ARTICLES

آفاقی کا عمرہ کے بعد مدینہ طیبہ سے قران کی نیت کرنا

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اِس مسئلہ میں کہ علماء کرام سے جب یہ پوچھا گیا کہ ایک حاجی جو فرض حج ادا کر چکا ہے کراچی سے ایام مناسکِ حج سے کئی روز پہلے آیا اور اس نے عمرہ کا احرام کراچی سے باندھا اور یہاں آ کر عمرہ ادا کر کے احرام عمرہ کھول دیا پھر اگر وہ میقات سے باہر مثلاً مدینہ منورہ جاتا ہے اور وہاں سے حج و عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھ کر آ جائے تو اُس کے لئے جائز ہے کہ وہ اِس طرح کرے اور اُس کا حج حجِ قِران ہو جائے گا یا نہیں تو بعض نے فرمایا کہ اس کا حج حجِ قران ہو گا اور بعض دیگر نے فرمایا کہ قِران درست نہ ہو گا کیونکہ وہ تمتع کے ارادے سے آیا۔

(السائل : محمد یٰسین، حال مکہ مکرمہ )

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : صورت مسؤلہ میں پہلا قول درست ہے کہ اُسے میقات سے باہر جانے کی صورت میں وہاں عمرہ و حج کا ایک ساتھ احرام باندھ کر آنا جائز ہے اور اس صورت میں اُس کا قران بھی درست ہو گا۔ کیونکہ جب وہ اَشْہُرِ حج میں کراچی سے صرف عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ آیا تھا اور وہ مکہ مکرمہ آ کر عمرہ ادا کر کے احرام سے فارغ ہو گیا تو اس پر لازم نہیں ہوا کہ وہ اُسی سال حج بھی کرے کیونکہ وہ اپنے ساتھ جانور نہیں لایا کہ اُس پر حج تک احرام میں رہنا لازم ہو چنانچہ صدر الشریعہ محمد امجد علی متوفی 1367ھ لکھتے ہیں : تمتع کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لایا، دوسری یہ کہ نہ لائے جو جانور نہ لایا وہ میقات سے عمرہ کا احرام باندھے مکہ معظمہ میں آ کر طواف و سعی کرے اور سر مونڈائے اب عمرہ سے فارغ ہو گیا اور طواف شروع کرتے ہی یعنی سنگِ اسود کو بوسہ دیتے وقت لبیک ختم کر دے اب مکہ میں بغیر احرام کے رہے ۔ اور جانور لانے والے کے لئے لکھتے ہیں : اب مکہ معظمہ پہنچ کر عمرہ سے فارغ ہو کر بھی مُحرِم رہے جب تک قربانی نہ کرے ، اُسے سر مونڈوانا جائز نہیں جب تک قربانی نہ کر لے ورنہ دم لازم آئے گا پھر وہ تمام افعال کرے جو اُس کے لئے بتائے گئے کہ جانور نہ لایا تھا، اور دسویں تاریخ کو رمی کر کے سر مونڈوائے ، اب دونوں احرام سے ایک ساتھ فارغ ہو گیا۔ اور لکھتے ہیں : اور جانور لایا تو بہر حال قارن کی مثل ہے ۔ (79) لہٰذا ثابت ہوا کہ جانور نہ لانے کی صورت میں اُس کے لئے حج کرنا لازم نہ ہوا، اسی لئے مذکور آفاقی اگر اَشْہُرِ حج میں عمرہ کرنے کے بعد وطن لوٹ جائے تو اُسے یہ بھی روا ہے ، اور اس آفاقی کا حج حجِ تمتع تب ہو گا جب وہ اَشْہُرِ حج میں عمرہ کرنے کے بعد المام صحیح (80)کے بغیر اسی سال حج کرے گا اور یہ صحتِ تمتع کی شرط ہے یعنی تمتع کے صحیح ہونے کی شرط ہے اگر یہ شرط پائی گئی تو تمتع صحیح ہو گا ورنہ نہیں جیسا کہ ’’حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب ‘‘ (81) میں ہے اور اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اگر المام صحیح نہ پایا گیا تو اُسے تمتع لازم ہو گیا اِس کا مطلب تو یہ ہے کہ المام صحیح نہ پانے کی صورت میں اُس کا تمتع صحیح ہو جائے گا تبھی تو قرآن کریم میں یہ ارشاد ہوا :

{ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ}(82)

