ARTICLESشرعی سوالات

آبِ زمزم کس نیت سے پیا جائے ؟

استفتاء : ۔کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ آبِ زم زم پیتے وقت کیا دعا مانگنی چاہئے اور آب زم زم کس نیت سے پینا چاہئے ؟

(السائل : ریحان بن ابو بکر)

جواب

باسمہ تعالی وتقدس الجواب : حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی انے آبِ زم زم کے بارے میں ارشاد فرمایا :

’’إِنَّہَا مُبَارَکَۃٌ وَ إِنَّہَا طَعَامُ طُعْمٍ وَ شِفَائُ سُقْمٍ‘‘(188)

یعنی، ’’یہ (آب زم زم) برکت والا ہے اور یہ بھوکے کے لئے کھانا اور بیمار کے لئے شفا ہے ‘‘۔ اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی ’’صحیح‘‘ کے فضائل الصحابۃ میں روایت کیا ہے ۔ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا :

’’مَائُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لہ(189)

یعنی، ’’آب زم زم اس مقصد کے لئے ہے جس مقصد کے لئے پیا گیا‘‘۔ مندرجہ بالا سطور میں مذکور احادیث سے واضح ہے کہ آبِ زم زم جس مقصد کے لئے پیا جائے وہ مقصد حاصل ہوتا ہے کھانا سمجھ کر پیا جائے تو بھوک مٹائے گا، امراض کے علاج سمجھ کر پیا جائے تو شفاء حاصل ہو گی۔ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی حنفی متوفی 1174ھ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : اگر پیاس بجھانے کے لئے پیا جائے تو پیاس بجھائے اگر بیماری سے شفاء کے لئے پیئے تو شفا حاصل ہو ۔ (190) اور امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی 676ھ لکھتے ہیں :

و قد شرب جماعۃ من العلماء ماء زمزم لمطلب لہم جلیلۃ فنالوہا (191)

یعنی، علماء کرام کی ایک بڑی جماعت نے آبِ زم زم کو اپنے اہم مطالب اور بڑے مقاصد کی بر آوری کے لئے پیا تو وہ مطالب و مقاصد انہیں حاصل ہو گئے ۔ اور علامہ حسین بن محمد سعید عبدالغنی لکھتے ہیں ، ہمارے شیخ قاضی القضاۃ عسقلانی شافعی فرماتے ہیں :

و لا یحصی کم شربہ من الأئمۃ لأمور نالوہ

یعنی، شمار نہیں کیا جا سکتا کہ کتنے ائمہ نے آبِ زم زم کئی اُمو رکے حصول کے لئے پیا تو انہوں نے پا لئے ۔ اور لکھتے ہیں :

و عن جماعۃ من العلماء أنہم شربوہ لمقاصد فحصلت (192)

یعنی، علماء کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ انہوں نے کئی مقاصد کے لئے آبِ زم زم پیا پس وہ مقاصد انہیں حاصل ہو گئے ۔ اس لئے عام آدمی کو چاہئے کہ آب زم زم گناہوں کی بخشش اور امراض کی شفا کی غرض سے پئے اور اگر کوئی خاص مرض ہو تو خصوصی طور پر اس کی نیت کرے ، کسی بُری عادت میں مبتلا ہے تو اس کو چھوڑنے کی نیت کرے ، قرآن کریم یاد نہیں ہوتا یا رہتا تو اس کی نیت کرے ، کند ذہن ہے یا کم فہم ہے تو ان سے نجات کی نیت کرے ، علم دین کے حصول کی نیت کرے ، اور زبان سے کہنا ضروری نہیں جس ارادے سے پیئے گا حاصل ہو گا اگرچہ زبان سے کہنا افضل ہے ، چنانچہ امام نووی شافعی لکھتے ہیں :

