ ہر نُسک میں مسافر کے حکم میں ہے تو اُسے اپنے حج میں طوافِ قدوم لازم ہو گاجیساکہ قارن۔ اور جس کے حج کا احرام آفاق سے ہو اس کے لئے طوافِ قُدوم مسنون ہوتا ہے ، جیسا کہ آفاقی حج افراد یا قران کرے اور جب مکی حجِ افراد کا مکہ سے احرام باندھتا ہے تو اس پر طوافِ قُدوم نہیں ہوتا اور پھر مندرجہ بالا عبارات میں اس مُتمتّع کے لئے طوافِ قُدوم کو ثابت کیا گیا جو مکہ سے احرام باندھے اور اس میں اس کے من وجہٍ مسافر کے حکم میں ہونے کا اعتبار کیا گیا ہے تو وہ مُتمتّع جو عمرہ کے بعد آفاق چلا جائے اور بغیر المام صحیح کئے صرف حج کا احرام باندھ کر آئے تو اس کے حق میں طوافِ قُدوم بطریقِ اَولیٰ ثابت ہو گا۔لہٰذا نتیجہ یہ نکلاکہ صورت مسؤلہ میں مُتمتّع طوافِ قُدوم بھی کرے گا۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت،28ذی القعدہ 1428ھ، 8دیسمبر 2007 م (New 05-F)

حوالہ جات

82۔ بہار شریعت، حج کابیان، تمتع کا بیان، تمتع کے شرائط، 1/1158

83۔ المسلک المتقسّط فی المنسک المتوسّط، باب التّمتّع، فصل فی تمتّع المکی، ص401

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button