ترجمہ : جس نے عمرہ سے حج کی طرف تمتع کیا اُس پر قربانی ہے ۔ اور فرمایا کہ

{ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} (83)

ترجمہ : یہ اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو۔ او رجب تک وہ عمرہ کے بعد حج کا احرام نہیں باندھتا تو اُس کا تمتع نہ ہوا، کیا معلوم کہ وہ عمرہ کے بعد اُس سال حج ہی نہ کرے یا عمرہ کے بعد المام صحیح کرے ۔ چنانچہ صدرالشریعہ مفتی محمدامجد علی متوفی1367ھ لکھتے ہیں : المام صحیح کے معنی ہیں کہ عمرہ کے بعد احرام کھول کر اپنے وطن واپس جائے اور وطن سے مراد وہ جگہ ہے جہاں وہ رہتا ہے پیدائش کا مقام اگرچہ دوسری جگہ ہو۔ (84) پھر اُسی سال صرف حج کا احرام باندھ کر آئے اور حج کرے تو اس کا حج حجِ افراد ہو گا، چنانچہ صدر الشریعہ محمد امجد علی لکھتے ہیں : لہٰذا اگر عمرہ کرنے کے بعد وطن گیا پھر واپس آ کر حج کیا تو تمتع نہ ہوا۔(85) اور اُس کا تمتع تب ہو گا جب وہ میقاتی عمرہ کے بعد اُس سال حج کا بھی احرام باندھے چنانچہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : تمتع اُسے کہتے ہیں کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرے پھر اُسی سال حج کا احرام باندھے ۔ (86) لہٰذا ثابت ہو گیا کہ جب اس کے حج کا تمتع ہونا متعین نہیں ہوا ، تو اُسے جائز ہے کہ وہ عمرہ کے بعد حجِ قِران کرے اور اگر یہ کہا جائے کہ جب وہ شخص کراچی سے عمرہ کا احرام باندھ کر آیا تھا اور اُس کا اُسی سال حج کا بھی ارادہ تھا لہٰذا اُسی سال اگر وہ حج کرتا تو بہر صورت اُس کا حج حجِ تمتع ہی ہو گا تو اِس کا جواب یہ ہے کہ اُس کا یہ ارادہ معتبر نہیں اور اِس ارادے کی وجہ سے اُس پر اِس سال حج کرنا لازم نہیں ہوا، اگر یہ ارادہ معتبر ہوتا تو اُس پر اِسی سال حج لازم ہو جاتا حالانکہ ایسا نہیں ہے (87)، اور پھر اُس کا اُسی سال حج ضروری نہیں کہ تمتع ہی واقع ہو کیونکہ اگر اُس سے اَشْہُرِ حج میں عمرہ سے فراغت کے بعد حج کے مابین’’ المام صحیح ‘‘پایا جاتا ہے تواُس کا حج حجِ افراد ہوتا ، اگر صرف اُس کے ارادے سے اُس سال حج لازم ہو جاتا تو اُسے صرف عمرہ کر کے جانا اور اُس سال حج ترک کرنا جائز نہ ہوتا اور اگر اُس کے اِس ارادے سے تمتع متعین ہو جاتا تو اُس کے لئے اُس سال حجِ افراد جائز نہ ہوتا اور حجِ افراد کر کے تمتع کو توڑنے کی صورت میں اُس پر کچھ لازم آتا حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے اور جس نے اَشْہُرِ حج میں صرف عمرہ کا احرام باندھا اور عمرہ ادا کیا اب وہ اُسی سال کسی بھی صورت میں قران نہیں کر سکتا، یہ کہیں بھی مذکورنہیں ۔ اور پھر کچھ لوگ اس مسئلہ میں ’’المام ‘‘کی بحث کرتے ہیں اُن کے لئے عرض یہ ہے کہ ’’المام‘‘ کی دو قسمیں ہیں ایک ’’المام صحیح ‘‘جیسے متمتع اَشْہُرِ حج میں عمرہ ادا کر کے اپنے اہل کو لوٹے تو اُس کا یہ ’’المام‘‘ صحیح ہے اب اگر وہ اُسی سال صرف حج کا احرام باندھ کر آتا ہے اور حج کرتا ہے تو اُس کا حج تمتع نہیں ہو گا۔ اور دوسرا ہے ’’المام‘‘ فاسد جیسے قارن وہ اگر اَشْہُرِ حج میں عمرہ کر کے اپنے اہل کو لوٹ جائے اور اُسی سال آ کر حج بھی کرے تو اُس کا یہ المام فاسد ہے جو قران کو باطل نہیں کرتا(88) اسی لئے فقہاء کرام نے تصریح کی کہ صحتِ قِران کے لے عدم المام شرط نہیں ہے جیسا کہ علامہ رحمت اللہ بن عبداللہ سندھی حنفی کے ’’لباب‘‘ میں یہی کلمات ہیں اور مُلّا علی قاری حنفی مصنِّفِ لُباب کی مناسک پر دوسری کتاب(89) سے نقل کرتے ہیں :