فیستحب لمن أراد الشرب للمغفرۃ أو الشّفاء من مرض و نحوہ أن یستقبل القبلۃ ثم یذکر اسم اللہ تعالیٰ ثم یقول : أَللّٰہُمَّ إِنَّہٗ بَلَغَنِیْ أَنَّ رَسُوْلَکَ ﷺ قَالَ : مَائُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَہٗ أَللّٰہُمَّ وَ إِنِّیْ أَشْرَبْہٗ لِتَغْفِرْلِیْ، أَللّٰہُمَّ فَاغْفِرْلِیْ أَوْ أَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَشْرَبُہٗ مُسْتَشْفِیًا بِہٖ مِنْ مَرَضِیْ أَللّٰہُمَّ فَاشْفِنِیْ و نحو ہذا (193)

یعنی، پس اس شخص کے لئے مستحب ہے جو مغفرت یا مرض وغیرہ سے شفاء کے لئے آبِ زم زم پینا چاہتا ہے کہ قبلہ رُو ہو کر پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے پھر کہے : ’’اے اللہ مجھے یہ حدیث پہنچی کہ تیرے رسول انے فرمایا : آبِ زم زم اس غرض کے لئے ہے کہ جس کے لئے اسے پیا جائے ، اے اللہ! میں اسے پیتا ہوں تاکہ تو مجھے بخش دے ،اے اللہ ! مجھے بخش دے ،یا اے اللہ! میں اسے پیتا ہوں اس کے ذریعے اپنے مرض سے شفاء چاہتے ہوئے ، اے اللہ! پس تو مجھے شفا عطا فرما دے ‘‘ اور مثل اس کے (دیگر اغراض کے لئے دیگر کلمات سے دُعا کرے )۔ اور لکھتے ہیں :

وَ یَسحَبُّ أن یتنفّس ثلاثاً وَّ یَتَضلَّع منہ أی یمتلی فإذا فرغ حمد اللہ تعالیٰ (194)

یعنی، مستحب ہے کہ تین سانس میں پیئے اور پیٹ بھر کر پیئے پس جب فارغ ہو تو اللہ تعالیٰ کی حمد کرے ۔ علامہ حسن بن محمد سعید عبدالغنی مکی حنفی لکھتے ہیں :

و کان ابن عباس رضی اللہ عنہما إذا شرب ماء زمزم قال : أَللَّہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَ رِزْقاً وَاسِعاً وَ شِفَائً مِنْ کُلِّ دَائٍ (195)

یعنی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما جب آب زم زم پیتے تو کہتے : اے اللہ! میں تجھ سے نافع علم، وسیع رزق اور ہر مرض سے شفاء کا سوال کرتا ہوں ۔ اور لکھتے ہیں :

و فی فوائد أبی بکر بن المقریٔ من طریق سوید بن سعید المذکور قال : رأیت ابن المبارک دخل زمزم فقال : أللہم إن ابن المؤمل حدّثنی عن ابن الزبیر عن جابر رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ ﷺ قال : ’’مَائُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَہٗ‘‘ فَإِنِّیْ أَشْرَبُہٗ لِعَطْشِیْ یَوْمَ
الْقِیَامَۃِ (196)

یعنی، فوائد ابی بکر بن المُقری میں سوید بن سعید مذکور کے طریق سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن المبارک کودیکھا کہ وہ زمزم (کے کنوئیں میں ) داخل ہوئے ، پس کہا اے اللہ! بے شک ابن المؤمل نے مجھے حدیث بیان کی، ابن الزبیر سے ، انہوں نے روایت کی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا : آبِ زم زم اس کا فائدہ دیتا ہے کہ جس کے لئے پیا جائے ‘‘ پس میں اسے قیامت کے دن اپنی پیاس بجھانے کے لئے پیتا ہوں ۔ اور لکھتے ہیں :

و عن الشافعی رحمۃ اللہ علیہ أنہ شربہ للرمی، فکان یصیب فی عشرۃ تسعۃ، و شربہ الحاکم لحسن التصنیف و لغیر ذلک فکان أحسن أہل عصرہ تصنیفاً و قال شیخنا قاضی القضاۃ شہاب الدین العسقلانی الشافعی : و أنا شربتہ فی بدایۃ طلب الحدیث أن یرزقنی اللہ حالۃ الذہبی فی حفظ الحدیث، ثم حججت بعد مدۃ تقرب من عشرین سنۃ، و أنا أجد من نفسی المزیۃ علی تلک الرتبۃ، فسألت رتبۃ أعلی منہا و أرجو اللہ أن أنال ذلک منہ اھ (197)

