ARTICLES

آفاقی اشْہُرِ حج میں عمرہ کرنے کے بعد میقات سے باہر جا کر اُسی سال حج کرے تو کونسا حج ہو گا؟

استفتاء : ۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی آفاقی نے عمرہ اَشْہُرِ حج میں کر لیا اب وہ مدینہ طیبہ چلا گیا پھر اُسی سال اُس نے حج کیا ،تو جو حج اُس نے کیا وہ حجِ تمتع ہو گیا یا حجِ افراد ہو گا؟

جواب

باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب : ایسے شخص کا حج، حجِ تمتع درست ہو گا۔کیونکہ تمتع کہتے ہیں عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد حج کرنے کو بشرطیکہ عمرہ کا وقوع اَشْہُرِ حج میں ہو اور دونوں عبادات حقیقۃً یا حکماً ایک ہی سفر میں پائی جائیں ، چنانچہ مخدوم محمد ہاشم بن عبدالغفور ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174 ھ لکھتے ہیں :

و اماّ تمتع پس عبارت ست از اتیان بحج بعد فراغ از عمرہ و بشرط وقوع ہر دو عبادات در اَشْہُرِ حج و در سفر واحد حقیقۃً یا حکماً (68)

یعنی، مگر تمتع پس وہ عبارت ہے حج ادا کرنے کے بعد از فراغِ عمرہ اور اِس شرط کے ساتھ کہ دو عبادتوں میں سے ہر ایک کا وقوع اَشْہُرِ حج میں اور حقیقۃً یا حکماً ایک سفر میں ہو۔ اور مذکورہ شخص نے بھی عمرہ اَشْہُرِ حج میں کیا پھر حج کا احرام باندھا اور اُس نے دونوں عبادتیں ایک ہی سفر میں ادا کیں اور اُس نے عمرہ وحج کے مابین اپنے اہل کی طرف رجوع صحیح نہ کیا اگرچہ یہ مدینہ طیبہ عمرہ کا احرام کھولنے کے بعد گیا مگر وہاں اُس کا اہل نہ تھا اِس لئے اُس کا سفر باقی رہا۔فقہاء کرام نے ایسی صورت کے لئے لکھا ہے کہ کوفہ کا رہنے والا اَشْہُرِ حج میں عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دے پھر وہ بصرہ وغیرہ چلا جائے حج کے دنوں میں وہاں سے حج کا احرام باندھ کر آئے تو متمتع ہو گا(69)۔ چنانچہ علامہ ابو البرکات عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی حنفی متوفی 710ھ لکھتے ہیں :

ولو اعتمر کوفی فیہا و أقام بمکۃ أو ببصرۃ و حجّ صحّ تمتعہ (70)

یعنی، اگر کوفی نے اشْہُرِ حج میں عمرہ اداکیا اورمکہ یا بصرہ میں ٹھہرگیا اور حج(وہاں سے ) کر لیا تو اُس کا تمتع صحیح ہو گیا۔ اور علامہ مظفرالدین احمد بن علی ابن السّاعاتی حنفی متوفی 694ھ لکھتے ہیں :

و لو اعتمر کوفی و حلّ و خرج إلی البصرۃ و عاد فحجّ من عامہ فہو متمتع (71)

یعنی، اگر کوفہ کے رہنے والے نے عمرہ کیا اور اعمالِ عمرہ سے فارغ ہو کر اُس نے احرام کھول دیا اور وہ بصرہ چلا گیا اور مکہ لوٹا پھر اُسی سال اُس نے حج کیا تو وہ متمتع ہے ۔ اور علامہ علاؤ الدین حصکفی متوفی 1088 ھ لکھتے ہیں :

کوفی أی آفاقیٌّ حلَّ من عُمرتِہِ فیہا أی : الأشہُرِ وسکَنَ بمکَّۃَ أی : داخلَ الموقیت

اس کے تحت علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

قولہ : ’’أی : دخل المیقات‘‘ أشار إلی أَنَّ ذِکْرَ مَکَّۃَ غیرُ قیدٍ، بل المرادُ ہی أو ما فی حکمہا

علامہ حصکفی مزید لکھتے ہیں :

أو بصرۃَ أی غیرِ بلدِہِ وحَجَّ من عامِہِ متمتع لبقائِ سَفَرِہِ(72)

اِس کے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں :

قولہ : ’’أی فی غیر بلدہ‘‘، أفاد أَنَّ المرادَ مکانٌ لا أہل لہ فیہ، سوائٌ اتَّحَذَ دارًا بأن نَوَی الإقامۃَ فیہ خمسۃ عشر یوماً أولا، کما فی ’’البدائع‘‘ و غیرہا (73)