اعلم أن إلمام الصحیح المبطل للحکم لا یتصوّر فی حق القارن(90)

یعنی، جاننا چاہئے کہ المام صحیح جو حکم کو باطل کرنے والا ہے وہ قارن کے حق میں متصوّر نہیں ہے ۔ اور لکھتے ہیں :

اعتبر إلمام القارن لما صحّ قران المکی الخارج إلی الآفاق (91)

یعنی، اگر قارن کے اِلمام کا اعتبار کیا جاتا تو آفاق کو جانے والے مکی کا قِران درست نہ ہوتا (حالانکہ ایسے مکی کا قِران درست ہے )۔ لہٰذا قِران کے بارے میں اُن کا المام کی بحث کرنا بے فائدہ ہے ۔ احقر نے حج کے لئے آنے سے قبل برادرم مولانا محمد عرفان صاحب ضیائی کی طرف سے دئیے گئے مسائلِ حج کے جوابات تحریر کرنے میں فقہ حنفی کی جو کُتُب میسر آ سکیں سب کے کتاب الحج اور بالخصوص مناسکِ حج پر لکھی ہوئی کُتُب کی ورق گردانی کی اور مجھے مذکورہ صورت میں قِران کے عدم جواز کا کوئی قول نظر نہیں آیا اگر کسی کی نظر میں ایسا کوئی قول ہو تو پیش کرے فقیر بسر و چشم قبول کرنے اور اپنے اس فتویٰ سے رجوع کے لے ہمہ وقت تیار ہے کیونکہ و الحقُّ أحقُّ أن یُتَّبعَ۔ کُتُبِ مناسک میں صورت مذکورہ میں حجِ قران کے جواز کا قول مذکور ہے ۔ چنانچہ علامہ رحمت اللہ سندھی حنفی ’’لباب
المناسک‘‘(92) اور اس کی شرح میں مُلّا قاری حنفی متوفی 1014ھ(93) لکھتے ہیں :

السادس أن یکون آفاقیاً و لو حکماً فلا قران للمکّی)أی الحقیقی (إلا إذا خرج إلی الآفاق قبل أشھر الحج، قیل : و لو فیھا فیصح منہ القران لصیرورتہ آفاقیاً حکماً أی کما أنہ لا یجوز القران للآفاقی إذا دخل مکۃ وصار من أھلھا حکماً ہذا، و فیہ أن اشتراط الآفاق إنما ہو للقران المسنون لا لصحۃ عقد الحجّ و العمرۃ

یعنی، چھٹی شرط یہ ہے کہ وہ قارن آفاقی ہو ، اگرچہ حکماً (آفاقی ہو) پس مکی یعنی حقیقی (مکی) کے لئے قران نہیں مگر جب وہ (مکی حقیقی) حج کے مہینوں سے قبل آفاق کی جانب (یعنی میقات سے باہر) نکلا (اور عمرہ و حج کا احرام باندھ کر آیا تو اس کا قِران صحیح ہے )، کہا گیا کہ اگرچہ (مکی حقیقی) حج کے مہینوں میں نکلا تو اُس کا قِران صحیح ہے ، اس لئے کہ وہ حکماً آفاقی ہو گیا یعنی جیسا کہ قِران آفاقی کے لئے جائز نہیں جب وہ مکہ میں داخل ہو گیا (اور میقات سے باہر نہ گیا)۔ اور اس میں آفاق کی شرط قِران مسنون کے لئے ہے نہ عقد حج و عمرہ کی صحت کے لئے ۔ مندرجہ بالا عبارت سے واضح ہے قِران مسنون کے لئے آفاقی ہونا شرط ہے پھر آفاقی چاہے حقیقی ہو یا حکمی اور مکی اگر اَشْہُرِ حج سے قبل میقات سے باہر چلا جائے وہاں سے عمرہ، حج کا احرام باندھ کر آ جائے تو اس کا قِران بھی درست ہو جاتا ہے اور اگر مکی حقیقی اَشْہُرِ حج میں نکلا اور قِران کا احرام باندھ کر آیا تو ایک قول کے مطابق وہ بھی قارن ہو جائے گا، چنانچہ علامہ رحمت اللہ بن عبداللہ سندھی حنفی اسی باب کی دوسری فصل میں لکھتے ہیں :