یعنی، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ انہوں نے تیر اندازی کے لئے زم زم پیا تو اُن کے دس میں سے نو نشانے اپنے ٹھکانے پر لگے ، اور امام حاکم نے حُسن تصنیف کے لئے پیا تووہ اہل زمانہ میں سب سے اچھے مصنّف ہو گئے اور ہمارے شیخ قاضی القضاۃ شہاب الدین عسقلانی نے فرمایا کہ میں نے طلبِ حدیث کی ابتداء میں اس نیت سے پیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے حفظِ حدیث میں امام ذہبی کی حالت عطا کر دے پھر میں نے تقریباً اس کے بعد بیس سال بعد حج کیا اور میں اپنے آپ میں اس رتبے پر زیادتی پاتا ہوں پس میں اس سے اعلیٰ مرتبے کا سوال کرتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں امید رکھتا ہوں کہ میں اس کو پالوں گا۔ اور لکھتے ہیں :

و العبد الضعیف یرجوا اللہ سبحانہ شربہ للإستقامۃ و الوفاۃ علی حقیقۃ الإسلام معہا اھ من ’’فتح القدیر‘‘ (198)

یعنی، اور بندہ ضعیف اللہ تعالیٰ سے آبِ زم زم کے پینے میں اُمید رکھتا ہے ، استقامت اور اس کے ساتھ حقیقتِ اسلام پر وفات کی 1ھ۔’’ فتح القدیر‘‘ (199)

واللّٰہ تعالی أعلم بالصواب

یوم السبت، ذی الحجۃ 1428ھ، 29دیسمبر 2007 م (New 35-F)

حوالہ جات

188۔ صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أبی ذررضی اللہ عنہ، برقم : 132۔ (7473)، 4/1922، وفیہ : انھا مبارکۃ.انھا طعام طعم

189۔ المسند للامام أحمد، 3/357

أیضاً سنن ابن ماجۃ، کتاب المناسک، باب الشرب من زمزم، برقم : 3062، 3/496۔497، عن جابر رضی اللہ عنہ

أیضاً المستدرک، کتاب المناسک، ماء زمزم لما شرب لہ، برقم : 1782، 2/132

190۔ حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب، باب سیوم دربیان طواف وانواع آن، فصل سیوم در کیفیۃ اداء طواف، ص138

191۔ شرح الایضاح فی مناسک الحج، الباب الخامس فی المقام بمکۃ إلخ، ص441

192۔ إرشاد الساری، باب المتفرقات، فصل ویستحب الاکثار من شرب ماء زمزم، ص698

193۔ شرح الایضاح فی المناسک النووی، ص421

194۔ شرح الایضاح فی المناسک النووی، الباب الخامس فی المقام بمکۃ الخ، ص441

195۔ إرشاد الساری إلی مناسک الملا علی القاری، باب المتفرقات، فصل : و یستحب الإکثار من شرب ماء زمزم، ص697

196۔ إرشاد الساری إلی مناسک الملا علی القاری، باب المتفرقات، فصل : و یستحب الإکثار من….إلخ، تحت قولہ : فانہ لما شرب لہ، ص697

197۔ إرشاد الساری إلی مناسک الملا علی القاری، باب المتفرقات، فصل : و یستحب الإکثار من….إلخ، تحت قولہ : فانہ لما شرب لہ، ص697

198۔ إرشاد الساری إلی مناسک الملا علی القاری، باب المتفرقات، فصل : و یستحب الإکثار من….إلخ، تحت قولہ : فانہ لما شرب لہ، ص698

199۔ فتح القدیر، کتاب الحج، باب الاحرام، فصل : فی فضل ماء زمزم، 2/455

متعلقہ مضامین

Leave a Reply

Back to top button