یعنی، آفاقی نے اَشْہُرِ حج میں عمرہ ادا کر کے احرام کھول دیا اور مکہ میں یعنی میقات کے اندر ٹھہرا (اِس کے تحت علامہ شامی نے لکھا) مصنّف کا قول ’’داخل المیقات‘‘ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مکہ قید کے طور پر ذکر نہیں کیا گیا بلکہ اِس سے مراد مکہ ہے اور وہ جو مکہ کے حکم میں ہے ۔ (صاحبِ دُر لکھتے ہیں ) یا بصرہ میں یعنی اپنے شہر کے علاوہ کسی شہر میں ٹھہرا (اس کے تحت علامہ شامی لکھتے ہیں ) اِس سے مستفاد یہ ہے کہ کسی ایسی جگہ میں ٹھہرا جہاں اُس کے اہل و عیال نہ ہوں ، چاہے اُسے گھر بنایااِس طرح کہ وہاں پندرہ دن رہنے کی نیت کی یا نہ کی جیساکہ ’’بدائع‘‘(74)وغیرہا (صاحبِ دُر لکھتے ہیں ) اور اس نے اسی سال حج کیا تو وہ متمتع ہے اُس کا سفر باقی رہنے کی وجہ سے ۔ اور علامہ محمد طاہر سنبل مکی حنفی لکھتے ہیں :

وہو صریح فی أن من وصل من المدینۃ مثلاً و أحرم بعمرۃ فی أشھر الحج و حلّ منہا ثم طلع إلی الطائف لزیارۃ الحبر رضی اللہ عنہ، أوللتنزہ ثم أحرم بحج منہ أنہ لا شی علیہ سوی دم التمتع ثم رأیت عبارۃ ’’غایۃ البیان‘‘ صریحۃ فی ذلک و ہذا معنی قول الکنز و لو اعتمر کوفی فیہا و أقام بمکۃ أو بصرۃ و حجّ صح تمتعہ و تمامہ فی شروحہ (75)

یعنی، یہ اس میں صریح ہے کہ مثلاً کوئی شخص مدینہ منوّرہ سے (مکہ) پہنچا اور اَشْہُرِحج میں عمرہ کا احرام باندھا اور عمرہ ادا کر کے احرام کھول دیا پھر بڑے عالم کی زیارت یاباغ اور سبزہ کی سیر (یا خوشی میں شرکت) کے لئے طائف گیا پھر وہاں سے اُس نے حج کا احرام باندھا تو اُس پر کچھ نہیں سوائے دمِ تمتُّع کے ۔ پھر میں نے اس میں ’’غایۃ البیان‘‘(76) کی صریح عبارت دیکھی۔ اور یہ ’’کنز الدقائق‘‘(77) کے اِس قول کے معنی ہیں ، ’’اگر اَشْہُرِ حج میں عمرہ کیا اور مکہ یا بصرہ میں ٹھہرا اور (اُسی سال) حج کیا تو دونوں کا تمتع صحیح ہوا‘‘اور اس کا تمام ’’کنز‘‘ کی شروح (78) میں ہے ۔

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم الأربعاء، 29شوال المکرم 1427 ھ، 22نوفمبر 2006 م (219-F)

حوالہ جات

68۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب أول دربیان احرام ، فصل سیوم دربیان أنواع احرام،ص65

69۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ سے لوگوں نے پوچھا کہ ہم نے حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کیا پھر ہم روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کوچلے گئے پھر ہم نے حج کیا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم لوگ متمتّع ہو۔(المسبوط للسرخسی ، کتاب المناسک، باب القران ،2/3/29)أیضا(تبیین الحقائق،کتاب الحج، باب المتمتع، تحت قولہ : وأقام بمکۃ الخ، 2/349)

اس میں سوال کرنے والے آفاقی تھے اور مدینہ طیبہ میں اُن کا اہل نہ تھا وہ عمر ہ کے بعد میقات سے نکلے واپس آکر حج کیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تمہار احج تمتع ہوا۔

70۔ کنزالدقائق، کتاب الحج، باب التَّمتُّع، ص235

71۔ مجمع البحرین وملتقی النیّرین، کتاب الحج، فصل فی التَّمتُّع، ص239

72۔ الدرُّرُّ المختار، کتاب الحج، باب التّمتُّع، مع قول التنویر : کوفیٌّ حل من عمرتہ، ص166

73۔ رَدُّ المحتار، کتاب الحج، باب التَّمتُّع، مع قول التنویر : کوفی حل من عمرتہ الخ، 3/649

74۔ بدائع الصنائع، کتاب الحج، فصل : وأما بیان ما یحرم بہ، 3/176

75۔ فتاویٰ العلامۃ محمد طاہر سنبل المکی علی ھامش قرّۃ العَین بفتاوی علمائِ الحرمَین، کتاب الحج، ص32

76۔ غایۃ البیان، کتاب الحج، باب التّمتع، 229/ب

77۔ کنزالدقائق، کتاب الحج، باب التمتع، ص235

78۔ جیساکہ ’’تبین الحقائق ‘‘(کتاب الحج ، باب التمتع ، تحت قولہ : وأقام بمکۃ الخ، 2/349)اور ’’بحرالرائق‘‘( کتاب الحج، باب التمتع، تحت قولہ : ولو اعتمرکوفی الخ، 2/647)وغیرہا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button