فیصح من مکی خرج إلی الآفاق(94)

یعنی، جو مکی آفاق کو نکلا اس سے قِران صحیح ہے ۔ اور اس کے تحت مُلّا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :

أی یصحُّ القرانُ من مکّیٍّ خرَجَ إلی الآفاق، ثم رجع إلی مکۃ فقَرَنَ و طافَ لعُمرتِہ فی الأشْہُرِ ثم حجَّ من عامہ، فإنَّہ مع کونہ ألمَّ بأہلہ صحّ قرانُہُ لکونِہِ مُحرماً (95)

یعنی، مکی آفاق کو نکلا پھر مکہ کو لوٹا اور اس نے قِران کیا (یعنی آفاق سے عمرہ و حج کا ایک ساتھ احرام باندھا) اور اَشْہُرِ حج میں عمرہ کا طواف کیا پھر اسی سال (اسی احرام سے ) حج کیا، پس اس کے لئے اپنے اہل کے ساتھ ملنے کے باوجود مُحرِم ہونے کی وجہ اس کا قِران درست ہوا۔ اور امام اہلسنّت امام احمد رضا متوفی 1340ھ علامہ علاؤ الدین حصکفی اور علامہ شامی کی عبارت قولہ : ’’ہو أفضلُ أی : مِن التَّمتُّع و کذا مِن الإفراد‘‘ (یعنی قران تمتّع سے افضل ہے اسی طرح حج افراد سے ) کے تحت لکھتے ہیں :

أقول و باللّٰہ التوفیق : المحرم إمّا یأتی فی عام واحدٍ بنُسکٍ واحدٍ أو بنُسُکَین ، علی الأَوّل منفردٌ بالحجِّ إِن حجَّ و بالعمرۃ إن اعتمَرَ،علی الثانی إمّا أن یحرمَ بہما معاً أو بکلٍّ علی حدۃٍ علی الأوّل قارنٌ مطلقاً علی ما فی ’’المحیط‘‘ ،و استھظرَہُ القاریُٔ فی ’’شرحِ اللُّباب‘‘ و بشرط أن یقع أکثرَ طواف العمرۃ فی أشہُر الحجِّ علی ما فی ’’اللُّباب‘‘ و قال المحقّق علی الإطلاق (إنَّہ الحقّ)، و علی الثَّانی إمّا أن یقدّمَ إحرامَ العُمرۃِ أو الحجّ، فی الوجہ الأوّل إن أحرمَ بالحجِّ قبل أن یطوفَ للعُمرۃِ أربعۃَ أشواطٍ، فقارنٌ مطلقاً إلخ (96)

یعنی، میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کہتا ہوں کہ مُحرِم ایک سال میں ایک نُسک (یعنی حج یا عمرہ)کے ساتھ آئے گا یا دو نُسک(یعنی حج و عمرہ) کے ساتھ، پہلی صورت پر اگر حج کرے گا تو منفرد بالحج اور اگر عمرہ کرے تو منفرد بالعمرہ کہلائے گا، دوسری صورت میں وہ اُن دونوں (حج و عمرہ) کا احرام ایک ساتھ باندھے گا یا علیحدہ علیحدہ ، پہلی صورت میں مطلق قارن کہلائے گا جیسا کہ محیط (یعنی محیط البرہانی) (97)میں ہے اور مُلّاعلی قاری نے ’’شر ح اللباب‘‘(98) میں اِس کو ظاہر فرمایا ہے اور ’’لباب‘‘ (99)میں اس شرط کے ساتھ (قارن قرار پائے گا) کہ عمرہ کے طواف کا اکثری حصہ حج کے مہینوں میں ہونا چاہئے اور محقّق علی الاطلاق (علامہ ابن ہمام)(100) نے فرمایا : بے شک یہی حق ہے ، اور دوسری صورت میں یا تو وہ عمرہ کے احرام کو مقدّم کرے گا یا حج کے احرام کو ، پہلی صورت میں اگر اُس نے عمرہ کے طواف کے چار چکر سے پہلے اُس نے حج کا احرام باندھا تو وہ مطلقاً قران قرار پائے گا۔ الخ اس عبارت میں بھی قِران کے لئے مذکور ہے کہ قارن عمرہ و حج دونوں کے احرام کے ساتھ میقات سے آئے یا کسی ایک کے احرام سے آنے یعنی حج یا عمرہ کے احرام کے ساتھ آئے اگر عمرہ کے احرام کے ساتھ آیا اس کے چار چکر پورے کرنے سے قبل اُس نے حج کی نیت کر لی تو بھی قارن ہو جائے گا اور صورت مسؤلہ میں بھی حاجی جب میقات سے حج و عمرہ دونوں کے احرام سے آیا تو وہ مطلقاً قارن ہو گیا اور آفاقی کے حق میں قران کے لئے یہ شرط کہیں مذکور نہیں ہے کہ اس نے اَشْہُرِ حج میں اگر عمرہ کر لیا ہو گا تو اب وہ کسی صورت میں قارن نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ میقات سے حج و عمرہ کا احرام باندھ کر آ جائے یا ایسے شخص کے لئے یہ شرط بھی کہیں مذکور نہیں کہ اُسے قِران کے لئے وطن واپس جانا ضروری ہے ورنہ قِران نہیں ہو گا، علاوہ ازیں حجِ قران کی تعریف اور اُس کی شرائط پر غور کیاجائے تو کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صورت مذکورہ میں قران درست نہ ہو گا۔ جیسا کہ علامہ ابو الحسن احمد بن محمد قدوری حنفی متوفی428ھ قِران کے بارے میں لکھتے ہیں :

و صفۃُ القِرانِ أَنْ یُہِلَّ بالعُمرۃِ و الحجِّ مِن المیقاتِ معاً (101)

یعنی، قِران کی تعریف یہ ہے کہ وہ میقات سے عمرہ اور حج کا ایک ساتھ احرام باندھے ۔ مفتئی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ متوفی 1413ھ فرماتے ہیں : 1۔ الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے کے بارے میں کہ جو حجاج کرام حج سے پہلے مکہ مکرمہ سے عمرہ کر کے مدینہ طیبّہ چلے جاتے ہیں ، جب وہ حج کے لئے مکّہ واپس ہوں گے تو کیا ان کے لئے دوبارہ عمرہ کرنا ضروری ہے کہ نہیں ؟ اور اگر حج و عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھ لیں تو قارن کے حکم میں داخل ہو جائیں گییا نہیں ؟ الجواب : ایسے لوگ مکہ مکرمہ میں بغیر احرام کے داخل نہیں ہو سکتے ، لہٰذا حج و عمرہ کا احرام باندھ لیں تو قارن ہو جائیں گے ۔ (102) ایک اور سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : 2۔ الاستفتاء : کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرح متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید حجِ ’’قِران‘‘ کرنا چاہتا تھا مگر حکومتِ پاکستان نے اُسے حج سے پہلے مدینہ طیّبہ بھیج دیا، اب زید مدینہ طیّبہ سے حجِ قران کا احرام باندھ سکتا ہے یا نہیں ؟ نیز حُدودِ حرم سے نکل کر حجِ قِران کا احرام باندھا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ الجواب : صورتِ مسؤلہ زید مدینہ منورہ سے حجِ قِران (جب عمرہ اور حج ایک ہی احرام سے کیا جائے تو اسے حجِ قران کہتے ہیں ) کا احرام باندھ سکتا ہے ، میقات کے اندر رہنے والوں کے لئے قِران جائز نہیں ، اسی طرح میقات سے باہر والا جب حرم پہنچا اور عمرہ کر لیا اور میقات سے باہر نہ گیا تو قِران نہیں کر سکتاہے ۔ (103) حضرت کے الفاظ ’’میقات سے باہر والا جب حرم پہنچااور عمرہ کرلیا اور میقات سے باہر نہ گیا (104)تو قران نہیں کرسکتا‘‘سے واضح ہے کہ اگر وہ میقات سے باہر چلا گیا تو قران کرسکتاہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت، 3ذوالحجۃ 1427ھ، 23دیسمبر 2006 م (314-F)

حوالہ جات

79۔ بہارِ شریعت، حج کابیان، تمتع کابیان، تمتع کے شرائط، 1/1159۔1160

80۔ المام صحیح کی تعریف چند سطروں کے بعد مذکور ہے ۔

81۔ حیاۃ القلوب فی زیارت المحبوب، باب اول دربیان احرام، فصل سیوم، دربیان انواع احرام ، مسئلہ ،ص68، لوفظہ تمتع عبارت است از جمع کردن الخ

82۔ البقرۃ : 2/196 83۔ البقرۃ : 2/196

84۔ بہارِ شریعت، حج کابیان، تمتع کابیان، تمتع کے شرائط، 1/1158

85۔ بہارِ شریعت، حج کابیان، تمتع کابیان، تمتع کے شرائط، 1/1158

86۔ بہارِ شریعت، حج کابیان، تمتع کابیان، تمتع کے شرائط، 1/1157

87۔ شمس الائمہ سرخسی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے حج کے مہینوں میں عمرہ کااحرام باندھا اور ساتھ حج تمتع کے لئے جانور لایا پھراُس کے لئے ظاہر ہوا کہ وہ احرام کھول دے اور اپنے جانور کو ذبح کردے اور اپنے اہل کو لوٹ جائے اور حج نہ کرے تواُس کے لئے جائز ہے کیونکہ صرف حج احرام باندھنے سے قبل صرف حج کی نیت کرلینے سے اُس پراسی سال حج کی ادائیگی لازم نہ ہوئی۔(المسبوط للسرخسی ، باب الجمع بین الاحرامین، 2/4/169)

88۔ اسی طرح متمتع جواپنے ساتھ ہدی لایا اور وہ عمرہ ادا کرکے وطن گیا ،اُس نے اُسی سال آکر حج کیا تو یہ’’المام‘‘ فاسد ہے جو تمتع کو باطل نہیں کرتااس لئے کہ ہدی لانے والا متمتع عمرہ کے بعد احرام نہیں کھول سکتاہے اس لئے ظاہر ہے کہ وہ حالتِ احرام میں ہی وطن لوٹا جیساکہ قارن کے حالتِ احرام میں ہونے کی وجہ سے اس کا ’’المام‘‘ صحیح نہ ہوا، اسی طرح اِس متمتع کا بھی ’’المام‘‘ صحیح نہ ہوگا۔

89۔ جمع المناسک، باب القران، ھل : لا شترط فی صحۃ القران الخ، ص 310

90۔ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب القران، فصل : أی فیما لا یشترط فیہ، تحت قولہ : ومن مکی حرج الی الآفاق، ص364

91۔ المسلک المتقسط الی المنسک المتوسط، باب القران، فصل : أی فیما لا یشترط فیہ، ص365

92۔ لباب المناسک، باب القران، فصل فی شرائط صحۃ القران، ص173

93۔ المسلک المتقسط الی المنسک المتوسط، باب القران، فصل فی شرائط صحۃ القران، مع قولہ : السادس أن یکون الخ، ص364

94۔ ملخصاً لباب المناسک، باب القران، فصل : أی فیما لا یشترط فیہ، ص173

96۔ جدّ الممتار علی رد المحتار، کتاب الحج، باب القران، برقم : 2145، تحت قولہ : ھو أفضل أی من التمتّع إلخ، 3/315

97۔ المحیط البرھانی، کتاب المناسک، الفصل التاسع فی القارن، 3/456

98۔ المسلک المتقسط الی المنسک المتوسط، باب القران، فصل فی شرائط صحۃ القران، تحت قولہ : الخامس أن یطوف الخ، 363

99۔ لباب المناسک، باب القران، فصل فی شرائط صحۃ القران،ص173

100۔ فتح القدیر، کتاب الحج، باب القران، تحت قولہ : 2/432

101۔ مختصر القدوری فی الفقہ الحنفی، کتاب الحج، باب القران، ص70

102۔ وقار الفتاوی ، کتاب المناسک، مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ واپسی، 2/444۔445

103۔ وقار الفتاوی ، کتاب المناسک، حج قران کرنے والے کے لئے حکم، 2/449۔450

104۔ حضرت مفتیٔ اعظم پاکستان علیہ الرحمہ نے اس شخص کے لئے میقات سے باہر جانالازم قرار دیا ہے اپنے وطن لوٹنا لازم قرا ر نہیں دیا۔

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button